11 اپریل 1986
Al-Risala, November 2023, pp. 38–42
By Maulana Wahiduddin Khan
چارلس شوبھراج (پیدائش 1944ء) ایک بین الاقوامی مجرم ہے۔ وہ دہلی کے تہاڑ جیل سے مارچ 1986ء میں فرار ہو گیا۔ اس کی منصوبہ بندی نہایت مکمل تھی۔ مگر 7 اپریل 1986ء کو بمبئی پولیس نے اس کو پکڑ لیا۔
چارلس شوبھراج اپنے ساتھیوں کا بہت وفادار تھا۔ وہ تہاڑ جیل سے بھاگا تو اپنے ساتھیوں کو بھی ساتھ لے گیا۔ ان میں سے ایک ساتھی اتفاق سے پکڑا گیا۔ اسی ساتھی کے ذریعہ ابتدائی سراغ ملا
جو بالآخر شوبھراج کی گرفتاری تک پہنچا۔ رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے: پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ (شوبھراج کا ساتھی) تیاگی اس وقت کھل گیا جب انہوں نے اس سے کہا کہ انہوں نے شوبھراج کو پکڑ لیا ہے۔ یہ سن کر وہ پھٹ پڑا اور اس نے کہا کہ میں نے اس بیوقوف سے کہا تھا کہ وہ بمبئی نہ آئے۔
چارلس شوبھراج کے ساتھی کو بلف (bluff) دے کر اس طرح پولیس نے معلوم کر لیا کہ شوبھراج بمبئی یا اس کے آس پاس ہے۔ اس کے بعد اس علاقے میں کھوج شروع ہوئی۔ تک کہ وہ ایک ہوٹل میں پکڑ لیا گیا۔
آدمی کتنا ہی زیادہ تیاری کرے، کوئی نہ کوئی گوشہ ایسا رہ ہی جاتا ہے جہاں اس کی تیاری اور اسی گوشہ سے طوفان اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں وہی محفوظ ہے جس کو خدا محفوظ رکھے۔ انسان اپنے آپ کو بچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ 12 اپریل 1986 آج ڈاکٹر عبدالرشید صاحب (حیدرآباد) اور ان کے ایک ساتھی ملنے کے لیے آئے۔ صاحب ریاض (سعودی عرب) میں ڈاکٹر تھے۔ وہ وہاں سے چھوڑ کر ہندوستان آئے ہیں اور حیدر آباد میں اسلامی مرکز کے مشن کے ساتھ جڑ کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرشید صاحب کا ذہن خالص آخرت پسندانہ ہے۔ وہ اس راز کو جان گئے ہیں کہ اصل کام افراد کے اندر اللہ سے تعلق اور آخرت کا فکر پیدا کرنا ہے۔ اگر یہ چیز آجائے تو بقیہ چیزیں اپنے آپ آجائیں گی۔
ایک بار ایک عرب صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی سب سے اونچی کتاب "مذہب اور جدید چیلنج" ہے۔ بقیہ کتابیں اس کے نیچے ہیں۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کہتے ہیں وہ ہمارے مشن کو صرف 50 فیصد سمجھ سکے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرشید صاحب خدا کے فضل سے ان میں انہوں نے اس مشن کو پوری طرح سمجھا ہے۔
لوگ مظاہر کو دیکھتے ہیں اور ان پر محنت کرنے کو کام سمجھ لیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے درخت کی شاخ سوکھی ہوئی نظر آئے تو آدمی اسی شاخ پر پانی ڈالنا شروع کردے۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ شاخوں کو ہرا بھرا کرنے کا راز یہ ہے کہ درخت کی جڑ میں پانی دیا جائے۔ مگر انسانی زندگی کے معاملہ میں لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شاخوں پر پانی ڈالو اور درخت ہرا بھرا ہو جائے گا۔ 13 اپریل 1986 ایک عرب عالم جو جامعۃ الامام (ریاض) میں پروفیسر ہیں۔ اسلامی مرکز میں آئے۔ ہمارے مشن سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے آپ کے اس نقطہ نظر سے اتفاق ہے کہ اسلام کو سیاسی ٹکراؤ اور قومی مطالبات کا اشو نہ بنایا جائے۔ بلکہ اس کو ایک دعوتی قوت کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ اور اس کو عصری اسلوب میں مدلل کر کے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔
موصوف کی پرزور تجویز ہے کہ اسلامی مرکز سے الرسالہ کا عربی ایڈیشن جاری کیا جائے ، تا کہ عالم عربی اسلامی مرکز کے افکار سے واقف ہو سکے۔
دوران گفتگو میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہر آدمی "دعوت" کا لفظ بولتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی کرتا ہے کہ وہ دوسری قوموں سے مسلمانوں کے قومی مطالبات اور مادی نزاعات کی بھی وکالت کر رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسری کی ضد ہیں۔
مسلمانوں کو داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قومی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کریں، تاکہ ان کے بعد دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہو۔ دوسری قوموں کو مادی حریف اور سیاسی رقیب بنانے کے بعد ان کے اوپر دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی دعوت مسلمانوں کے اپنے ذہن میں وجود میں آسکتی ہے، وہ خارجی دنیا میں وجود میں نہیں آسکتی۔ پاکستان میں سیاسی پابندیوں کے زمانہ میں مس بے نظیر بھٹو لندن چلی گئی تھی۔ اب پاکستان میں
سیاسی پارٹیوں کو آزادی دی گئی ہے تو بے نظیر بھٹو دوبارہ پاکستان آگئیں۔ اپریل 1986 میں بے نظیر بھٹو لاہور کے ہوائی اڈہ پر اتری تو لاکھوں انسان استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہندوستان کے چند آدمی جو ان دنوں لاہور میں تھے، انہوں نے واپس آ کر مجھے دہلی میں بتایا کہ ہم بے نظیر بھٹو کے اجتماع میں تو شریک نہیں ہوئے، تاہم سڑکوں پر بے نظیر بھٹو کے حامیوں کا اتنا ہجوم تھا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لاہور عملاً پیپلز پارٹی کے قبضے میں ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (14 اپریل 1986ء) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: The politics of processions and public meetings had generated more heat than light. جلسوں اور جلوسوں کی سیاست نے گرمی زیادہ پیدا کی ہے اور روشنی کم۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ بے نظیر بھٹو (وفات 2007) کی سیاست جنرل ضیاء الحق کے نزدیک counter productive ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا خود جنرل ضیاء الحق (وفات (1988) کی سیاست بھی کاؤنٹر پروڈکٹیو نہیں جنرل ضیاء الحق صاحب نے اسلام کے نام پر جولائی 1977ء میں پاکستان کی حکومت پر قبضہ وہ ہر قسم کے اقتدار اور وسائل پر پوری طرح قابض ہو کر پاکستان میں اسلامائزیشن کی تحریک چلا رہے ہیں۔ وہ مسلسل یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ ان کا اسلامائزیشن کا عمل پوری طرح کامیاب وہ اپنے آپ کو اسلام کا نمائندہ بتاتے ہیں اور بھٹو پارٹی کو غیر اسلام کا نمائندہ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق صاحب نے تمام پاکستانیوں کو اسلامی بنا رکھا ہے تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ یہ پاکستانی لوگ غیر اسلامی لیڈر شپ کے پیچھے دوڑ پڑیں ۔ کیا جنرل ضیاء الحق صاحب کی سیاست بھی عین اسی طرح کاؤنٹر پروڈکٹیو ہے جس کا الزام وہ بھٹو پارٹی کو دے رہے ہیں۔ 15 اپریل 1986 جناب مہتاب سنگھ صاحب ملنے کے لیے آئے۔ وہ سائنس وٹکنالوجی میں سینئر آفیسر رہے ہیں اور بیرونی ملکوں کا بھی دورہ کیا ہے۔
میں نے اردو الرسالہ انہیں دکھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ اردو پڑھتے ہیں۔
کہا کہ ہاں، اردو تو ہماری اصل زبان ہے۔ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو تقسیم کے بعد پاکستان سے وہاں ہم نے اردو اور فارسی پڑھی۔ ہمارے ابتدائی استاد ایک مولوی صاحب تھے، جن سے، ہم مسجد میں جاکر پڑھا کرتے تھے۔
اس طرح کی اور کئی باتیں انہوں نے بتائیں۔ میں نے سوچا کہ وہ مسلم قائدین بھی کتنے نادان تھے، جنہوں نے جھوٹے مذہبی جھگڑے کھڑے کرکے ملک کو تقسیم کرایا اور ایک پوری قوم جو اردو زبان اور مسلم تہذیب کو اپناتے ہوئے تھی اس کو زبردستی دھکیل کر اپنے سے دور کر دیا۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں جو سب سے بڑی چیز کھوئی ہے وہ دعوتی ذہن ہے اور اس قسم کی تمام نادانیاں اسی کا نتیجہ ہیں۔
مہتاب سنگھ صاحب نے دوران گفتگو کہا کہ میں نے انگریزی کی ایک ڈکشنری میں لفظ silly دیکھا تو اس کا ایک مطلب مذہبی آدمی لکھا ہوا تھا۔ میں نے اسی وقت ویبسٹر کی بڑی ڈکشنری نکالی اور اس میں سلی کا لفظ دیکھا۔ ڈکشنری میں اس لفظ کے چھ معنی لکھے ہوئے تھے، مگر اس میں مذہبی شخص شامل نہ تھا۔
میں نے جناب سنگھ سے کہا کہ کسی لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے اور ایک مجازی مفہوم۔ سلی کا لغوی مفہوم تو بے وقوف اور سادہ لوح ہے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مذہب میں زیادہ پر جوش طور پر وہی لوگ جاتے ہیں جو سیدھے سادے کم سمجھ ہیں۔ زیادہ ہوشیار لوگ مذہب کی طرف کم رجوع اس عملی صورت حال کی وجہ سے سلی کا لفظ شاید مجازی طور پر مذہبی لوگوں کے لیے بھی کسی علاقہ میں بولا جانے لگا ہو۔
ہندوستان میں جولوگ موجودہ زمانہ میں مذہبی سیاست چلاتے رہے ہیں ان پر تو یہ یقیناً پوری طرح صادق آتا ہے۔
اس دنیا میں فیض بقدر استعداد کا اصول ہے۔ یعنی جتنا بونا اتناہی پانا، نہ اس سے کم، نہ اس سے زیادہ۔