ماڈرن ایج میں سیرت نبوی کا ریلیونس
Al-Risala, November 2023, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
(سی پی ایس انٹرنیشنل کی چیئر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی کے اسلامک اینڈ اورینٹل لرننگ فیکلٹی کے زیر اہتمام پہلے یک روزه انٹرنیشنل سیرت کانفرنس، 10 اکتوبر 2023، کے لیے زیر نظر مضمون کا ایک حصہ ریکارڈ کروایا تھا۔ افادہ عام کے لیے اس کو مکمل شائع کیا جا رہا ہے) بسم اللہ الرحمن الرحیم انتہائی خوشی کی بات ہے کہ مجھے اس کانفرنس میں شرکت کا موقع مل رہا ہے۔ اس کے لیے میں وائس چانسلر ڈاکٹر شگفتہ ناز، ڈین آف فیکلٹی پروفیسر فلیحہ کاظمی اور دوسرے آرگنائزر کی شکر گزار اس خاص موقع پر میں یہاں چند باتیں عرض کرنا چاہتی ہوں۔
قرآن میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے زندگی گزارنے کا ایک بہترین نمونہ
سیرت نبوی کے مطالعہ کے دو طریقے ہیں۔ ایک، تقدس کے جذبہ کے تحت مطالعہ کرنا، یعنی برکت حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا۔ دوسرے، سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مطالعہ کرنا۔ قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیرت نبوی کے مطالعہ کا مقصد "اسوہ نبوی" کو جاننا اور اس سے رہنمائی حاصل کرنا ہے (33:21)۔ اس سلسلہ میں مولانا وحید الدین خاں صاحب اپنی کتاب عظمت اسلام کے ایک چیپٹر عظمت رسول میں لکھتے ہیں کہ برطانی مستشرق ای ای کلیٹ نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے۔ اس نے آپ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تاریخ میں مذہب اسلام کے بانی سے زیادہ حیرت ناک کوئی کردار نہیں پایا جاتا۔ کوئی دوسرا آدمی مشکل سے ملے گا جس نے دنیا کی تقدیر پر اتنا گہرا اثر ڈالا ہو۔ بلاشبہ ان کو ناموافق حالات ملے مگر وہ جانتے تھے کہ ان حالات کو کس طرح اپنے حق میں موڑا جائے۔ انھوں نے مشکلات کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں۔ اگرچہ وہ کسی دوسرے مقام پر یا کسی دوسرے زمانہ میں اس طرح کامیاب نہیں ہو سکتے تھے مگر یہ بھی یقینی ہے کہ دوسرا کوئی آدمی سرے سے کامیابی ہی حاصل نہیں کر سکتا تھا:
"There is no more astonishing career in history than that of the founder of this religion (Islam), and scarcely any man has more profoundly influenced the destinies of the world. He was, of course, favoured by circumstances, but he knew how to turn them to his purposes, and he faced adversity with the determination to wring success out of failure. While he could not have succeeded in another place or at another time, it is tolerably certain that no one could have succeeded at all." (E.E. Kellett. A Short History of Religions, London, 1933. pp. 333-34)
ای ای کلیٹ کے مذکورہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، مولانا وحید الدین خاں صاحب نے اپنی کتاب مطالعہ سیرت میں لکھا ہے کہ مغربی مستشرق کا مذکورہ جملہ قاری کے لیے ایک نشان راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعہ سیرت کے قاری کو ایک متعین رہنمائی ملتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں اسوہ حسنہ کہا گیا ہے (دیکھیے مطالعہ سیرت، صفحہ 8)۔ ایک بات یہ قابل غور ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تمام زمانوں کے لیے قابل تقلید نمونہ مگر آپ نے اپنا قول و فعل قدیم عرب کے ریفرنس میں بیان کیا ہے۔ بعد کے زمانے میں اس کو قابل عمل بنانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جائے وہ اجتہاد کا طریقہ ہے۔ غالباً اسی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں کو اجتہاد پر ابھارا ہے، اور اجتہاد میں غلطی پر بھی ایک نیکی کی خوشخبری دی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1716)۔
مولانا وحید الدین خاں صاحب نے جگہ جگہ سیرت سے سبق لینے کا طریقہ بتایا ہے، اور مثالوں سے اس کو واضح کیا ہے۔ تفصیل کے لیے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً مطالعہ سیرت، وغیرہ۔ یہاں چند مثالوں سے میں یہ وضاحت کروں گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے موجودہ زمانے میں کیسے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے: