Al-Risala · November 2023

ایمان کی حفاظت ، دنیا کی قیمت پر

Al-Risala, November 2023, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

ہجرت کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن واقعہ ہے۔ اس وقت جو ایمانی واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہجرت کرنے والوں میں ایک صحابی صہیب بن سنان الرومی تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مدینہ پہنچے۔ حضرت صہیب جب مکہ سے نکلے تو قریش کے کچھ لوگوں نے ان کو پکڑا۔ انھوں نے کہا کہ تم مکہ میں آئے تو تم غریب تھے۔ پھر تم نے یہاں اب تم اس مال کو لے کر مدینہ جانا چاہتے ہو تو ہم تم کو نہیں جانے دیں گے۔ کہا کہ اگر میں اپنا مال ( دینار) تم کو دے دوں تو کیا تم مجھ کو جانے دو گے؟ انھوں نے کہا، ہاں۔ اس کے بعد صہیب نے اپنی جیب سے تمام دینار نکالے اور انھیں قریش کے حوالے کر دیا۔ قریش نے ان کو چھوڑ دیا اور وہ چل کر مدینہ پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب کی تجارت کامیاب رہی۔ ابن ہشام ، جلد 1، صفحہ 477)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن اور غیر مومن کے درمیان اگر مال یا زمین وغیرہ کے بارے میں کوئی نزاع پیدا ہو تو مومن کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ حق کے نام پر فریق ثانی سے لڑ جائے اور اس کے نتیجہ میں اپنے آپ کو ہلاک کرلے۔ ایسے معاملات میں اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ مال یا زمین کو فریق ثانی کے حوالے کر کے اپنی زندگی کو ایمان کی خاطر اس سے بچایا جائے۔ ایمانی زندگی ہر دوسری چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔

اسی طرح یہ واقعہ ایک داعی کے اخلاق کو بتاتا ہے۔ داعی یہ چاہتا ہے کہ مدعو سے کوئی بھی مادی جھگڑا نہ چھیڑے حتی کہ اگر کسی وجہ سے دونوں کے درمیان کوئی مادی جھگڑا چھڑ جائے تو داعی کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ قربانی کے ذریعہ پہلی فرصت میں اس کو ختم کر دے تا کہ داعی اور مدعو کے درمیان نارمل تعلق بحال ہو سکے۔ خواہ اس کے لیے داعی کو یک طرفہ قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔ حقیقت کی طرف قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا یعنی، جو تکلیف تم ہمیں دو گے ہم اس پر صبر ہی کریں گے۔

Printed page