با اصول زندگی
Al-Risala, January 2023, pp. 45–48
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک کو دوسرے سے اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف مبنی بر فطرت ہے۔ اس لیے اُس کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی حالت میں، کامیاب زندگی کا اصول صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ (adjust) کر کے زندگی گزاری جائے۔ اختلاف کو نظر انداز کر کے باہمی مفاد (mutual interest) کی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کیا جائے۔ اس دنیا میں اس کے سوا، کوئی انتخاب (option) کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس معاملے میں، مسلمانوں کا معاملہ دوسروں سے الگ نہیں ہے۔ البتہ مسلمان کو اس معاملے میں ایک امتیازی خصوصیت حاصل ہے۔ دوسروں کے لیے یہ ایڈجسٹ مینٹ صرف مفاد (interest) کا ایک معاملہ ہے، مگر مسلمان کے لیے یہ معاملہ صابرانہ روش کی بنا پر ایک اعلیٰ عبادت کا معاملہ بن جاتا ہے۔
اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلمان کا ایڈجسٹ مینٹ (adjustment) ایک اصول کے تحت ہوتا ہے، جب کہ دوسروں کا ایڈ جسٹ مینٹ صرف دنیوی مفاد کے تحت پیش آتا ہے۔ مسلمان اپنی حیثیت کے اعتبار سے، ایک خدائی مشن کے حامل ہیں، یعنی خدا کے ابدی پیغام کو دوسرے تمام انسانوں تک پہنچانا۔ پیغام رسانی کا یہ کام صرف اُس وقت درست طور پر انجام پاسکتا ہے، جبکہ مسلمانوں اور غیرمسلم قوموں کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم ہوں۔ دوسری قوموں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کا معاملہ کرتا ہے تو اْس کا محرک (incentive) اْس کا یہی دعوتی ذہن ہوتا ہے۔ وہ ذاتی مفاد کے لیے ایڈجسٹ مینٹ نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اس لیے ایڈجسٹ مینٹ کرتا ہے، تا کہ اْس کا دعوتی مشن کسی رکاوٹ کے بغیر پرامن انداز میں جاری رہے۔ محرک کا یہ فرق بہت اہم ہے۔ اسی فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمان کا ایڈجسٹ مینٹ ایک ایسا عبادتی عمل بن جاتا ہے جو اْس کو آخرت میں اجر عظیم کا مستحق بنادے۔ اس کے برعکس، دوسروں کا ایڈجسٹ مینٹ صرف ذاتی مفاد کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس سے زیادہ اْس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔ مذکورہ قسم کا ایڈ جسٹ مینٹ موجودہ دنیا کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی شخص یا گروہ کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر اصولی بنیاد پر ایڈجسٹ مینٹ نہ کریں تو اْن کو مفاد کی بنیاد پر ایڈ جسٹ مینٹ کا معاملہ کرنا ہوگا۔ مگر ایسی صورت میں ان کا ایڈجسٹ مینٹ عبادت کا عمل نہ ہوگا، بلکہ وہ صرف موقع پرستی (expediency) کا ایک معاملہ ہوگا، یعنی وہی چیز جس کو شریعت کی زبان میں منافقت (hypocrisy) کہا جاتا ہے۔ اصول پسندی، ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے، اْس کے مقابلے میں، موقع پرستی ایک انتہائی بُری صفت۔ اس دنیا میں کسی آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے ـــــ اخلاص، یا منافقت۔ مخلصانہ زندگی میں منافقت کا کوئی مقام نہیں۔ اسی طرح منافقانہ زندگی میں اخلاص کا کوئی درجہ نہیں۔ دعوتی مشن واحد مشن ہے جو آدمی کو اس معاملے میں منافقانہ روش سے دعوتی مشن آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ ربانی مشن کی خاطر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ بظاہر اگر چہ داعی بھی ایڈ جسٹ مینٹ کا معاملہ کرتا ہے، مگر اْس کا ایڈ جسٹ مینٹ، اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ مفاد کی بنیاد پر۔
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر دعوتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ نہ کریں تو اُنھیں ذاتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کرنا گویا کہ اگر وہ دوسروں کے درمیان مخلص بن کر نہ رہیں تو اُنھیں دوسروں کے درمیان منافق بن کر رہنا ہوگا، اور بلاشبہ منافقانہ زندگی سے زیادہ بُری کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ مسلمان کی اصل حیثیت اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے، مسلمان داعی ہیں اور دوسری تمام اقوام اُن کی مدعو، یعنی مسلمان دینِ خداوندی کے امین ہیں اور اُن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس امانت کو تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ اسی فرض کی ادائیگی میں اُن کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک خدائی ذمے داری کا معاملہ ہے۔ اس ذمے داری کو صرف اُس وقت ادا کر سکتے ہیں، جب کہ وہ اس ذمے داری کے تقاضوں کو سمجھیں اور اُس کو اپنی زندگی میں بھر پور طور پر استعمال کریں۔ داعی کی ذمے داری صرف داعیانہ کردار کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے، داعیانہ کردار کے بغیر دعوتی ذمے داری کو ادا کرنا اُسی طرح ناممکن ہے جس طرح کسی عورت کے لیے مادرانہ شفقت کے بغیر ماں کی ذمے داری کو ادا کرنا۔
قرآن کے الفاظ میں، دعوت کا آغازنُصح (الاعراف، 68) سے ہوتا ہے، یعنی مدعو کے لیے یک طرفہ خیر خواہی۔ دعوتی اخلاق کا تقاضا ہے کہ داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لیے صرف مثبت جذبات ہوں، منفی جذبات سے اُس کا دل مکمل طور پر خالی رہے۔ اسی کا نام یک طرفہ خیر خواہی اس قسم کی یک طرفہ خیر خواہی کے بغیر داعی اپنی داعیانہ ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکتا۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے، اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آتے رہتے ہیں، ایک کی کوئی بات دوسرے کے لیے اشتعال انگیزی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام کو بدلنا ہر گز کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں، داعی کے اندر اپنے مدعو کے لیے یک طرفہ خیر خواہی کا جذبہ صرف اُس وقت برقرار رہ سکتا ہے، جب کہ وہ یک طرفہ اخلاقیات کے اصول پر قائم ہو۔ کے ساتھ اِس کی روش دوسروں کے عمل کے زیر اثر نہ بنے، بلکہ وہ اُس کے اپنے سوچے سمجھے اصول کے
تحت بنی ہو۔ وہ ردِعمل کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو۔
مسلمان داعی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے، مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسری قوموں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلائیں۔ داعیانہ شریعت میں، شکایت اور احتجاج کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کیوں کہ مسلمان جس قوم کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلائیں گے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مدعو قوم ہوگی۔ مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مدعو قوم کے ساتھ حریف قوم جیسا معاملہ کریں۔ مسلمانوں کو ہر حال میں اور ہر قوم کے ساتھ ہمیشہ معتدل تعلق کو برقرار رکھنا ہے، کیوں کہ معتدل تعلقات کے ماحول ہی میں دعوت الی اللہ کا کام جہاں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان معتدل تعلقات نہ ہوں، وہاں دعوت کا کام انجام دینا ممکن ہی نہیں۔
قرآن کی سورہ الاحزاب میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِۚ یعنی اُن کی ایذاؤں کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے نہ مانگ کر اللہ سے مانگو، مطالباتی طریقہ چھوڑ کر دعا کا طریقہ اختیار کرو۔ اسی لیے ہر پیغمبر نے اپنی مدعو قوم سے کہا: لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا (11:29)۔ یعنی میں تم سے کسی مادی فائدے کا طالب نہیں ہوں۔ میں صرف دینے والا ہوں، نہ کہ تم سے کوئی چیز لینے والا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مدعو قوم کے مقابلے میں، حقوق (rights) کے نام پر مطالباتی مہم چلانا، پیغمبرانہ سنت کے مطابق، سرے سے جائز ہی نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی۔ مگر جو چیز ختم ہوئی، وہ نبوت ہے، نہ کہ کارِ نبوت۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اب کوئی نیا پیغمبر آنے والا نہیں۔ لیکن جہاں تک پیغمبر کے دعوتی مشن کی بات ہے، وہ ہمیشہ اور ہر قوم کے درمیان جاری رہے گا۔ سے، مسلمان ختم نبوت کے بعد مقام نبوت پر ہیں، یعنی ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیغمبر کے دعوتی مشن میں، بقدرِ استطاعت، اپنا حصہ ادا کرے۔ یہ دعوتی عمل ہر فردِ مسلم کے لیے فرض کی حیثیت رکھتا ہے (البقرہ 2:143)۔ جو لوگ اس فرض کو ادا نہ کریں، اُن کے لیے سخت اندیشہ ہے کہ خدا کے نزدیک، وہ پیغمبر آخر الزماں کے امتی ہونے کا حق اپنے لیے کھودیں۔