Ego has no place in today's world.
Al-Risala, January 2023, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بے حد اہم بات ہے۔ ایک آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھر کے ماحول میں لاڈ پیار (pampering) کے ماحول میں رہتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ گھر کے اندر اس کی شخصیت ہی مرکزی شخصیت ہے۔ دوسرے لوگ وہی کرتے ہیں جو وہ چاہے۔ گھر کے ماحول میں اس کی انا (ego) ہی مرکزی شخصیت کا درجہ رکھتی ہے۔
لیکن جب وہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بالکل مختلف ماحول یہاں مکمل طور پر مقابلہ اور مسابقت (competition) کا ماحول ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے، وہ اُس کے ذاتی جوہر (merit) کی بنیاد پر ملتا ہے۔ انسان کے ذاتی جوہر کے سوا، کسی اور چیز کی یہاں کوئی قیمت نہیں۔ باہر کی دنیا مکمل طور پر اس اصول پر قائم ہے— مقابلہ کر کے جیو، یا مر جاؤ: Compete, or perish یہ زندگی کی ایک سنگین حقیقت ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد کو اس سے سابقہ پیش آتا ماں باپ کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس امتحان کے لیے تیار کریں۔ اس معاملے میں کوئی بھی دوسری چیز ذاتی تیاری (self-preparation) کا بدل نہیں بن سکتی۔ ذاتی تیاری ہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو مقابلے کی اس دنیا میں کامیاب بناسکتی ہے۔ موجودہ دنیا حقائق کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ ایسی حالت میں کسی غیر حقیقی بنیاد پر کامیابی کا حصول اس دنیا میں ممکن نہیں۔ والدین کی ذمہ داری اولاد کی تربیت نہ صرف افراد سازی کا عمل ہے، بلکہ یہ سماج کی ترقی کا سب سے بنیادی قدم
تربیت اولاد کے حوالے سے ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أُکْرِمُوا أَوْلَادَکُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3671)۔ یعنی اپنی اولاد کے ساتھ بہتر سلوک کرو، اور ان کو اچھا ادب سکھاؤ۔
اس حدیث میں ادب حسن کا مطلب زندگی کا بہتر طریقہ ہے۔ یعنی یہ سکھانا کہ بیٹا یا بیٹی بڑے ہونے کے بعد دنیا میں کس طرح رہیں کہ وہ کامیاب ہوں، وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کے لیے بوجھ (liability) نہ بنیں، بلکہ وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا سرمایہ (asset) بن جائیں۔ والدین اپنے بچوں کو اگر لاڈ پیار (pampering) کریں تو انھوں نے بچوں کو سب سے بُرا تحفہ دیا۔ اور اگر والدین اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کا کامیاب طریقہ بتائیں، اور اس کے لیے ان کو تیار کریں تو انھوں نے اپنے بچوں کو بہترین تحفہ دیا۔ مثلاً بچوں میں یہ مزاج بنانا کہ وہ دوسروں کی شکایت کرنے سے بچیں۔ وہ ہر معاملے میں اپنی غلطی تلاش کریں، وہ اپنی غلطی تلاش کر کے اس کو درست کریں، اور اس طرح اپنے آپ کو بہتر انسان بنائیں۔ وہ دنیا میں تواضع (modesty) کے مزاج کے ساتھ رہیں، نہ کہ فخر اور برتری کے مزاج کے ساتھ۔ زندگی میں ان کا اصول حیات یہ ہو کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرائیں، نہ کہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کریں۔ وقت اور اپنی توانائی کو صرف مفید کاموں میں لگائیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ بتائیں کہ اگر تم غلطی کرو گے تو اس کی قیمت تم کو خود ادا کوئی دوسرا شخص نہیں جو تمھاری غلطی کی قیمت ادا کرے۔ کبھی دوسروں کی شکایت نہ کرو۔ دوسروں کی شکایت کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ ہمیشہ مثبت انداز سے سوچو، منفی سوچ سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بچاؤ۔ بری عادتوں سے اس طرح ڈرو، جس طرح کوئی شخص سانپ بچھو سے ڈرتا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو ڈیوٹی کانشش (duty conscious) بنائیں، نہ کہ رائٹ کانشش (right conscious)۔