تین باتیں
Al-Risala, March 2023, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے نزدیک قرآن اور حدیث میں تین باتیں ایسی ہیں، جن کی واضح تشریح ابھی تک نہیں وہ تین باتیں یہ ہیں :
(1) سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔
(2) إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی بیشک اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔
(3) فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ، لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4242)۔ یعنی (قیامت کے قریب) دہیماء کا فتنہ ہوگا، وہ اس امت میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا، مگر وہ اس کو ہٹ(hit) کرے گا۔
یہ تینوں باتیں پیشین گوئی کی نوعیت کی ہیں۔ مگر آج تک اس پیشین گوئی کی تعیین نہیں ہوئی۔ جن الفاظ میں یہ تینوں پیشین گوئیاں آئی ہیں، ان سے بظاہر یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ تینوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔ مگر کوئی ابھی تک یہ نہ بتا سکا کہ ان پیشین گوئیوں سے متعین طور پر کیا مراد ہے۔ مدت میں بے شمار سطریں لکھی گئی ہیں، اور بے شمار باتیں بولی گئی ہیں، مگر اسلام کی مذکورہ پیشین گوئیوں کے بارے میں کوئی تحقیقی بات اب تک سامنے نہ آسکی۔ یہ قوم کے فکری افلاس کی ایک نئی قسم ہے۔ الفاظ کی بھر مار کے باوجود معانی کا گم ہونا۔
راقم الحروف کا تجربہ ہے کہ پرنٹنگ پریس کے دور میں جتنے کاغذ سیاہ کیے گئے ہیں، اور جتنے الفاظ بولے یا لکھے گئے ہیں، وہ صرف بیسویں صدی میں اتنے زیادہ ہیں، جو پچھلی پوری تاریخ میں موجود نہ مگر دورِ جدید کے معیار کے مطابق، بامعنی کلام کا بظاہر وجود نظر نہیں آتا ہے۔ آپ کسی بھی تقریر یا تحریر کو دیکھیے، تو آپ خود محسوس کریں گے کہ اس میں کوئی ٹھیک اوے قاری کے لیے موجود نہیں۔