امت کا امتحان
Al-Risala, March 2023, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ کا مشن تھا۔ اس کام کی مطلوب انجام دہی کے لیے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ ہرگز رُكُون نہ کریں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے : وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (11:113)۔ یعنی اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑلے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤگے۔
رکون کے معنی ہیں جھکاؤ (tilt)، الگ ہونا۔ یعنی قوم کے تقاضے، لوگوں کا دباؤ، حالات کی مصلحت، اس قسم کی مختلف چیزیں داعی کے اندر رکون (دعوت سے دوری) کا ذہن پیدا کرتی ہیں۔ پیغمبر کو سختی کے ساتھ حکم تھا کہ وہ کسی بھی دباؤ کا اثر قبول نہ کرے۔ وہ سختی کے ساتھ دعوت کے بتائے ہوئے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنا دعوتّی مشن جاری رکھے، وہ حالات کے اثر سے جھکاؤ کا شکار نہ ہو۔ دعوت کے مشن میں استقامت کا یہ اصول جس طرح پیغمبر کے لیے تھا اسی طرح پیغمبر کی امت کے لیے بھی ہے۔ اس معاملہ میں امت اپنے پیغمبر کی نمائندہ ہے اور نمائندہ کو یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ اس معاملہ میں کسی بھی جھکاؤ کو قبول کر کے اصل مشن میں کسی قسم کی تبدیلی کرے۔ تبدیلی کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے بھی یقینی طور پر اسی پکڑ کا اندیشہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں پیغمبر کے لیے کیا گیا۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے یہ لازمی شرط ہے۔ اس شرط کے بغیر دعوت الی اللہ کا کام درست طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا، اور جب دعوت الی اللہ کا کام درست طور پر انجام نہ دیا جائے تو وہ مقصد ادا نہیں ہوتا جو دعوت الی اللہ کا مطلوب ہے، یعنی قوموں پر اللہ کی حجت ادا نہیں ہوتی
دعوت الی اللہ کا کام ایک مختلف نوعیت کا کام ہے۔ اس میں دوسرے تمام تقاضوں کو الگ رکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً قومی تقاضے، مادی تقاضے، عوامی تقاضے، وغیرہ۔ ان تقاضوں سے بچتے ہوئے
دعوت کا کام کرنا بلا شبہ ایک سخت کام ہے۔ لیکن امت کو ہر حال میں یہ کرنا ہے کہ وہ دوسرے تمام تقاضوں کا اثر قبول نہ کرتے ہوئے اس خدائی مشن کو جاری رکھے ۔ یہی امت کا امتحان ہے ۔ امتحان میں پورا ہونا امت محمدی کو امت محمدی بناتا ہے اور اگر امت اس امتحان میں ناکام رہے تو خود یہ امر مشتبہ ہو جائے گا کہ وہ اللہ کے یہاں امت محمدی کی حیثیت سے قبول کی جائے گی یا نہیں۔ دریافت کی عظمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کا واقعہ ہے۔ آپ کے چچا ابو طالب نے ایک بار آپ کو بلایا اور کہا کہ قوم کے ساتھ مصالحت کا انداز اختیار کرو۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا عَمِّ لَوْ وُضِعَتِ الشَّمْسُ فِي يَمِينِي وَالْقَمَرَ فِي يَسَارِي مَا تَرَكْتُ الْأَمْرَ (سیرۃ ابن اسحاق ، صفحہ 154)۔ یعنی اے میرے چچا، اگر یہ لوگ ایسا کریں کہ وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج رکھ دیں اور میرے بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں ، تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا۔ اس واقعے سے ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جتنی بڑی دریافت، اتنی بڑی عزیمت (determination) ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ قول بھی ایک سنتِ رسول وہ ایک واقعے کی صورت میں ایک عظیم حقیقت کو بتاتا ہے، وہ یہ کہ ایک بڑی دریافت تمام دوسری چیزوں کو چھوٹا کر دیتی ہے۔ ایسا آدمی کسی قسم کے رکون (ہود، 11:113) کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ اگر آدمی ایک ایسی حقیقت پر کھڑا ہوا ہو جو اس کے لیے سورج اور چاند سے بھی زیادہ بڑی ہے تو ہر دوسری چیز اس کی نظر میں چھوٹی ہو جائے گی۔ ایسا آدمی کسی بھی عذر کو لے کر اپنے موقف کے معاملے میں مصالحت کا انداز اختیار نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس، اگر آپ کسی شخص کے اندر یہ بات پائیں کہ وہ قوم کے اندر برائی دیکھتا ہے، لیکن وہ اپنے مادی انٹرسٹ کی بنا پر اس کی مذمت نہیں کرتا تو سمجھ لیجیے کہ اس کو دین کے نام پر جو چیز ملی ہے، وہ اس کے نزدیک عملاً اتنی اہم نہیں کہ مادی مصلحت اس کے لیے قربان کر دی جائے۔