Al-Risala · March 2023

مذہبی رواداری ، تالیف قلب

Al-Risala, March 2023, pp. 20–47

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل تالیف قلب اور مذہبی رواداری کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ مذہبی رواداری اور تالیف قلب ایک ہیں یا دونوں میں کوئی فرق ہے۔ (سید اقبال احمد عمری، عمرآباد، تامل ناڈو) جہاں تک میں سمجھتا ہوں رواداری (tolerance) اور تالیف قلب اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ البتہ رواداری ایک سیکولر اصطلاح (term) ہے، اور تالیف قلب ایک مذہبی تاہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ رواداری کا لفظ صرف باہمی ٹالرنس کا مفہوم رکھتا ہے۔ جب کہ تالیف قلب (softening of the heart) یک طرفہ خیرخواہی کے اصول پر قائم ہے۔ تالیف قلب مذہبی معاملات میں رواداری کا نام ہے۔ اس کے برعکس، رواداری زیادہ عام ہے۔ رواداری کا مطلب ہے ایسے طرز عمل، اعتقاد اور خیالات، وغیرہ کو گوارا کرنا جن سے آپ کو اتفاق نہ ہو یا جو آپ کے نزدیک قابل قبول نہ ہوں۔ اس کا تعلق زندگی کے ہر معاملے سے ہے، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔

رواداری کا طریقہ مزاج کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، وہ قانون کے زور پر قائم نہیں ہوتا۔ دراصل اپنی حقیقت کے اعتبار سے سماجی اخلاقیات کا معاملہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہو، تا کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے رویے کا انتخاب کر سکے۔ اس معاملے میں صحت مند طریقہ (healthy method) یہ ہے کہ ہر ایک آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرے، اور اسی کے ساتھ وہ دل سے اس پر راضی ہو کہ دوسرے کو بھی یہ حق ہے کہ وہ جس رائے کو بھی درست سمجھتا ہے، اس کو وہ آزادانہ طور پر ظاہر کرے۔ صحت مند رواداری یہ ہے کہ کسی فریق پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالا جائے۔ ہر ایک جیو اور جینے دو (live and let live) کے اصول پر قائم رہے۔ ہر ایک کا مزاج یہ ہو کہ وہ جس چیز کو اپنا حق سمجھتا ہے، وہی حق وہ دوسروں کو بھی دے۔ ادنی درجے میں بھی کسی کے ساتھ ناانصافی کا سلوک نہ کیا جائے۔

شرح مشکوٰۃ المصابیح معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت سے قریب کر دے اور مجھ کو جہنم سے دور کر دے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے بہت بڑی بات پوچھی ہے۔ البتہ وہ آسان ہے جس کے لیے خدا اسے آسان کر دے: تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور تم نماز قائم کرو اور تم زکاۃ ادا کرو۔ اور تم رمضان کے روزے رکھو اور تم بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تم کو خیر کے دروازے نہ روزہ ڈھال ہے۔ اور صدقہ گناہ کو بجھاتا ہے جس طرح سے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔ آدمی کا رات کے وقت نماز پڑھنا۔ پھر آپ نے قرآن کی (دو) آیتیں تلاوت کیں: ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈر سے اور امید سے۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ تو کسی کو خبر نہیں کہ ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے (32:16-17)۔ پھر آپ نے فرمایا میں تم کو نہ بتاؤں تمام چیزوں کا سر اور اس کا ستون اور اس کی چوٹی۔ میں نے کہا کہ ہاں، اے خدا آپ نے فرمایا کہ معاملہ کا سر اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد پھر آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ان سب کی اصل نہ بتا دوں۔ میں نے کہا کہ ہاں، اے خدا پھر آپ نے اپنی زبان پکڑی اور کہا: اس سے اپنے آپ کوروکو۔ میں نے کہا کہ کیا کہ کیا ہم پکڑے جائیں گے اس پر جو ہم بولتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ تم کو تمہاری ماں گم کرے۔ لوگوں کو جہنم میں، اوندھے منہ، ان کی زبان سے نکلا ہوا بے فائدہ کلام ہی گرائے گا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2616 ؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3973 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 10164)۔ زبان کو آپ نے کیوں اتنا زیادہ اہمیت دی۔ زبان آدمی کے پورے وجود کا خلاصہ ہے، آدمی کو چاہیے کہ زبان کی حفاظت کا آخری حد تک اہتمام کرے۔ زبان آدمی کی اندرونی شخصیت کی

جو آدمی غیر ذمہ دارانہ انداز میں کلام کرے اور بے روک ٹوک اپنی زبان کو دوسروں کے خلاف استعمال کرے وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی شخصیت چھپی ہوئی ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت کے اندیشے سے خالی ہے۔ ایسا انسان ہر دوسری غلطی کو کرنے کے لیے بھی جری رہے گا۔

اس کے برعکس، جو آدمی اپنی زبان کے استعمال میں محتاط ہو۔ جو اپنی زبان سے بھلائی اور انصاف کی بات بولے ایسا آدمی اپنے اس عمل سے بتاتا ہے کہ وہ ایک صالح انسان ہے۔ آپ کو خدا کی ماتحتی میں دیے ہوئے ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے حکم کا پابند بنائے ہوئے ہے۔ زبان انسانی شخصیت کی علامت ہے جو آدمی زبان کے استعمال کے معاملہ میں خدا کی مرضی کا پابند ہو وہ اپنی زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی یقینی طور پر خدا کی مرضی کا پابند ہوگا۔ وہ ہر معاملہ میں خدا کا مطلوب بندہ بنا ہوا ہوگا۔

ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے ناپسند کیا اور اس نے اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا تو اس نے ایمان کامل کرلیا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4681)۔ الترمذی نے اس حدیث کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ معاذ بن انس سے نقل کیا ہے۔ اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: اس آدمی نے اپنا ایمان کامل کرلیا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2521)۔

ایمان کا آغاز خدائی حقیقتوں کے اعتراف سے ہوتا ہے۔ یہ اعتراف اگر سچا ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر آدمی کی زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے۔ اس کی پسند اور ناپسند پر خدا کا رنگ چھا جاتا ہے (البقرہ، 2:138)۔ اس کے تعلقات اور اس کے لین دین خدائی احکام کے تابع ہو جاتے آدمی کی پسند اور ناپسند یا اس کے دینے یا نہ دینے پر ایمان کا اثر جتنا کم ہوگا اتنا ہی اس کا ایمان نامکمل سمجھا جائے گا۔

ایمان کے معاملے میں اصل مطلوب چیز حق کا اتباع ہے۔ مومن وہ ہے جو حق کو شعوری طور پر دریافت کرے اور پھر عملاً اُس پر قائم ہو جائے ۔ مگر یہ فیصلہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں۔

شخص اتباع حق کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ فیصلہ ایک ایسی دنیا میں ہوتا ہے جہاں طرح طرح کے مسائل کبھی کوئی خارجی چیز اس کی خواہش (desire) یا اس کی انا (ego) کو بھڑکاتی ہے اور اس کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی خواہش سے متاثر ہو کر حق کے راستے سے ہٹ جائے۔ کبھی خارجی مشکلات سے اس کے ارادے میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ اس کو دوبارہ ثابت قدمی پر آمادہ کیا جائے۔ ایمانِ کامل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے رب سے جو عہد کیا تھا اس کی اس نے عملی تصدیق کر دی۔ وہ ہر حال میں اپنے ایمانی اقرار پر ثابت قدم رہا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل یہ ہے : اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے ناپسند کرنا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4599)۔

آدمی کے اندر سب سے زیادہ طاقتور جذبہ محبت اور ناپسندیدگی کا جذبہ ہے۔ آدمی کے تمام اعمال انهيں دونوں جذبات کے زیر اثر واقع ہوتے ہیں۔ یہ جذبات اللہ کے تابع ہوں تو آدمی کی زندگی اسلامی زندگی بنے گی، اور اگر یہ جذبات غیر خدا کے تابع ہوں تو آدمی کی زندگی غیر اسلامی زندگی بن جائے اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی انسان کا سب کچھ ہو جائے ۔ وہ اپنی محبت، دشمنی اور انا، وغیرہ جیسے جذبات کو مکمل طور پر اللہ کے حکم کے تابع کر دے۔ یہ اللہ کے نزدیک افضل ترین عمل ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلم وہ ہے جس کی زبان سے اور اس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں۔ اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملہ میں محفوظ ہوں (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2627؛ سنن النسائی، حدیث نمبر 4996)۔ مسند احمد (حدیث نمبر 7086) میں ”مسلم“ کی جگہ ”الناس“ کا لفظ ہے۔ یعنی تمام انسان کی جان و مال محفوظ ہو ۔ مومن و مسلم کون ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو اس حقیقت کو دریافت کرے کہ خدا اس کا خالق و مالک ہے اور موت کے بعد آخرت کی دنیا میں وہ اس کے سارے کارنامہ حیات کا حساب لے یہ عقیدہ مومن کے اندر آخرت کی پکڑ کا شدید اندیشہ پیدا کر دیتا ہے۔ یہ اندیشہ اس کو مجبور کر دیتا ہے

کہ وہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں پوری طرح محتاط رہے۔ وہ اپنی زبان سے لوگوں کو تکلیف نہ انسانی حقوق کے معاملہ میں وہ کسی کو شکایت کا موقع نہ دے۔ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے بچانے کا جذبہ اس کو انسانوں کے معاملہ میں آخری حد تک بے ضرر بنا دیتا ہے۔ یہ روایت الپہقی نے فضالہ بن عبید کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے: مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو چھوڑ دے (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 10611)۔

جہاد کا اصل محرک اللہ کی پکڑ کا اندیشہ ہے۔ اس لیے حقیقی مجاہد وہ ہے جو سب سے پہلے خود اپنی ذات کے ساتھ جہاد کرے، وہ اپنے نفس کو زیر کر کے اپنی زندگی کو خدا کے تابع بنادے۔ اسی طرح ہجرت (ترک) کا محرک بھی خدا کا خوف ہے۔ اصلی مہاجر وہ ہے جس کو خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہر گناہ کو چھوڑنے پر مجبور کردے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ہمیں خطاب کرتے تو بہت کم ایسا ہوتا کہ وہ یہ نہ فرمائیں: اس کا ایمان نہیں جس کے اندر امانت نہ ہو۔ اور اس کا دین دین نہیں جس کے اندر عہد کی پابندی نہ ہو (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 4354؛ مسند احمد، حدیث نمبر 12383)۔

جب ایک آدمی ایمان و اسلام کو اختیار کرے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر اس کی زندگی میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک با اصول انسان بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے ناممکن ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایسا رویہ اختیار کرے جو امانت (trust) کے خلاف ہو۔ عہد کرنے کے بعد عہد کا توڑنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے اس نے خود اپنے آپ کو توڑ ڈالا۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اس پر اللہ نے جہنم

کی آگ کو حرام کردیا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 29؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2638)۔ قول اور شہادت یا کہنے اور گواہی دینے میں یہ فرق ہے کہ قول صرف زبان سے ہوتا ہے مگر شہادت وہ ہے جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو جائے۔ جس کو دل کے پورے اطمینان اور ذہن کی کامل تصدیق کے ساتھ انجام دیا جائے۔ ایسی شہادت آدمی کی پوری شخصیت کا احاطہ کیے ہوئے ہوتی وہ جب کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو یہ اس کے لیے صرف ایک زبانی قول نہیں ہوتا بلکہ اس واقعہ کا اعلان ہوتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے بارے میں ایک نیا انقلابی فیصلہ کیا ہے۔ ایک ایسا فیصلہ جس سے اس کی زندگی کا کوئی بھی پہلو اور کوئی بھی شعبہ خالی نہیں۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص پر موت آئے اور وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 26)۔ اس حدیث میں علم کا لفظ آیا ہے۔ کوئی لفظ کبھی اپنے ابتدائی مفہوم میں ہوتا ہے اور کبھی اپنے انتہائی مفہوم میں۔ یہاں علم کا یہ لفظ اپنے انتہائی مفہوم میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اس حقیقت واقعہ کو کامل طور پر جان لے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اور معبود صرف ایک اللہ ہے۔ اور یہ جاننا اتنا بھرپور ہو کہ اسی کے مطابق اس کی زندگی گزرے اور اسی پر اس کی موت آئے تو ایسا انسان خدائی قانون کے مطابق اس کا مستحق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کیا جائے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو چیزیں لازم کرنے والی ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول، دو لازم کرنے والی چیزیں کیا ہیں۔ نے فرمایا کہ جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرتا تھا تو وہ جہنم میں اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 93)۔

خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا

سب سے بڑی نیکی۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ کسی چیز کو اپنا سب کچھ بنائے ۔ اس کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام دے۔ اپنے خوف اور محبت کے جذبات کو سب سے زیادہ اس کے ساتھ وابستہ کرے ۔ وہی اس کے لیے اعتماد اور توکل کا سر چشمہ ہو۔ یہ درجہ صرف ایک خدا کو دینا توحید ہے۔

اور خدا کے سوا کسی اور سے اس قسم کی وابستگی اختیار کرنا شرک ہے۔ خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ اس کی دنیا میں اہلِ توحید کو نجات ملے اور اہلِ شرک فلاح و نجات سے محروم ہو کر رہ جائیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ اس مجلس میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھے۔ پھر آپ نے واپسی میں دیر لگائی تو ہم کو اندیشہ ہوا کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچ گیا ہو۔ پس ہم گھبرا گئے اور ہم اٹھ گئے۔ اور میں گھبرانے والوں میں پہلا شخص پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے ہوئے نکلا۔ یہاں تک کہ میں بنو نجار سے تعلق رکھنے والے ایک انصار کے باغ تک پہنچا۔ باغ کے چاروں طرف دیوار تھی۔ میں دیوار کے ارد گرد گھوما کہ کیا اس کا کوئی دروازہ ہے، مگر میں نے نہیں پایا۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک نالی ہے جو ایک بیرونی کنویں سے اندر جارہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کوشش کی، یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ ابو ہریرہ؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول۔ آپ نے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ہمارے درمیان تھے۔ پھر آپ اٹھے اور واپسی میں دیر کی ۔ اس سے ہم کو اندیشہ ہوا کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچ گیا ہو۔ پس ہم گھبرا گئے۔ اور میں گھبرانے والوں میں پہلا شخص تھا۔ پس میں اس باغ اس میں میں داخل ہوا جس طرح لومڑي داخل ہوتی ہے۔ دوسرے لوگ میرے پیچھے آپ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ — اور آپ نے اپنے دونوں جوتے مجھے دے دیے — پھر آپ نے فرمایا کہ تم میرے ان دونوں جوتوں کے ساتھ جاؤ۔ اور اس باغ کے اُدھر جو تم کو ملے جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس پر قلبی یقین رکھتا ہو تو تم اس کو جنت کی خوش خبری

تو سب سے پہلے جن سے ملا، وہ عمر فاروق تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دونوں جوتے کس کے ہیں، اے ابو ہریرہ۔ میں نے کہا کہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے ہیں، آپ نے مجھے ان دونوں کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں جس ایسے شخص سے ملوں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اس پر قلبی ایمان رکھتا ہو تو میں اس کو جنت کی خوش خبری دے دوں۔ (یہ سنتے ہی) عمر نے میرے سینے پر اتنے شدت سے مارا کہ میں پیچھے کی طرف گر گیا۔ انھوں نے کہا کہ اے ابو ہریرہ واپس چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا، اور میری حالت رونے والی ہو رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ تجھ کو میں نے کہا کہ میں عمر فاروق سے ملا اور ان کو اس بات کی خبر دی جس بات کو لے کر آپ نے مجھے بھیجا تھا۔ تو انھوں نے میرے سینے پر اتنی شدت سے مارا کہ میں پیچھے کی طرف گر گیا۔ نے کہا کہ واپس جاؤ۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر تم نے ایسا کیوں کیا۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، کیا آپ نے ابو ہریرہ کو اپنے دونوں جوتوں کے ساتھ بھیجا تھا کہ جو یہ گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس پر قلبی یقین رکھتا ہو تو اس کو جنت کی خوش خبری دے دو۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ عمر نے کہا کہ ایسا نہ کیجیے۔ کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ اس پر بھروسہ کر لیں گے۔ تو انھیں چھوڑ دیجیے کہ وہ عمل کرتے رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انھیں چھوڑ دو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 31)۔ کوئی خارجی یا مقداری عمل جنت کی قیمت نہیں۔ جنت کی قیمت انسان کا اپنا وجود ہے۔ آدمی خدا کو اس طرح پائے کہ اس کی ہستی پوری طرح خدا کے رنگ میں رنگ جائے۔ خدا کے سوا کوئی چیز اس کا کُنسرن نہ رہے۔ وہ اپنے پورے دل و دماغ کے ساتھ خدا والا بن جائے تو یہی وہ انسان ہے جس کے لیے جنت میں داخلے کا فیصلہ کیا جائے۔

حضرت عمر فاروق کا قول عوام کی نسبت سے تھا۔ انھوں نے بجا طور پر محسوس کیا کہ عوام اس گہری حقیقت کو نہیں سمجھیں گے۔ اور صرف زبان سے شہادت کے الفاظ بول دینے کو نجات کے لیے کافی سمجھنے لگیں گے۔ اور پھر اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کر لیں گے۔ پیغمبر اسلام کا قول اگر بیان حقیقت تھا تو عمر فاروق کا قول رعایتِ عوام۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جنت کی کنجیاں ہیں ۔ یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 22102)۔ لا الہ الا اللہ کی گواہی (شہادت) دینا یہ ہے کہ آدمی کا پورا وجود اس حقیقت کا زندہ اعلان بن جائے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی نہیں جو عبادت کا حق دار ہو۔ شہادت کا مطلب آدمی کی پوری ہستی کا اس ربانی حقیقت میں ڈھل جانا ہے۔ جو شخص اس کی شہادت کا ثبوت دے اس کے حق میں خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ جنت کے تمام دروازے اس کے لیے کھول دیے جائیں۔

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بہت زیادہ غم گین ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض افراد کے اندر وسوسہ پیدا ہو گیا۔ عثمان کہتے ہیں کہ میں ان میں سے ایک تھا۔ پھر جب کہ میں بیٹھا ہوا تھا، عمر میرے سامنے سے گزرے۔ انھوں نے سلام کیا مگر مجھے اس کا احساس نہیں ہوا۔ عمر نے اس کا ذکر ابو بکر اس کے بعد وہ دونوں میرے پاس آئے اور دونوں نے مجھ کو سلام کیا۔ ابو بکر نے کہا کہ کیوں ایسا ہوا کہ تم نے اپنے بھائی عمر کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا۔ عمر نے کہا کہ ہاں خدا کی قسم تم نے ایسا کیا ہے۔ عثمان کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ خدا کی قسم، مجھے خبر نہیں ہوئی کہ تم گزرے اور تم نے مجھ کو سلام کیا۔ ابو بکر نے کہا کہ عثمان نے سچ کہا۔ (پھر ابو بکر نے عثمان سے پوچھا کہ ) کیا تم کو کسی چیز نے اس سے بے خبر رکھا۔ میں نے کہا: ہاں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اللہ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، اس سے پہلے کہ ہم آپ سے نجات کے بارے میں دریافت کریں۔ ابو بکر نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں آپ سے پوچھا تھا۔ نے کہا کہ یہ سن کر) میں ابو بکر کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان، اس بارے میں سوال کرنے کے لیے آپ لائق تھے۔ ابو بکر نے کہا کہ میں نے پوچھا تھا کہ اے اللہ کے رسول، اس معاملہ میں نجات کی کیا صورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ سے کلمہ توحید کو قبول کرلے ۔ جو میں نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا مگر انھوں نے اس کو قبول

کرنے سے انکار کر دیا ــــ تو یہی اس کی نجات کا ذریعہ ہوگا (مسند احمد، حدیث نمبر 20)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب ایک مشرکانہ عقیدہ پر تھے۔ اسی سے ان کی پوری عملی اس کے بعد رسول اللہ نے ان کے سامنے توحید کا عقیدہ پیش کیا۔ یہ سادہ طور پر ایک لفظی مجموعہ کو زبان سے دہرانے کا معاملہ نہ تھا، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابو طالب فکر و عمل کے ایک طریقہ کو چھوڑ کر فکر و عمل کے دوسرے طریقہ کو اختیار کر لیں۔ مگر وہ اپنی زندگی میں اس قسم کی تبدیلی کے لیے تیار نہیں یہی اصول دوسروں کی نجات کے لیے بھی ہے۔ جو آدمی اپنے عقیدہ و عمل کو کلمہ توحید کی بنیاد پر تشکیل دے وہی اللہ کے یہاں نجات پائے گا، اور جو ایسا نہ کر سکے وہ نجات سے محروم رہے گا۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ زمین کی سطح پر کوئی خیمہ یا گھر باقی نہیں رہے گا مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلیل كي ذلت کے ساتھ۔ اللہ یا تو انہیں عزت دے گا اور ان کو کلمہ والوں میں سے بنادے گا۔ یا وہ ان کو ذلیل کرے گا پھر وہ اس کی اطاعت کریں گے۔ نے کہا کہ پھر سارا دین اللہ کے لیے ہی ہو جائے گا (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ اس حدیث میں غالباً اُس واقعے کی پیشین گوئی ہے جو صنعتی انقلاب کے بعد ظہور میں آیا۔ حدیث کے مطابق ، یہ بات پیشگی طور پر مقدر تھی کہ اسلام کا پیغام ساری دنیا میں ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے۔ اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے کمیونی کیشن کے وہ جدید ذرائع درکار تھے جو صرف موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب کے بعد ظہور میں آئے ہیں۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ اسلام کی ایسی عمومی اشاعت کی جائے کہ کوئی گھر اس سے بچا ہوا نہ ہو۔ (process) آج تیزی سے جاری ہو چکا ہے۔ جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے جب کہ حدیث کی پیشین گوئی لفظی طور پر پوری طرح وقوع میں آجائے۔

اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر ہے اس سے مراد ساری دنیا میں پیغام اسلام کی اشاعت ہے، نہ کہ ساری دنیا کے اوپر اہل اسلام کا سیاسی غلبہ۔ اس حدیث میں کلمۂ اسلام سے مراد قرآن

یعنی قرآن کو ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچایا جائے۔ گھر سے مراد صرف رہائش گاہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تعلیم گاہ، ہر لائبریری، ہر ادارہ، ہر ہوٹل، وغیرہ میں اس کو پہنچا اسلام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا اپنے رب کے احکام سے باخبر ہو جائے، نہ یہ کہ سارے انسان کے اوپر کسی ایک گروہ کی حکومت قائم ہو جائے۔

وہب بن منبہ سے پوچھا گیا کہ کیا لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے؟ انھوں نے کہا کہ مگر ہر کنجی کے دندانے ہوتے ہیں۔ پس اگر تم ایسی کنجی لے کر آئے جس میں دندانے ہیں تو تمھارے لیے وہ کھل جائے گا، ورنہ وہ تمھارے لیے نہیں کھلے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1237)۔ وہب بن منبہ تابعی (وفات 114ھ) نے کنجی کے ساتھ دندانہ کی شرط لگائی ہے۔ تمثیل کی زبان میں بتایا ہے کہ شہادت کے کلمہ سے مراد صرف اس کی لفظی ادائیگی نہیں ہے بلکہ کلمہ کو اس کے فکری اور عملی تقاضوں کے ساتھ اختیار کرنا ہے۔ ان تقاضوں کے بغیر کلمہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دندانے کے بغیر کنجی۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جو اپنے اسلام کو درست کرے۔ تو ہر وہ نیکی جس کو وہ کرے گا تو وہ اس کے لیے دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک لکھی جائے گی۔ اور ہر وہ برائی جس کو وہ کرے گا تو وہ اس کے لیے اسی کے برابر لکھی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 42؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 129)۔ ایک شخص جو دل سے مومن ہو اس سے اگر کبھی کوئی برائی سرزد ہوتی ہے تو اس کا محرک صرف ایک ہوتا ہے اور وہ ہے وقتی طور پر نفسانی جذبہ سے مغلوب ہو جانا۔ گویا کہ مومن کی ہر برائی اپنے درجے کے اعتبار سے ایک اتفاقی برائی ہوتی ہے اس لیے اس کے نامهٔ اعمال میں بھی وہ صرف ایک درجہ کی برائی کے طور پر لکھی جاتی ہے۔

مگر مومن کی نیکی مثبت جذبہ کے تحت ہوتی ہے۔ اس بنا پر کیفیت کے اعتبار سے اس میں

فرق ہوتا رہتا ہے ۔ مثال کے طور پر مومن کبھی عادت کے تحت روٹین کی نماز پڑھتا ہے ۔ کبھی وہ نماز اس طرح پڑھتا ہے کہ اس میں خشوع کی کیفیت بھی شامل ہو جاتی ہے ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خشوع اور انابت کی کیفیت بے حساب حد تک بڑھ جاتی ہے ۔ اس طرح کیفیات کے فرق کی نسبت سے مومن کی نیکی اس کے اعمال میں کبھی معمول کی نیکی کے طور پر لکھی جاتی ہے اور کبھی غیر معمولی اضافوں کے ساتھ سیکڑوں گنا یا ہزاروں گنا زیادہ بڑی نیکی کی حیثیت سے ۔

ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہے ، آپ نے فرمایا کہ جب تم کو اپنی نیکی سے خوشی ہو اور تم کو اپنی برائی سے تکلیف پہنچے ۔ اس وقت تم مومن ہو ۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، گناہ کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ جب تمہارے دل میں کوئی چیز کھٹکے تو اس کو چھوڑ دو ( مسند احمد ، حدیث نمبر 22166 ) ۔

ایمانی شعور جب حقیقی معنوں میں کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کی غفلت کو توڑ دیتا وہ اس کی بے حسی کو ختم کر کے اس کو ایک حساس انسان بنا دیتا ہے ، اس کی یہ ایمانی حساسیت ہر لمحہ اپنا کام کرتی رہتی ہے ۔ نیکی کے فعل پر اس کو خوشی جیسے احساس کا تجربہ ہوتا ہے اور اگر اس سے برائی سرزد ہو تو اس کی اندرونی حساسیت فوراً بیدار ہو کر اس کو ملامت کرنے لگتی ہے ۔ میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ مومن اپنے دل کو رہنما بنالے ۔ جس کام پر دل مطمئن ہو اس کو کرے اور جس کام پر دل مطمئن نہ ہو اس کو چھوڑ دے ۔

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول اس کام میں آپ کے ساتھ کون ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک میں نے کہا کہ اسلام کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا بول بولنا اور کھانا کھلانا ۔ میں نے کہا کہ ایمان کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ صبر اور روادار ی ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ افضل اسلام کون

آپ نے فرمایا کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کون سا ایمان افضل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا اخلاق۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کون سی نماز افضل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ لمبا خشوع۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ افضل ہجرت کون سی آپ نے فرمایا کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جس کو تمہارا رب ناپسند کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کون سا جہاد افضل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں اور اس کا خون بہا دیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ افضل گھڑی کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ آخری رات کی تہائی (مسند احمد، حدیث نمبر 19435)۔

اس حدیث میں افضل اعمال کی جو مختلف صورتیں بتائی گئی ہیں وہ ایک ہی حقیقت کی مختلف ایک انسان کے اندر جب ایمان کا گہرا شعور پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات اس کی زندگی کے مختلف شعبوں میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اسی راہ میں قربان ہو جاتا ہے جو گویا اس کے ایمانی عہد کا آخری ثبوت ہے۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کیا تھا اور اس نے پانچوں نمازیں پڑھی ہوں اور رمضان کے روزے رکھے ہوں۔ تو اس کو بخش دیا جائے گا۔ نے کہا کہ میں لوگوں کو اس کی خوش خبری نہ دے دوں۔ آپ نے فرمایا کہ انھیں چھوڑ دو کہ وہ عمل کرتے رہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 22028)۔

اس حدیث میں اسلام کی تین بنیادی تعلیمات کا ذکر ہے۔ کلمہ، نماز اور روزہ۔ حقیقت معرفت خدا وندی ہے۔ نماز کی حقیقت خشوع و خضوع کی حد تک تعلق باللہ ہے۔ حقیقت ضبط نفس کی حد تک جا کر مسلم بن جانا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفات پیدا ہو جائے وہ صرف تین معنوں میں نہیں بلکہ تمام معنوں میں خدا کا سچا بندہ بن جائے گا۔

معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کی بابت آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کے لیے پسند کرو اور تم اللہ کے لیے ناپسند کرو۔ اور اپنی زبان کو اللہ کی ذکر میں مشغول رکھو۔ انہوں نے کہا کہ اور کیا، اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو اور تم دوسروں کے لیے بھی اس چیز کو ناپسند کرو جس کو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو (مسند احمد، حدیث نمبر 22130)۔

افضل ایمان سے مراد اعلیٰ ایمان ہے۔ یہ اعلیٰ ایمان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ آدمی کا ایمان صرف لفظی اقرار کے ہم معنی نہ ہو، بلکہ وہ شعوری دریافت اور داخلی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہو۔ اس قسم کا ایمان جب کسی کو ملتا ہے تو اس کے اندر وہی روحانی اور اخلاقی صفات پیدا ہوجاتی ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ’’اللہ کے لیے ناپسند کرو اور تم اللہ کے لیے ناپسند کرو‘ کا مطلب یہ ہے کہ محبت اور نفرت، وغیرہ کے جذبات کو اپنی خواہش کے تابع کرنے کے بجائے مکمل طور پر اللہ کے تابع کرنا۔ واقعہ افک کے موقع پر حضرت عائشہ کے خلاف الزام لگانے والوں میں ایک صاحب مسطح بن اثاثہ وہ ایک مفلس مہاجر اور حضرت ابوبکر کے دور کے رشتہ دار تھے۔ حضرت ابوبکر ان کی مالی مدد کرتے حضرت عائشہ ابوبکر کی صاحب زادی تھیں۔ قدرتی طور پر حضرت ابوبکر کو مسطح بن اثاثہ کے عمل سے آپ نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کی کوئی مدد نہ کریں گے۔

لیکن قرآن میں حکم اترا— تم میں سے جولوگ صاحب مال ہیں وہ ذاتی شکایت کی بنا پر بے مال لوگوں کی امداد بند نہ کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا تم کو معاف کردے۔ اگر تم اپنے لیے خدا سے معافی کے امیدوار ہو تو تمھیں بھی دوسروں کے بارے میں معافی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے (24:22)۔ سن کر حضرت ابوبکر نے کہا: ہاں، خدا کی قسم، میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کردے۔ اور دوبارہ مسطح کی امداد جاری کردی (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 4-303)۔ مومن کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت خدا کی رضا ہوتی ہے۔ خدا کا حکم سامنے آتے ہی وہ فوراً جھک جاتا ہے، خواہ خدا کا حکم اس کی خواہش کے سراسر خلاف کیوں نہ ہو۔

Printed page