Al-Risala · November 2023

2اپریل1986

Al-Risala, November 2023, pp. 31–33

By Maulana Wahiduddin Khan

غالباً 1941ء کی بات ہے۔ اس وقت میں مدرسہ الاصلاح ( سرائے میر ، اعظم گڑھ، یوپی ) میں پڑھتا تھا۔ مدرسہ کے ریڈنگ روم ( (دارالمعلومات) میں جو عربی پرچے آتے تھے ، ان میں قاہرہ کا ایک ماہنامہ تھا ، جس کا نام ”المقتطف‘‘ تھا۔

میرا سالانہ امتحان کا زمانہ تھا۔ میں دارالمعلومات میں حسب معمول گیا۔ وہاں تازہ المقتطف آیا ہوا تھا۔ اس کو دیکھتے ہوئے میں ایک صفحہ پر پہنچا۔ اس صفحہ پر ایک خاص تدبیر درج تھی ، جو قسمت معلوم کرنے سے متعلق تھی۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ آدمی حسب ذیل جملے کو اپنی زبان سے چند آبرا گا دا بیسن کاتن۔

اس کے بعد وہ ایک خاص عمل کرتا ، جس کے نتیجہ میں رسالہ کے مطبوعہ جوابات میں سے کوئی ایک اس کے سامنے آجاتا تھا۔ میں نے اپنے سالانہ امتحان کے بارے میں مقررہ عمل کیا۔ بعد جو جواب آیا وہ اس کے الفاظ میں یہ تھا: ستنجح نجاحاً كبيراً ( تم عنقریب ایک بڑی کامیابی حاصل کرو گے)۔

اس کے بعد سالانہ امتحان ہوا۔ میرے درجہ میں غالباً ہیں سے زیادہ طلبہ تھے۔ میں سب کے مقابلہ میں اول نمبر سے پاس ہوا۔

ایک تو ہم پرست آدمی یہ سمجھ لے گا کہ یہ چند نا قابل فہم الفاظ ( آبرا کا دا بیسن کاتن ) کا کرشمہ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک اتفاقی مطابقت تھی ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

میرے نانا خدا بخش مرحوم پرانے قسم کے زمیندار تھے۔ میں نے ان کو نہیں دیکھا۔ کے ذریعے ان کے بعض قصے سنے ہیں۔

نانا کا ایک قصہ جو والدہ نے بتایا تھا وہ یہ تھا کہ ایک مرتبہ نانا اور ایک شخص کے درمیان جائیداد کا مقدمہ چل رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ تاریخ آ گئی جس دن نانا کا خصوصی بیان عدالت میں ہونا اس روز نانا کی حاضری عدالت میں ضروری تھی۔ فریق ثانی نے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت عین اسی دن صبح سویرے ان کے گھر میں آگ لگا دی، تاکہ وہ گھر کی آگ بجھانے میں مصروف ہو جائیں اور عدالت نہ پہنچ سکیں، جو ان کی بستی سے دور ضلع کے صدر مقام (اعظم گڑھ) میں واقع تھی۔ نانا صبح کو اٹھے تو گھر میں آگ لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے فوراً معاملہ کو سمجھ لیا۔ انہوں نے فریق ثانی کا نام لے کر کہا کہ یہ یقیناً اسی شخص کا کام ہے۔ اس نے یہ آگ اس لیے لگائی ہے کہ میں اس کو بجھانے میں لگ جاؤں اور عدالت میں نہ پہنچ سکوں اور میرا مقدمہ خراب ہو جائے۔ مگر میں اس کے باوجود عدالت میں جاؤں گا۔ چنانچہ وہ اس حال میں بستی سے روانہ ہوئے کہ ان کے پیچھے ان کا گھر جل رہا تھا اور وہ ریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔

میرا حال بھی آج کل کچھ ایسا ہی ہے۔ شیطان نے کچھ لوگوں کو ورغلا کر میرے خلاف ایسی کارروائیاں کرائی ہیں، جس نے میرے ذہن کو آخری حد تک ڈسٹرَب کر دیا ہے، تاکہ میں خدا کے دین کا جو کام کر رہا ہوں وہ نہ کر سکوں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ میرا معاملہ بھی خدا بخش نانا کا معاملہ ثابت اللہ تعالی مجھے ہمت دے گا کہ میں اپنے گھر کو جلتا ہوا چھوڑ کر دین کی طرف بڑھوں اور خدا کے پیغام کی پیغام رسانی کا کام جاری رکھوں۔ ''تذکیر القرآن‘‘ کی تحریر اب آخری مرحلے میں ہے۔ طرح، ان شاء اللہ، سیرت کی کتاب بھی مکمل ہو کر رہے گی۔

آج کے ہندوستان ٹائمس (4 اپریل 1986) میں ایک ہند و کا مفصل مضمون اخبار کے صفحہ 9 پر شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے:

(ہندوستانی مسلمان چورا ہے پر )۔ اس مضمون میں دکھایا گیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوںنے 1947ءسے پہلے اپنی علیحدہ قومیت قائم کرنے میں اپنے مسائل کا حل دریافت کیا تھا۔ مگر پاکستان کے قیام کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ تاہم ابھی تک اپنے سابقہ خول میں پڑے ہوئے ہیں۔

مضمون نگار نے نہایت ہمدردانہ طور پر مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک اور قسم کے علیحدہ تشخص (separate identity) میں اپنے مستقبل کو تلاش کریں۔ اور وہ ہے تخلیقیت مسلمان اس ملک میں ایک تخلیقی اقلیت کا کردار ادا کریں۔ اس نے مزید کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ بہت سی تخلیقی اقلیتیں کسی ملک اور قوم کو نئی زندگی دینے کا واقعہ ثابت ہوئی ہیں۔ مضمون نگار نے کہا کہ میں اسلام کی اعلیٰ تعلیمات اور اس کے فلسفہ مساوات سے متاثر اسلام کی تعلیمات میں اتنی جان ہے کہ مسلمان اس کے بل پر تخلیقی اقلیت بن کر اس ملک میں ابھر سکتے ہیں۔

یہ بلاشبہ ایک نہایت درست بات ہے۔ دوسرے بہت سے ہند و بھی اس قسم کی بات کرتے مگر مسلمان اب تک اس طرزِ فکر کو اپنا نہ سکے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے جھوٹے قومی مسائل میں اتنا زیادہ الجھے ہوئے ہیں کہ وہ اسلام کی تعلیمات کے تخلیقی امکانات کو نہ محسوس کر پاتے اور نہ ان کے اندر یہ جذ بہ ابھرتا ہے کہ وہ ان امکانات کو استعمال کر کے آگے بڑھیں۔ مذکورہ مضمون نگار مسٹر گھوش ہیں۔

Printed page