Al-Risala · November 2023

31 مارچ 1986

Al-Risala, November 2023, pp. 29–31

By Maulana Wahiduddin Khan

ریاست عمان (Oman) کی ایک تیرہ سالہ شادی شدہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ لندن گئی تو وہاں اس کے خلاف ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ اسلامی شریعت کے مطابق اگرچہ ایسا نکاح غلط نہیں، مگر مغرب کے لوگ کم سنی کے نکاح کو پسماندگی کی علامت اور ایک جاہلانہ رواج سمجھتے ہیں۔ چنانچہ لڑکی کا انگلینڈ میں رہنا مشکل ہو گیا۔ یہاں تک کہ حکومت عمان کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ انگلینڈ کی سماجی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس لڑکی کو واپس بلا لیا جائے ۔

ہندی اخبار نو بھارت ٹائمز نے اس خبر پر اپنے ادارتی کالم میں تبصرہ کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ انگلینڈ کے لوگ کم سنی کے نکاح کو برا سمجھتے ہیں، مگر کم سنی کے جنسی تعلقات کو وہ اس سے زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے یہاں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس نے لکھا ہے کہ پچھلے کئی مہینوں سے ایک

مقدمہ انگلینڈ کی عدالت میں اس سوال پر چل رہا ہے کہ کیا ڈاکٹروں کو یہ اختیار ہے کہ وہ والدین کی اجازت کے بغیر ان نابالغ لڑکیوں کو مانع حمل کی گولیاں دیں۔ ایک بے حد پریشان ماں نے عدالت کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے یہ فریاد کی تھی کہ اپنے بچوں کے چال چلن کی نگرانی کرنا کم از کم اس وقت تک میری ذمہ داری ہے جب تک وہ نابالغ ہیں۔ لیکن اس غم زدہ ماں کی فریاد کو رد کرتے ہوئے عدالت نے فیصلہ دیا کہ 13 سال کی نابالغ لڑکی ڈاکٹر سے مانع حمل کی گولی لے کر اپنے نوجوان آشنا کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر سکتی ہے۔

نو بھارت ٹائمز کے ایڈیٹر نے مذکورہ دونوں واقعات کی تفصیل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اب یہ بتائیے کہ کم سنی کی شادی زیادہ بہتر ہے یا کم سنی کی آوارگی؟

جدید مغربی تہذیب کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ آزادی‘‘ کے نام پر لامحدود جنسی تعلق کی اجازت دیتی ہے، مگر قیدِ نکاح کے ساتھ محدود ازدواجی تعلق بھی اس کو گوارا نہیں۔ 1 اپریل 1986 یہ 15 ستمبر 1975 کا واقعہ ہے۔ روزنامہ الجمعیۃ میں ایک صاحب بطور کلرک کام کرتے تھے، جن کا نام عزیز احمد تھا۔ وہ نگینہ (ضلع بجنور، یوپی) کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے 15 ستمبر کو مجھ سے کہا کہ میری گھڑی گم ہو گئی ہے۔ اچانک میری زبان سے نکلا ان شاء اللہ، آپ کی گھڑی مل وہ میری بات سن کر ہنس دیے۔ انہوں نے کہا مجھے تو یہ بات بالکل ناممکن نظر آتی ہے۔ دو دن بعد انہوں نے بتایا کہ محلہ کا ایک لڑکا ان کی گھڑی لا کر اسلم صاحب کو دے گیا اور کہا کہ یہ مجھے پڑی ہوئی ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ لڑکا کبھی کبھی اسلم صاحب کے گھر پر آتا ہے۔ عزیز صاحب اپنی گھڑی کو کمرہ میں رکھ کر نہانے کے لیے چلے گئے تھے۔ واپس آئے تو گھڑی نہیں تھی۔ وہ لڑکا اتفاق سے عین اسی وقت گھر میں آیا اور عزیز صاحب نے اس کو نکلتے ہوئے دیکھا۔ صاحب کو معلوم ہوا کہ گھڑی گم ہے تو انہوں نے مذکورہ لڑکے سے گھڑی کی بابت دریافت کیا تو اس نے کہا کہ میں گھڑی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ دو دن بعد اس لڑکے نے گھڑی لا کر دے دی۔ میں نے جو بات کہی وہ کسی علم غیب کی بنا پر نہیں کہی تھی۔ بلکہ صرف عزیز صاحب کی پریشانی

کو گھٹانے کے لیے کہی تھی ۔ مگر یہ ایک ہونے والی بات تھی کہ گھڑی دوبارہ انبیس مل گئی۔ بزرگوں کے بارے میں بہت سے اس قسم کے واقعات جو مشہور ہیں ان کی حقیقت بس یہی ایسے واقعات کسی کی کرامت کی وجہ سے نہیں ہوتے، وہ اسی لیے ہوتے ہیں کہ وہ ہونے والے ہی تھے ۔ چنانچہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کی باتیں کبھی صحیح نکلتی ہیں اور کبھی غلط ۔ صرف صحیح ہونے والی باتوں کو لیتے ہیں اور اس کو مزید افسانوی بنا کر مشہور کر دیتے ہیں۔ کرامت کی حقیقت بس اتنی ہی ہے ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

Printed page