دریافت، دریافت، دریافت
Al-Risala, January 2023, pp. 43–45
By Maulana Wahiduddin Khan
جاپان کی ایک مثل ہے کہ ۔ ہر دن کوئی نئی بات دریافت (discover) کرو، خواہ سوئی میں دھاگہ ڈالنے کا نیا طریقہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ مثل مادی دریافتوں کے بارے میں ہے۔ یہی اصول زیادہ
بڑے پیمانے پر معرفت (realization) اور روحانیت (spirituality) کے معاملے پر بھی منطبق ہوتا روحانیت اور معرفت کوئی جامد چیز نہیں۔ وہ درخت کی مانند ایک مسلسل ترقی پذیر چیز (growing entity) ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں لامحدود صلاحیت موجود ہے۔ انسانی دماغ کے باہر جو حقائق کی دنیا (universe of facts) ہے، وہ بھی لامحدود ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنے ذہن کو مسلسل طور پر بیدار رکھے اور یکسوئی کے ساتھ غور و فکر کرتا رہے، وہ ہر دن بلکہ ہر لمحہ نئی حقیقتوں کو دریافت کرتا رہے گا۔ اس کے لیے دریافتوں کا خزانہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ جس طرح مادی خوراک جسم کی غذا ہے، اُسی طرح روحانی دریافتیں معرفت کی غذا ہیں۔ مسلسل مادی خوراک جسم کی زندگی کی ضمانت ہے۔ طرح مسلسل روحانی دریافتیں کسی انسان کے لیے معرفت اور روحانیت کی زندگی اور ارتقا کی ضمانت ہیں۔ یہ دریافت گویا کہ ایک فکری پراسس (intellectual process) ہے۔ کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کی شرطیں صرف دو ہیں ۔ غور و فکر کرنا، اور اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے جس آدمی کے اندر یہ دو چیزیں پائی جائیں، وہ ضرور دریافتوں والا انسان بن جائے گا۔ اس کے بعد کوئی بھی چیز اس کو نئی نئی دریافتوں تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔
دریافت روح کی زندگی ہے، دریافت ذہن کے لیے ذریعہ ارتقا ہے۔ دریافت کسی انسان کو مکمل انسان بناتی ہے۔ دریافت کے بغیر کوئی انسان ایسا ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔ مسئلہ نہیں حل ایک بار کا واقعہ ہے۔ ایک سفر میں میں ایک فیکٹری کو دیکھنے کے لیے گیا۔ میں اس کے مینیجر کے آفس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس اثنا میں فیکٹری کا ایک کارکن کمرے میں داخل ہوا۔ کہا: سر، پانی کی سپلائی رک گئی ہے۔ ہمارا کام بند ہو گیا ہے۔ مینیجر نے یہ بات سنی تو اس نے تقریباً چیخ کر کہا: پرابلم مت لاؤ، سلوشن لاؤ۔ کارکن واپس گیا اور کچھ دیر کے بعد دوبارہ واپس آیا۔ کہا کہ میں نے ساتھیوں سے مشورہ کیا، سب کا کہنا یہ ہے کہ کارپوریشن کے واٹر سپلائی کے بجائے، یہاں بورنگ کر کے خود اپنے پانی کا انتظام ہونا چاہیے۔ اس کے بعد مینیجر نے ٹیلی فون اٹھایا اور کسی ٹھیکے دار سے کہا کہ ہماری فیکٹری میں بورنگ کی ضرورت ہے۔ آپ آج ہی اُس کا کام شروع
اگلے دن فیکٹری میں پانی کا ذاتی انتظام ہو چکا تھا۔
یہی کام کا صحیح طریقہ ہے۔ اگر آپ کسی ادارے سے وابستہ ہیں، یا آپ کسی کمپنی میں کام کر رہے ہیں تو آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ کا کام شکایت کرنا نہیں ہے، بلکہ مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔ آپ ذمے داروں کے پاس نہ شکایت لے جائیے اور نہ احتجاج۔ آپ ان کو بتائیے کہ مسئلے کا حقیقی حل اور پھر آپ ادارے کے ایک مطلوب شخص بن جائیں گے۔
اگر آپ کسی ادارے سے وابستہ ہیں اور آپ وہاں کسی بات کو لے کر شکایت کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ وہاں ایک غیر جانب دار شخص بن کر رہ رہے ہیں۔ لیکن جب آپ مسئلے کا حل بیان کریں، تو آپ ادارے کے ایک مطلوب شخص بن جاتے ہیں۔ اب ادارہ آپ کو غیر کی نظر سے نہیں دیکھے گا، بلکہ اپنی تنظیم کے ایک فرد کی حیثیت سے دیکھے گا۔ یہی زندگی کا صحیح طریقہ ہے۔ طریقے میں آپ کی اپنی کامیابی بھی ہے، اور ادارے کی کامیابی بھی۔
کامیاب زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دوسروں کی ضرورت بنا دے۔ کے لیے سرمایہ (asset) بن جائے، نہ کہ بوجھ (liability)۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ اس کے سوا اس دنیا میں کامیابی کا کوئی اور طریقہ نہیں۔