Al-Risala · January 2023

انسان کی خصوصیت

Al-Risala, January 2023, pp. 38–39

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان ایک ذی حیات مخلوق ہے۔ سائنسی مطالعے کے مطابق، موجودہ دنیا میں اندازہ کے مطابق، تقریباً ایک ٹریلین (one trillion) کی تعداد میں ذی حیات اشیاء (living things) پائی جاتی ہیں۔ ان تمام ذی حیات چیزوں میں انسان ایک خصوصی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ تمام اشیاء کامل طور پر قانون فطرت (law of nature) کی پابند ہیں۔ پوری دنیا میں انسان ایک واحد مخلوق ہے، جس کو کامل آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ خود اپنے اختیار سے اپنے عمل کا انتخاب کرتا ہے۔ امتیازی صفت کو قرآن میں خلافت (2:30) اور امانت (33:72) کہا گیا ہے۔

اسی صفت خاص کی بنا پر انسان کے لیے اگلے دور حیات میں ابدی جنت کا انعام ہے۔ ذی حیات اشیاء کے برعکس، انسان کو اپنی زندگی میں ایک امتیازی عمل کا نمونہ پیش کرنا ہے۔ اس کو خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا ہونا ہے، اس کو خود اپنے فیصلے کے تحت صحیح راستہ پر چلنا ہے، اس کو خود اپنے ارادے کے تحت سیلف کنٹرول (self control) کی زندگی

گزارنا ہے، اسی کو خود اپنے فیصلہ کے تحت اطاعت کی زندگی اختیار کرنا ہے۔ یہی انسان کا امتیاز مگر ہر عطیہ کے ساتھ ہمیشہ ایک ذمہ داری شامل رہتی ہے۔ چنانچہ انسان کے اس امتیاز کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی شامل ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو امتحان (test) کہا جاتا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کے آگے جھکادے۔ آزادی کے باوجود وہ اللہ کا فرمانبردار آزادی کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی اور بے راہ روی سے بچائے۔ وہ خود دریافت کردہ سچائی پر کھڑا ہو، اور خود عائد کردہ پابندی (self-imposed discipline) کا طریقہ اختیار کرے۔ خود انضباطی کی روش کو قرآن اور حدیث میں لوجہ اللہ اور لاجل اللہ کہا گیا ہے۔ یہ عمل جو انسان سے مقصود ہے، وہ اتنا بڑا ہے کہ اس پر خالق نے سب سے بڑا انعام مقدر کیا ہے۔ ایک ایسا انعام جو کسی بھی دوسری مخلوق کو ملنے والا نہیں، یعنی ابدی جنت۔

Printed page