امت کا زوال
Al-Risala, March 2023, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں امت کے زوال کا اصل سبب یہ ہے کہ قرآن وحدیث ان کے لیے غیر رہنما کتاب بن گئی ہے۔ آج کے مسلمانوں کے لیے قرآن بس ایک مقدس کتاب ہے۔ جہاں تک حدیث کا سوال ہے، حدیث ان کے لیے فقہی مسائل کا ماخذ ہے۔ مسلمانوں کے تمام مسائل کا اصل سبب یہی ہے۔
قرآن میں کئی مقامات پر بتایا گیا ہے کہ رسول کو خدا نے کتاب اور حکمت کے ساتھ بھیجا ہے۔ یہ دونوں مسلمانوں کے لیے ابدی رہنمائی کا ذریعہ تھیں۔ لیکن مسلمانوں نے اپنے دورزوال میں ان دونوں کو اپنے لیے رہنما بنانے کے بجائے برکت اور جزئی فقہ کا ماخذ سمجھ لیا۔ اس معاملے میں مسلمانوں کا حال وہی ہوا، جو رسول اللہ نے پیشگی طور پر آگاہ کر دیا تھا: تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمْرَیْنِ ، لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا: کِتَابَ اللّٰہِ وَ سُنَّةَ نَبِیِّہ (موطا امام مالک، حدیث نمبر 1874)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم ان دونوں چیزوں کو پکڑے رہوگے، وہ دو چیزیں ہیں: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔ مگر بعد کے زمانے میں جب مسلمانوں نے کتاب وسنت کو ترک کر دیا، تو اس کے بعد جو ہوا، وہ یہ تھا کہ مسلمان حقیقی خدائی رہنمائی سے محروم ہوگئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اندھیروں میں بھٹک کر صراط مستقیم سے ڈی ریل (derail) ہوگئے۔ ان کا سفر مطلوب راستے پر ہونے کے بجائے غیر مطلوب راستے پر ہونے لگا۔ مطلوب راستہ تھا، مثلاً خدا کی معرفت اور دعوت۔ اس راستے سے ہٹ کر دنیوی مسائل میں لگ گئے، اور دعوت کے بجائے مدعو کو اپنا دشمن قرار دے معاملہ یہاں تک پہنچا کہ مسلمان اپنے دنیوی مفاد کے لیے اسلام کو استعمال کرنے لگے۔ علیحدہ مسلم لینڈ (seprate Muslim land) کی لڑائی کو اسلام اور ایمان کے لیے جہاد کرنا قرار یہی وہ حقیقت ہے، جس کو مذکورہ حدیث میں گمراہی کہا گیا ہے۔