نظر انداز کرنا
Al-Risala, January 2023, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبرِ اسلام مکہ میں 13 سال رہے۔ اس مدت میں وہ تقریباً روزانہ کعبہ میں جاتے تھے۔ وہاں اس وقت 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ عربوں کے مختلف قبائل میں پوجے جانے والے بت مکہ کی مرکزیت قائم کرنے کے لیے اہل مکہ کے سرداروں نے یہ تمام بت کعبہ میں اکٹھا کر دیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ ان کو دیکھتے تھے مگر مکی دور میں کبھی آپ نے ان کو توڑنے یا پھینکنے کی کوشش نہیں کی۔
اس سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ وقت سے پہلے کوئی کام نہ مکی دور میں آپ نے ان بتوں کو نظر انداز کیا۔ مگر بعد کو جب مکہ فتح ہو گیا تو آپ نے فوراً اُن کو نکال کر کعبہ کو اُن مشرکانہ علامتوں سے پاک کر دیا۔
اسلام میں اقدام کرنا بھی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اسلام میں نظر انداز کرنا بھی ہے۔ وقت اقدام کرنا ضروری ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ جہاں اقدام کا موقع نہ ہو، وہاں سختی کے ساتھ نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے ۔ خواہ بظاہر وہ کتنا ہی سنگین یا اشتعال انگیز معاملہ کیوں نہ ہو۔
حال میں کسی مسئلہ کو اعراض کے خانہ میں ڈالنا مستقبل میں اس کے حل کا دروازہ کھولنا ہے۔ اور بے وقت اقدام کرنا حال اور مستقبل دونوں میں صرف نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ نظر انداز کرنے کی پالیسی دراصل انتظار کرنے کی پالیسی کا دوسرا نام ہے۔
نظر انداز کرنا ایک دانش مندانہ پالیسی ہے، نہ کہ کسی قسم کی بزدلی۔ نظر انداز کرنا دوسرے لفظوں میں نظام فطرت سے مطابقت ہے۔ اور نظر انداز نہ کرنا، نظام فطرت کے خلاف جنگ۔ کوئی شخص یا گروہ اتنا طاقتور نہیں کہ وہ فطرت سے لڑ کر کامیاب ہو سکے۔ اس دنیا میں ہر ایک کے لیے صرف ایک راستہ اور وہ نظام فطرت سے مطابقت رکھنا ہے۔ اس کے بغیر موجودہ دنیا میں کسی کے لیے حقیقی کامیابی نظر انداز کرنا بے عملی نہیں، نظر انداز کرنا با عمل انسان کا ایک اصول ہے۔