Al-Risala · November 2023

5 اپریل 1986

Al-Risala, November 2023, pp. 33–37

By Maulana Wahiduddin Khan

آج دکتور عبد المحسن التونکی (جامعۃ الامام، ریاض) اور دوسرے کئی سعودی اہل علم کا وفد ہمارے مرکز میں آیا۔ مرکز کو دیکھ کر وہ بار بار جمیل جمیل“ کہتے رہے۔ مرکز کی خوبصورت عمارت، اس کی صفائی اور ترتیب ہر چیز ان کو دوسرے اسلامی اداروں کے مقابلہ میں نمایاں طور پر بہتر نظر یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں اور الرسالہ کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے۔

ڈاکٹر ترکی نے تعجب خیز لہجہ میں پوچھا کہ اس کام میں آپ کی مدد کون کرتا ہے۔ سنجیدگی سے جواب دیا : " اَلَّذِي عِنْدَهُ خَزَائِنُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ “ (وہی ذات جس کے پاس آسمان و زمین کے خزانے ہیں )۔

وہ مسکرا کر چپ ہو گئے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ ہمارے مرکز سے اس وقت جو کام ہو رہا ہے، وہ ساری مسلم دنیا میں کسی بھی ادارہ سے نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے لوگ تعجب کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ کس کے تعاون سے یہ کام ہو رہا ہے۔ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کام براہ راست خدا کی طرف سے ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر ترکی کی قیادت میں جو سعودی وفد آیا ہے، اس کا دوسرے اسلامی ادارے زبردست استقبال کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے ایک اسلامی ادارہ کے ذمہ داران کے ساتھ ہمارے یہاں بھی میں نے دیکھا کہ وہ ان سے بات کرتے ہوئے بار بار اس قسم کے جملے بولتے ہیں: اكرمكم الله، الله يبارك فيكم مگر مجھے اس قسم کی بات کرنا بالکل نہیں آتا۔ اس کے باوجود دوسروں سے کہیں زیادہ اعلیٰ معیار پر ہمارا کام ہو رہا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد ہے۔ ورنہ میرے اندر مطلق کوئی صلاحیت نہیں۔ 6 اپریل 1986 آج کے ٹائمس آف انڈیا ( 6 اپریل 1986) صفحہ 8 پر ایک خبر کی سرخی یہ ہے: Manusmruti, Shariat Reactionary (منوسمرتی اور شریعت دونوں رجعت پسند) ۔ یہ مسٹر ایس ایم جوشی کے ایک انٹرویو کا خلاصہ وہ 82 سالہ فریڈم فائٹر ہیں اور سوشلسٹ ذہن رکھتے ہیں۔ آج کل وہ پونا میں مقیم ہیں۔ نے ان کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں:

Mr. S. M. Joshi said that the Shariat of the Muslims and the Manusmurti of the Hindus followed by both the communities for centuries were equally and socially reactionary.

مسٹر جوشی نے کہا کہ مسلمانوں کی شریعت اور ہندوؤں کی منوسمرتی جن کی پیروی دونوں فرقے صدیوں سے کر رہے ہیں، وہ مساوی طور پر اور سماجی طور پر رجعت پسند ہیں۔ اخبار کی رپورٹ میں مسٹر جوشی کا صرف اتنا ہی ریمارک نقل کیا گیا ہے۔ مزید تفصیل درج نہیں۔ شریعت کو منوسمرتی کے ساتھ بریکٹ کرنا بلا شبہ غلط ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ منوسمرتی میں واضح طور پر ایسی تعلیمات ہیں جو انسانی برابری کے تصور کے خلاف ہیں۔ جب کہ اسلام میں یقینی طور پر ایسی کوئی تعلیم نہیں۔ اس کے باوجود مسٹر جوشی نے دونوں کو کیوں بریکٹ کیا۔ اس کی نفسیاتی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ اسلامی شریعت کو منوسمرتی کے ساتھ بریکٹ کر کے اپنے احساس کمتری کو ہلکا کرنا چاہتے دوسرے لفظوں میں ان کے اس ریمارک کا مطلب یہ ہے کہ اگر منوسمرتی میں رجعت پسندانہ باتیں ہیں تو اس سے کیا ہوا۔ اس قسم کی رجعت پسندانہ باتیں دوسرے مذاہب میں بھی موجود ہیں۔ 7 اپریل 1986 محمد رضا خاں آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی کے عربک یونٹ میں ٹرانسلیٹر ہیں۔ انہوں نے ندوه سے فراغت کی۔ اس کے بعد عربی لٹریچر میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔ وہ آل انڈیا ریڈیو ہاسٹل (کرزن روڈ) میں ایک سرکاری کوارٹر میں رہتے ہیں۔

اگست 1984ء میں وہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اپنے وطن چلے گئے۔ مگر انہوں نے اس کے لیے کوئی چھٹی نہیں لی اور نہ بعد کو کوئی درخواست بھیجی۔ عرصہ کے بعد وہ واپس آئے اور وہ اپنے آفس گئے تو دوبارہ انہیں کام نہیں ملا۔ اور سکیورٹی آفیسر نے ان کا آئیڈینٹی کارڈ بھی لے لیا۔ کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ کسی قدر دماغی اختلال میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ آل انڈیا ریڈیو کی طرف سے انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ سرکاری ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کرائیں۔ انہوں نے یہ بھی نہیں کیا۔ اس طرح وہ ڈیڑھ سال سے بے کار پڑے ہوئے تھے اور حسب قاعدہ طرح طرح کے مسائل پیش آ رہے تھے۔ آج مجھے ان کی بیوی کا خط ملا جس میں انہوں نے اپنی اور اپنے بچوں کی پریشانی کا ذکر چنانچہ میں آج صبح آل انڈیا ریڈیو ہاسٹل گیا اور محمد رضا خاں صاحب کو لے کر آل انڈیا ریڈیو وہاں ایکسٹرنل سروسز ڈویژن کے ڈائریکٹر مسٹر راماسوامی (C. R. Ramaswamy) سے

وہ نہایت خوش دلی کے ساتھ ملے۔ انہوں نے کوئی شکایت نہیں کی اور فوراً ہی ہم کو ڈپٹی ڈائریکٹر مسزرگمینی (Rugmini) کے پاس بھیجا۔ مسزر گمینی نے بھی کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں کی اور فوراً ایک سپر وائزر کے نام لکھ کر دیا جس میں ہدایت تھی کہ محمد رضا خاں صاحب کو آج سے ڈیوٹی پر لگا میں نے ڈپٹی ڈائریکٹر صاحبہ سے کہا کہ ڈیڑھ سال کی تنخواہ کا کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کا بھی انتظام کریں گے۔

یہ سلوک ایک مسلمان کے ساتھ ایک ایسے ملک میں ہوا جس کو ’’ہند و ملک‘‘ کہا جاتا ہے۔ عجیب ہیں وہ لوگ جو صرف شکایت کرنا جانتے ہیں۔ ان کی زبان کبھی اعتراف کے لیے نہیں کھلتی۔ 8 اپریل 1986 ہمارے مشن کے مخالفین کی مخالفت آج کل زوروں پر ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگوں کی مخالفت میں جتنا اضافہ ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد میں بھی اسی کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ہندوستان کے نیم انگریزی داں یہ پروپیگنڈا کرنے میں مشغول ہیں کہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن غیر معیاری ہے۔ اس کی زبان غلط ہوتی ہے۔ اگر چہ ان حضرات کا حال یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ الرسالہ (انگریزی) میں زبان کی غلطی کی کوئی مثال بتائیے تو وہ مثال بھی نہیں دے پاتے۔ مگر عین اسی وقت الرسالہ (انگریزی) باہر کی دنیا میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کرتا جا رہا افریقہ (نائجیریا) میں مقیم ایک صاحب (خواجہ کلیم الدین، مقیم حال پنسلوانیا، امریکا) چند مہینے سے ہم سے خط و کتابت کر رہے تھے۔ وہ الرسالہ (انگریزی) کا افریقی ایڈیشن نکالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بالفعل یہ کام شروع کر دیا ہے۔ ڈاک سے ہم کو الرسالہ انگریزی کا مارچ 1986ء شمارہ موصول ہوا ہے۔ یہ الرسالہ (انگریزی) کے افریقی ایڈیشن کا پہلا شمارہ ہے۔ اسی طرح اب وہ، ان شاء اللہ، ہر مہینہ نکلتا رہے گا۔ پتہ یہ ہے:

Uniprinter Limited, p.o. box no.2779, Kano, Nigeria نائجیریا میں الرسالہ کو پسند کرنے والوں کا ایک باقاعدہ حلقہ بن گیا ہے۔ اور وہی اس ایڈیشن کو شائع کر رہا ہے۔ افریقہ کے مختلف ملکوں میں اس سے پہلے بھی بڑی تعداد میں الرسالہ جاتا رہا

اب اس میں یہ مزید ترقی ہوئی ہے کہ خود افریقہ میں اس کو reprint کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ اسلامی مرکز کا پیغام بہت وسیع پیمانے پر پھیلنا ممکن ہو سکے گا۔ یہ تمام تر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ورنہ الرسالہ میں اس قسم کی کوئی کوشش نہیں جو کسی چیز کو عوامی مقبولیت عطا کرتی ہے۔

Printed page