خلاصہ کلام
Al-Risala, November 2023, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا طریقہ پر امن ڈائلاگ کا طریقہ ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صلح کا طریقہ سب سے بہتر طریقہ ہے (4:128)۔ اسی طرح ایک اور آیت میں آیا ہے کہ اختلاف کے موقع پر باہمی گفت و شنید اور ثالثی (negotiation and mediation) کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے (4:35)۔ حدیث میں آیا ہے کہ دشمن سے مڈبھیڑ کی خواہش نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو (لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7237۔ اسلام کا مقصد ربانی انقلاب لانا ہے۔ لوگوں کو خدا پرستانہ زندگی کی طرف بلانا ہے۔ سماج بنانا ہے جہاں روحانی اور اخلاقی اور انسانی قدروں کا رواج ہو۔ اسلام ایک ایسے ماحول کا داعی ہے جہاں امن اور ٹالرنس اور محبت اور خیر خواہانہ تعلقات کا مزاج لوگوں کے اندر پایا جائے_ جہاں نزاعات کو تشدد کے بغیر حل کیا جائے۔ یہی اسلام کی مطلوب دنیا ہے۔ ایسی دنیا صرف پرامن ڈائلاگ کے ذریعے ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام عقیدے کے اعتبار سے توحید پر قائم ہے اور طریق کار کے اعتبار سے پرامن ڈائلاگ پر۔ یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ اس کے سوا جو طریقہ ہے اس کو اسلام کا طریقہ نہیں کہا جاسکتا (6 جون 2006)۔