Al-Risala · November 2023

30 مارچ 1986

Al-Risala, November 2023, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

مہاراشٹر کے سابق چیف منسٹر مسٹر عبدالرحمن انتولے نے ہماری تمام مطبوعات منگوائی ہیں اور اہتمام کے ساتھ آج کل ان کو پڑھ رہے ہیں۔ اس درمیان میں ان کے داماد مسٹر مشتاق انتولے دوبار بمبئی سے دہلی آئے۔ اور دونوں بار جناب عبدالرحمن انتولے صاحب کی تاکید پر مجھ سے آکر ملے۔ بار 18 فروری 1986 ء کو اور دوسری بار آج 30 مارچ 1986ء کو۔ پہلی بار جب وہ دہلی آئے تھے تو ان کے ساتھ ایک اور صاحب تھے جن کا نام انہوں نے مسٹر سالوی بتایا تھا۔ اس سے یہ واضح نہ تھا کہ وہ ہندو

ہیں یا مسلمان۔ تاہم اپنے عام معمول کے مطابق میں نے ہندو اور مسلمان کی کوئی بات نہ کی بلکہ عام سچائی کی بات کی۔ مسٹر مشتاق انتولے نے بتایا کہ اس سے مسٹر سالوی بہت متاثر ہوئے۔ یہاں سے واپس جانے کے بعد وہ بمبئی میں برابر میرا تذکرہ کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سی مذہبی شخصیتیں دیکھی ہیں، مگر اس قسم کی شخصیت میں نے پہلی بار دیکھی۔ مسٹر سالوی کو اس بات پر سخت تعجب تھا کہ میں نے ملاقات میں کسی قسم کی فرقہ وارانہ بات نہیں کی۔ ان کے نزدیک کوئی مہان روح ہی ایسا کر سکتی ہے کہ ہندو مسلم سے اوپر اٹھ کر سوچے اور اس سے اوپر اٹھ کر بات کرے ۔ میں نے مسٹر مشتاق انتولے سے کہا کہ میرا دل خدا کے فضل سے اس قسم کے بھید بھاؤ سے بالکل خالی ہے۔ میں ہندو اور مسلم کی اصطلاحوں میں نہیں سوچتا بلکہ حق اور ناحق کی اصطلاح میں سوچتا حق اور ناحق دو قوموں کے نام نہیں، بلکہ یہ دو الگ الگ اصول ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اپنی پرائیویٹ مجلسوں میں یا گھر کے اندر بھی ہندوؤں کی برائی نہیں کرتا، جو کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام طریقہ بن چکا ہے۔

ہندو اور مسلم کی اصطلاحوں میں سوچنا قومی اصطلاحوں میں سوچنا ہے۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ حق اور ناحق کی اصطلاح میں سوچا جائے۔

Printed page