تزکیہ کیا ہے
Al-Risala, March 2023, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ دراصل شخصیت کی دینی تعمیر کا دوسرا نام ہے۔ شخصیت کی تعمیر کا یہ عمل کسی خودساختہ کورس کے ذریعہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ قرآن وسنت کے طریقہ کو اختیار کرنے سے انجام پاتا ہے۔ تزکیہ کا لفظی مطلب ہے پاک کرنا (purification) ۔ پاک کرنا کیا ہے، اس کا جواب ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے : ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی بنادیتے ہیں، یا نصرانی یا مجوسی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ اس حدیث رسول میں یہودی، نصرانی، اور مجوسی کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اس سے مراد انسان کا پیدائشی ماحول ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر آدمی ایک ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ ماحول مسلسل طور پر اس کی کنڈیشننگ (conditioning) کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کو پورے معنوں میں ایک کنڈیشنڈ انسان بنادیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کی طرف سے آدمی فطرت (nature) پر پیدا کیا جاتا ہے۔ لیکن پیدا ہونے کے بعد وہ اپنے ماحول سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ پختگی کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ جو انسان مسٹر نیچر کے طور پر پیدا ہوا تھا، وہ مسٹر کنڈیشنڈ انسان بن جاتا ہے۔ پیدائش کے وقت وہ ایک سادہ انسان ہوتا ہے، لیکن بعد کو ماحول کے اثر سے وہ اپنے ماحول کی پیداوار (product) بن جاتا ہے۔
تزکیہ یہ ہے کہ آدمی اپنا نگراں آپ بن جائے۔ وہ اپنے اندر خود احتسابی کی صلاحیت پیدا وہ اپنے آپ کو ماحول کی کنڈیشننگ سے بچا کر اپنی اصل فطرت پر خود کو قائم رکھے۔ ایک ایسا عمل ہے جو آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ آدمی کے اندر جب کوئی منفی سوچ آئے، جب وہ کسی بہکاوے (temptation) سے متاثر ہو کر فطرت کے راستے سے ہٹنے لگے تو اس کا داخلی محاسب فورا اس کو چوکنا کردے، اور وہ دوبارہ اپنی فطرت کی طرف واپس آ جائے۔ اسی عمل کا نام تزکیہ ہے، اور یہی عمل آدمی کو ابدی جنت کا مستحق انسان بناتا ہے (طہ، 20:76)۔