Al-Risala · November 2023

9 اپریل 1986

Al-Risala, November 2023, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کے انگریزی اخبار اسٹار (The Star) میں ایک مضمون بابری مسجد (اجودھیا) کے بارے میں چھپا تھا۔ اس کو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (8 اپریل 1986) نے دوبارہ شائع کیا ہے۔

ایک پاکستانی مسلمان نے پاکستانی مسلمانوں کی حالت پر درد مندانہ تبصرہ کیا ہے۔ لکھا ہے کہ بابری مسجد کے مسئلہ پر پاکستانی اخباروں نے سنسنی خیز سرخیاں قائم کیں۔ علماء نے پرشور نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں جوش پیدا ہو گیا۔ انہوں نے جیکب آباد میں ہندوؤں کے خلاف بدلے کی کارروائی شروع کر دی۔

اس نے لکھا ہے کہ اسلام اس زمانے میں نام بن گیا ہے اس کا کہ اسلام کے نام پر کفر کے فتوے دیے جائیں۔ اسلام دشمنوں کو جلا یا پھونکا جائے۔ لوگوں کو کوڑے مارے جائیں۔ کے خلاف لامتناہی لڑائی جاری رکھی جائے۔ مضمون نگار نے اپنا مضمون ان الفاظ پر ختم کیا ہے: Islam was mankind's greatest liberator. It has been converted into an inquisition. p.8 اسلام انسانیت کو آزادی عطا کرنے والا مذہب تھا۔ مگر آج وہ ایک احتسابی عدالت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

آج اسلام کو سیاست اور لیڈری کا عنوان بنا دیا گیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان خود اسلام کو پہنچا ہے۔ لوگوں کو آج اسلام سے نفرت ہو گئی ہے غیر مسلموں کو بھی اور مسلمانوں میں اعلی تعلیم یافتہ طبقے کو بھی۔ اسلام کے یہ نمائندے اگر مخلص نہیں تو بلا شبہ وہ نادان ہیں اور اگر انہیں نادان نہ مانا جائے تو ان کا مخلص ہونا یقینی طور پر مشتبہ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحلیم عویس ریاض کی جامعۃ الامام میں علوم اجتماعی کے پروفیسر ہیں۔ چند دن وہ ہوٹل میں مقیم تھے۔ آج وہ ہمارے یہاں آئے ہیں۔ دو دن ہمارے مرکز میں رہ کر اتوار کو واپس ریاض (2011ء میں ڈاکٹر عبدالحلیم عویس کا انتقال ہو چکا ہے)

وہ نہایت ذہین اور خوش طبع آدمی ہیں۔ میں نے کمرہ کی الماری کھول کر کہا کہ یہاں ہینگر اس میں آپ اپنے کپڑے لٹکا سکتے ہیں۔ انہوں نے ہینگر (شماعہ) پر ایک عربی مثل سنائی: نحن نعلق على شماعة الاستعمار كل اخطائنا یعنی ہم اپنی تمام غلطیوں کو استعمار (colonialism) کے ہینگر پر لٹکاتے ہیں۔ اس عربی مثل میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بلا شبہ صد فیصد درست ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے مسائل زیادہ تراسی غلط ذہن کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو نا کام بنا دیا ہے۔ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں لازماً یہ ہونا ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو دھکیل کر آگے بڑھ جائے۔ دوسری قوم کی شکست پر اپنی فتح کا قلعہ تعمیر کرے۔ یہی تاریخ میں ہمیشہ ہوا ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ یہی ہوتا ہم دنیا کے اس نظام کو بدل نہیں سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اس نظام کو بطور واقعہ مان کر اپنی منصوبہ بندی کریں۔

Printed page