Al-Risala · January 2024

سفرِ معرفت

Al-Risala, January 2024, pp. 11–23

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے ذہن میں پیدائش کے بعد شعوری یا غیر شعوری طور پر سب سے پہلے جو خیال آتا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کا خالق کون ہے۔ اسی تصور کو لے کر تقریباً پانچ ہزار سال پہلے فلسفیانہ غور و فکر کا آغاز ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے تمام بڑے بڑے دماغ اس غور و فکر میں مشغول ہوئے۔ عجیب بات ہے کہ فلسفیانہ غور و فکر کسی فلسفی کو اپنے سوال کے جواب تک نہ پہنچا سکا۔ برٹرینڈ رسل (1970–1872ء) ایک مشہور فلسفی تھا۔ وہ اپنی ساری عمر اس موضوع کے مطالعے میں مگر ساری عمر کے مطالعے کے باوجود اس کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملا۔ اس کے ایک کمنٹیٹر نے اس کے بارے میں درست طور پر لکھا ہے:

"Bertrand Russell was a philosopher of no philosophy."

حقیقت یہ ہے کہ یہ بات تمام فلسفیوں کے بارے میں درست ہے۔ ہر فلسفی عملاً فلاسفر آف نو فلسفی تھا۔ ہر فلسفی کا موضوع یہ تھا کہ وہ سچائی کیا ہے، اس سوال کا جواب فلسفیانہ فریم ورک میں مگر کوئی بھی فلسفی اپنی اس تلاش میں کامیاب نہیں ہوا۔ سچائی کا فلسفیانہ جواب ہزاروں سال کے تلاش کے باوجود نا معلوم رہا۔

ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان نے سوال کو تو جانا۔ لیکن وہ اس سے بے خبر رہا کہ اس سوال کا جواب پانے کے لیے صحیح طریق مطالعہ (methodology) کیا ہے۔ حالاں کہ جتنی اہمیت کسی سوال کی ہے۔ اتنی ہی اہمیت اس سوال کا جواب پانے کے لیے صحیح طریق مطالعہ (methodology) کی ہے۔

راقم الحروف کو اس سوال کا جواب قرآن میں ملا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے اللہ رب العالمین نے اس میتھڈالوجی کو اشارہ کی زبان میں بتا دیا تھا۔ عالم یا فلسفی اس کو متعین طور پر جان نہ سکا۔ قرآن کا جواب سورہ الاعراف میں اس طرح ملتا ہے۔ موسیٰ مصر سے نکلنے کے بعد جب صحرائے سینا میں پہنچے تو وہاں ماؤنٹ سینائی (Mount Sinai)

کے مقام پر ان پر ایک تجربہ گزرا۔ پیغمبر موسیٰ کے اوپر یہ تجربہ ایک اندازے کے مطابق پندرھویں صدی قبل مسیح کے نصف ثانی میں گزرا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (7:143) ۔ یعنی اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھادے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو تم بھی مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا، اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔

پیغمبر موسیٰ کے اس تجربے میں ایک علمی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ انسان موجودہ دنیا میں خدا کو براہ راست طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ رب العالمین کو دیکھنے کی صورت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ انسان مخلوقات میں غور وفکر کر کے استنباط (inference) کے بذریعہ اس کے خالق کی دریافت یہی وہ نکتہ ہے، جس کی وجہ سے علم حقیقت کا سفر اپنی منزل تک نہ پہنچ سکا۔ خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہیں، بلکہ دونوں مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں صحیح میتھڈالوجی صرف یہ ہے کہ انسان پہلے یہ دریافت کرے کہ خالق اور مخلوق دونوں الگ الگ ہیں، اور پھر مخلوق یعنی کائناتی نشانیوں میں غور وفکر کر کے ذریعہ استنباط خالق کو دریافت کرے۔ مگر یہاں یہ واقعہ انسان کے لیے ایک رکاوٹ بنا رہا کہ اس کو یہ طریقہ معلوم نہ تھا کہ وہ خالق کو الگ کر کے مخلوق کو کس طرح دریافت کرے۔

یہ ڈی لنکنگ (delinking) کا معاملہ تھا۔ یعنی ضرورت تھی کہ انسان خالق کا مطالعہ اور مخلوق کے مطالعہ کو ایک دوسرے سے ڈی لنک کرے۔ مگر انسان کو قدیم زمانے میں یہ معلوم نہ تھا کہ وہ ڈی لنکنگ کی پالیسی کو عملاً کس طرح اختیار کرے۔ یہ واقعہ اٹلی کے سائنس داں گلیلیوگلیلی

(وفات 1642ء) نے انجام دیا۔ جرمن سائنس داں البرٹ آئنسٹین (1955-1879ء) نے درست طور پر لکھا ہے کہ گلیلیو جدید سائنس کا بانی تھا:

“Galileo was the father of modern science.”

آئنسٹائن کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ گلیلیو سے پہلے سائنس بیک وقت دو قسم کے خیالات میں الجھی ہوئی تھی۔ یعنی حقیقت کا قابلِ مشاہدہ پہلو (observable aspect) اور ناقابلِ مشاہدہ پہلو (non-observable aspect)۔ دوسرے لفظوں میں کیفیاتی (qualitative) پہلو اور کمیاتی (quantitative) پہلو۔ گلیلیو نے دونوں کو ایک دوسرے سے ڈ ی لنک کر دیا۔ مشاہدہ پہلو کو فلسفیانہ تلاش کے خانے میں رکھا، اور قابلِ مشاہدہ پہلو کو سائنس کی تلاش کے دائرے میں ڈال دیا۔ اس سے پہلے سائنس کا سفر گویا کہ ایک بند دروازے میں رکا ہوا تھا، گلیلیو نے اس بند دروازے کو کھول دیا۔

گلیلیو اس دریافت تک کس طرح پہنچا۔ اس کا بھی ایک سبب تھا۔ گلیلیو کے زمانے میں دوربین (telescope) ابتدائی طور پر دریافت ہوئی ۔ گلیلیو نے پہلی بار 1610ء میں اس کے ذریعے سیاروں کی گردش کا براہِ راست مطالعہ کیا۔ اس طرح شمسی نظام (solar system) کا براہِ راست مطالعہ کا آغاز ہوا۔ اسی کے ساتھ سائنس کا ایک نیا دور شروع ہو گیا، جس میں پوری فیزیکل ورلڈ ایک قابل مطالعہ چیز بن گئی۔

اس اعتبار سے گلیلیو نہ صرف فادر آف ماڈرن سائنس ہے، بلکہ وہ بالواسطہ طور پر فادر آف ماڈرن علم کلام بھی ہے۔ کیوں کہ گلیلیو سے پہلے علم کلام صرف تکنیکل بحثوں میں الجھا ہوا تھا، وہ کسی حقیقت کو دریافت نہیں کر پایا تھا۔ لیکن گلیلیو کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ علم کلام کو ایک نئے دور میں پہنچایا جا سکے، یعنی وہ دور جس کو قرآن میں تبیین حق کا دور بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی متعلقہ آیت (41:53) کا ترجمہ یہ ہے: عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ (علم کلام کی تفصیل کے لیے دیکھیے، ماہنامہ الرسالہ، اپریل 1978، بعنوان: علم کلام کی حقیقت)۔

جدید سائنسی دور سے پہلے انسان کائناتی نشانیوں کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔

زمانے میں معرفت اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ اسی انقلاب کا یہ نتیجہ ہے کہ بیسویں صدی میں علم الہیات میں بہت سے نہایت قابل قدر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نمائندہ کتاب وہ ہے، جس کا عربی ترجمہ اس معنی خیز عنوان کے ساتھ چھپا ہے — اللہ يتجلى فى عصر العلم (مترجم ڈاکٹر الدمرداش عبدالمجید سرحان)۔ اصل کتاب کا انگریزی ٹائٹل حسب ذیل ہے:

“The Evidence of God in an Expanding Universe.”

اس اعتبار سے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم الہیات یا علم کلام کے معاملے میں گلیلیو گلیلی کا کارنامہ ایک تائیدی کارنامہ ہے۔ غالباً اسی تائید کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 1096)۔ یعنی اللہ تعالیٰ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعہ کرے گا۔

میرا قیاس ہے کہ یہاں "الرجل الفاجر" سے مراد سیکولر انسان ہے، اور یہ سیکولر انسان غالباً گلیلیو و اللہ اعلم بالصواب۔ گلیلیو گلیلی کی اس دریافت کے بعد بیک وقت علم کے دو دروازے کھلے۔ ایک دروازہ تھا فیزیکل سائنس کا ڈیولپمنٹ، اور دوسرا دروازہ تھا علم الہیات کا دروازہ، جو اس سے پہلے کلامی موشگافیوں میں پھنسا ہوا تھا۔ اس کو ایک تسلیم شدہ علمی بنیاد حاصل ہوئی۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اس علمی بنیاد کو استعمال کرکے علم الہیات کو دورِ جدید میں نئی طاقت کے ساتھ مرتب کیا جاسکے۔ توحید کا آغاز معرفت (realisation) سے ہوتا ہے۔ یعنی کائناتی نشانیوں میں تدبر و تفکر کرکے خدا کو خالق و مالک کی حیثیت سے دریافت کرنا۔ قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نشانیاں (signs) اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی کوئی گنتی نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ لامحدود کائناتی نشانیاں ہیں جن پر تدبر کرکے انسان اپنے رب کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ یہ تدبر پہلے روایتی فریم ورک میں کیا جاتا تھا۔ گلیلیو کے بعد تدبر کا یہ عمل سائنسی فریم ورک میں کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ طرح آج ایک انسان کے لیے یہ بات اعلیٰ پیمانے پر ممکن ہوچکی ہے کہ وہ اللہ کی بے پایاں عظمت کو دریافت کرکے اس کے آگے جھک جائے۔

شرح مشکوٰۃ المصابیح ( حدیث نمبر 109-96)

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس وقت آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں ۔ آپ نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو یہ دو کتابیں کیا ہیں۔ ہم نے کہا کہ نہیں اے خدا کے رسول ، الا یہ کہ آپ ہمیں بتائیں ۔ پھر آپ نے داہنے ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ ایک کتاب ہے جو رب العالمین کی طرف سے ہے۔ اس میں اہل جنت کے نام ہیں ، ان کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں۔ پھر ان کی کل تعداد آخر میں درج کر دی ہے، اب ان میں نہ کبھی زیادتی ہوگی اور نہ کمی۔ پھر آپ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ یہ ایک کتاب ہے جو رب العالمین کی طرف سے ہے۔ اس میں اہل دوزخ کے نام ہیں ، اس میں باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں۔ پھر ان کی کل تعداد آخر میں درج کر دی ہے ۔ اب ان میں نہ کبھی زیادتی ہوگی اور نہ کمی ۔ پھر آپ کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول۔ پھر کس چیز میں عمل ، اگر سب کچھ ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اعتدال کے ساتھ سیدھی راہ پر چلنے کی کوشش رہو (سَدِّدُوا وَقَارِبُوا) ۔ کیوں کہ جو شخص جنت کا اہل ہے اس کا خاتمہ جنت والوں جیسے عمل پر ہی ہوگا اگر چہ وہ کوئی بھی عمل کرے۔ اور جو شخص دوزخ کا اہل ہے۔ اس کا خاتمہ دوزخ والوں جیسے عمل پر ہی ہوگا اگر چہ وہ کوئی بھی عمل کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا اور دونوں کو ایک طرف ڈال دیا۔ پھر آپ نے فرمایا : تمہارا رب اپنے بندوں سے فارغ ہو چکا ، ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ دوزخ میں (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2141)۔ حدیث کے یہ الفاظ (سَدِّدُوا وَقَارِبُوا) بتاتے ہیں کہ حدیث کا مطلب کیا ہے— اعتدال کے ساتھ سیدھی راہ پر چلنے کی کوشش کرتے رہو۔ یہی صابرانہ روش ہے۔ یہ کسی آدمی کے سنجیدہ مزاج

ہونے کی ایک علامت ہے۔ اس کا تعلق کسی ایک معاملے سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے اس کا تعلق ہے۔ جو آدمی اپنے قول وفعل میں اعتدال پر قائم رہے، وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ جذباتیت سے پاک ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو سوچ کر بولتا ہے اور جب کرتا ہے تو وہ سوچ سمجھ کر کرتا ہے، وہ سطحیت پسندی (superficiality) سے پاک ہے۔ اس کا کردار اس کی عقل کے تابع ہوتا ہے، نہ کہ اس کے جذبات کے تابع۔ ایسا ہی انسان اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو یہ نصیحت کی تھی کہ خود کو راہ راست پر رکھو، بے اعتدالی سے بچو، صبح وشام کی عبادت کرو، اور رات کے کچھ حصے میں۔ میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی (moderation) تم منزل تک پہنچ جاؤ گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6463)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں موجود مذکورہ کتاب میں درج ناموں سے مراد غالباً ذاتی نام نہیں ہیں بلکہ صفاتی نام ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اور جہنم کا فیصلہ جن صفات (اصول) پر کیا جانا مقدر ہے انھیں صفات پر اس کا فیصلہ ہوگا۔ کسی اور صفت یا کسی اور نسبت کی بنیاد پر کسی کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونے والا نہیں۔ اب اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ بدلنے والا نہیں۔ انسان پوری سنجیدگی اور اعتدال کے ساتھ ان صفات کو اپنانے کی کوشش کرے گا، اس کے بارے میں امید ہے کہ وہ ضرور اللہ کی نصرت اور رحمت سے جنت کا مستحق قرار پائے گا۔

ابو خزامہ تابعی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، وہ جھاڑ پھونک جو ہم کراتے ہیں اور دوا جس کے ذریعہ ہم علاج کرتے ہیں اور حفاظتی اسباب جس سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ اللہ کی تقدیر کو کچھ بدل دیتی آپ نے فرمایا کہ یہ خود اللہ کی تقدیر سے ہیں (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2065 ، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3437)۔

حدیث کے آخری الفاظ (هِيَ مِنْ قَدْرِ اللهِ) سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی حدیثوں کا مطلب اسباب دنیا کو اختیار کرنے سے روکنا نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق، خود اسباب میں

تاثیر(effect) بھی خدا کی مقدر کی ہوئی ہے، وہ ان اشیا کی ذاتی صفت نہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف آئے اور ہم تقدیر کے مسئلہ پر بحث کر رہے تھے۔ آپ غضبناک ہو گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ کے رخساروں پر انار کے دانے نچوڑ دیے گئے ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو اسی کا حکم دیا گیا ہے، کیا میں اسی کے ساتھ تمہارے پاس بھیجا گیا ہوں۔ تم سے پہلے کے لوگ تباہ کر دیے گئے جب کہ انھوں نے اس معاملے میں بحث کی۔ میں نے تمہارے اوپر لازم کیا کہ تم اس معاملے میں بحث نہ کرو (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2133)۔

تقدیر کا مسئلہ ایک بے حد نازک مسئلہ ہے۔ الہیات کے میدان میں قدیم زمانے سے یہ بحث جاری ہے کہ اس دنیا میں انسان آزاد ہے، یا مجبور۔ بظاہر انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے، لیکن جب خدا قادرِ مطلق ہے تو یہ بات نا قابل قیاس معلوم ہوتی ہے کہ خدا کی قدرتِ کاملہ کے درمیان انسان کو خود مختاری حاصل ہو۔ اس تصور پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ اردو شاعر میر تقی میر (وفات 1810ء) نے اسی بات کو اس طرح نظم کیا ہے:

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کرے ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا مگر یہ اعتراض ایک غیر معقول اعتراض ہے۔ کیوں کہ خدا کو اگر ہر قسم کا اختیار حاصل ہے تو اُس کو یقیناً یہ بھی اختیار ہے کہ وہ کسی مقام پر اپنی قدرت کو محدود کرلے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ رب العالمين کے آگے مکمل طور پر مجبور مخلوق ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبہ تخلیق کے تحت اپنی قدرت کو وقتی طور پر محدود کر لیا ہے، اور اس صفت اختیار (قدرت) کا ایک شمہ (iota) انسان کو محدود مدت کے لیے بطور عطیہ دے دیا ہے۔ موت گویا اس صفتِ اختیار کے خاتمہ کا اعلان ہے۔

یہ عطیہ ٹسٹ (test) کے لیے ہے۔ یعنی انسان اگر اپنے اختیار کا غلط استعمال (misuse) کرے تو اس کی پکڑ ہوگی، لیکن اگر وہ اختیار کا درست استعمال کرے تو اس کو انعام ملے گا۔

ساتھ انسان کو قلیل علم دیا گیا ہے (الاسراء، 85)۔ اپنی اس محدودیت کی بنا پر انسانوں کے لیے تقدیر کی تفصیلی تہہ تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اجمالی علم پر قناعت کرے۔ اس معاملے میں کلی علم کا حصول اس کے لیے ممکن نہیں۔ یہ قیاس بظاہر ایک نظری قیاس ہے۔ بلیک ہول کی دریافت نے اس قیاس کے لیے مظاہراتی سطح پر ایک عملی تصدیق فراہم کردی۔ بلیک ہول کا نظریہ تقدیر کے معاملے میں انسانی علم کی محدودیت کو قابل فہم بنارہا ہے۔ ایمسٹرڈم (نیدرلینڈس) میں ماہرین طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز (1980ء) پانے والے ایک سائنس داں مسٹر جیمس واٹسن (James Watson Cronin, 1931-2016) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ سیاہ مادہ (dark matter) پر مشتمل ہے۔ کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتا، اس لیے ہم اُس کو براہ راست طور پر دیکھ نہیں پاتے: "Dark matter can not be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation."

جیمس واٹسن نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے صرف 4 فی صد حصے کو جان سکتے ہیں:

"We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything." (The Times of India, September 23, 2007, p. 20)

بلیک ہول کا نظریہ تقدیر کے مسئلے میں انسانی علم کی محدودیت کو قابل فہم بنارہا ہے۔ ابن ماجہ نے بھی اسی طرح کی روایت عمروبن شعیب سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے اپنے دادا سے نقل کی ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 85)۔

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: اللہ نے آدم کو مٹھی بھر خاک سے پیدا کیا۔ اس کو اللہ نے ساری زمین سے لیا تھا۔ پس آدم کی

اولادِ زمین کے اندازے پر ہوئی ۔ ان میں سے کچھ سرخ ہیں اور کچھ سفید اور کچھ کالے کچھ اور کچھ نرم اور کچھ سخت اور کچھ ناپاک اور کچھ پاک ( مسند احمد، حدیث نمبر 19642 ؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2955 ؛ سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر 4693 ) ۔

انسانی جسم کے ترکیبی اجزاء عین وہی ہیں جو سیارہ زمین کے ترکیبی اجزاء ہیں۔ کے اندر جو روح ہے وہ غیر زمینی یا غیر مادی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے مادی وجود سے اوپر اٹھائے اور اپنے آپ کو ایک غیر مادی وجود کی حیثیت سے ترقی دینے کی کوشش کرے۔ اپنی روح کو اپنی اصل ہستی سمجھے اور اپنے جسم کو صرف ایک وقتی قیام گاہ کا درجہ دے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: "اللہ نے اپنی مخلوق کو ایک تاریکی میں پیدا کیا۔ پھر ان کے اوپر اپنے نور کا ایک حصہ ڈال دیا۔ جس نے اس نور میں سے پایا وہ ہدایت یاب ہوا۔ اور جس نے اس کو نہیں پایا وہ گمراہ ہوگیا۔ بنا پر میں ( عبداللہ بن عمرو یہ کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر قلم سوکھ گیا ہے ( مسند احمد، حدیث نمبر 6644؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2642 )۔

اس حدیث میں تمثیلی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے جسمانی وجود کی بقا کے لیے وہ اسباب کافی ہیں جو زمین پر پائے جاتے ہیں۔ مگر انسان کے روحانی وجود کی بقا اور ارتقا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کو خدا کے فیض سے خصوصی ربانی حصہ ملے۔ " اللہ کے علم پر قلم سوکھ گیا ہے"۔ یعنی اللہ کے علم کی بنیاد پر قلم کو جو کائناتٰی منصوبہ لکھنا تھا، وہ اس نے اللہ کے حکم سے لکھ دیا ہے، اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ــ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں (10:64)۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ کہتے تھے : " یا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ" (اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر

میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ پر ایمان لائے اور جو کچھ آپ لے آئے اس پھر کیا آپ ہمارے اوپر اندیشہ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ لوگوں کے دل خدا کی انگلیوں کے درمیان ہیں۔ وہ ان کو الٹا پلٹتا ہے جیسا کہ وہ چاہتا ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2140؛ سنن ابن ماجه 3834)۔

موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل طور پر ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے مگر اسی کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیت کے اعتبار سے آخری حد تک ایک عاجز مخلوق اس عجز کی بنا پر ہر وقت اس کے لیے اندیشہ ہے کہ کوئی بھی چیز اس کو حق سے ہٹا دے۔ عجز کا احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا سے بار بار حق پر ثابت قدمی کی دعا کرتا رہے۔ اس حقیقت کو ایک دوسری حدیث رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهُ قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6467)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا رویہ درست رکھو اور میانہ روی پر قائم رہو اور پُر امید رہو، کیوں کہ کسی بھی شخص کو اُس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ کہا کہ کیا آپ کو بھی نہیں اے خدا کے رسول، آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھ کو بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھ کو اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔

ان دونوں حدیثوں کو ملا کر پڑھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے حصول کے لیے اپنی کوشش کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے ثابت قدمی کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دل کی مثال ایسے پر (feather) کی ہے جو ایک کھلے میدان میں ہو۔ اس کو ہوائیں اوپر نیچے الٹ پلٹ کر رہی ہوں (مسند احمد ، حدیث نمبر 19758)۔

انسان اگر اپنے وجود اور اس اتھاہ کائنات کے درمیان تقابلی غور و فکر کرے تو اس کو یہ معلوم

ہوگا کہ لامحدود طور پر وسیع کائنات میں اس کی حیثیت ایک انتہائی عاجز مخلوق کی ہے۔ اسی طرح فکری اعتبار سے بھی وہ بے حد کمزور ہے ۔ یعنی ہر لمحہ وہ شیطان کے حملوں کے نشانہ پر رہتا ہے۔ میں وہی انسان شیطان کے فتنوں سے بچ سکتا ہے جس کا شعور پوری طرح زندہ ہو اور اسی کے ساتھ وہ مسلسل خدا سے اس کی مدد مانگتا رہے۔

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ چار چیزوں پر ایمان نہ لائے۔ وہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں اس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اور وہ ایمان لائے موت پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر اور وہ ایمان لائے تقدیر پر (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2145؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 81)۔

ایمان یہ ہے کہ آدمی دل سے یہ یقین کرے کہ زندگی کے سوالات کا صحیح جواب صرف وہ ہے جو خدا کے نزدیک ان کا صحیح جواب ہے۔ اور یہ جواب انسان کو خدا کے پیغمبر کے واسطہ سے ملتا ہے، نہ کہ براہ راست۔ قرآن اس سلسلے میں گائیڈ بک کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن میں خدا کی مطلوب زندگی کے بنیادی اصول بتا دیے گئے ہیں، اور حدیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دو قسم کے لوگ وہ ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ـــ مرجیہ اور قدریہ (سنن الترمذی، حدیث

مرجیہ سے مراد جبریہ ہیں، یعنی وہ لوگ ہیں جو بندے کو مجبور محض مانیں، یعنی جو کام بھی انسان کرتا ہے وہ اللہ کی قدرت کے تحت کرتا ہے، اس میں بندے کا کوئی اختیار شامل نہیں ہوتا۔ مقابلے میں قدریہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہ مانیں کہ انسان اپنے ہر فعل کا خالق خود ہے، وہ ہر فعل خود اپنی قدرت سے کرتا ہے، اس میں اللہ کی قدرت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ دونوں نظریات انتہا پسندی

پہلا نظریہ جبر میں انتہا پسندی کی پیداوار ہے اور دوسرا نظریہ اختیار میں انتہا پسندی کا۔ کہ اصل حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ اسی انتہا پسندی کا نام غلو ہے، اور غلو آدمی کو خدا کے دین سے ہٹا کر خود ساختہ دین پر کھڑا کر دیتا ہے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: میری امت میں بھی خسف (زمین میں دھنسنا) اور مسخ (صورت کا بگڑ جانا) ہوگا۔ اور یہ ان لوگوں پر ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4613 ؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2152)۔ تقدیر کو جھٹلانا اتنا بڑا جرم اس لیے ہے کہ ایسا آدمی گویا خدا کی قدرت اور اس کے علم کا انکار وہ خدا کو مانتے ہوئے خدا کو اس کا حقیقی درجہ نہیں دیتا۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ اس امت کے مجوس ہیں۔ پس اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کو مت جاؤ، اور اگر مریں تو ان کے جنازہ میں شرکت نہ کرو (مسند احمد، حدیث نمبر 5584 ؛ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4691)۔

قدریہ وہ لوگ ہیں جو یہ عقیدہ رکھیں کہ بندہ اپنا ہر عمل خود اپنی قدرت سے کرتا ہے، خدا کی قدرت کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ ایسے لوگوں کی مشابہت مجوسیوں (Zoroastrians) سے یہ ہے کہ مجوس خدا کے وجود کو دو ذات میں تقسیم کرتے ہیں۔ اسی طرح مذکورہ عقیدہ رکھنے والے لوگ گویا خدا کو اس کی قدرت سے الگ کر رہے ہیں۔ گویا کہ وہ دو قادر مان رہے ہیں، ایک خدا اور دوسرے انسان۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اہل قدر کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ رکھو اور نہ ان کے ساتھ کلام کرو (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4710)۔ اہل قدر سے مراد وہ لوگ ہیں جو تقدیر الہی کے منکر ہیں، اور تقدیر کے ان مسائل میں بہت زیادہ غور و فکر کرتے ہیں، جو علم قلیل (الاسراء، 17:85) کی حد سے باہر ہیں۔ ایسے لوگوں سے ملنے

جلنے اور بات کرنے میں یہ اندیشہ ہے کہ آدمی ذہنی انتشار (confusion) میں مبتلا ہو جائے اس لیے اس سے منع فرمایا۔ تاہم جو لوگ علمی صلاحیت رکھتے هوں وہ اصلاحی مقصد کے تحت ایسے لوگوں سے ملیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ آدمی ایسے ہیں جن پر میں لعنت کرتا ہوں اور اللہ نے بھی ان پر لعنت کی ہے، اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اللہ کی کتاب میں (اپنی طرف سے) اضافہ کرنے والا، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا، طاقت کے زور پر غلبہ حاصل کرنے والا تا کہ وہ اس شخص کو عزت دے جس کو اللہ نے (اس کی سرکشی کی وجہ سے) ذلیل کیا ہے اور وہ اس شخص کو ذلیل کرے جس کو اللہ نے عزت دی۔ اور اللہ کے حرام کو حلال کرنے والا، اور میری آل کے متعلق وہ باتیں حلال سمجھنے والا جنھیں اللہ نے حرام کیا۔ اور میری سنت سے منہ موڑنے والا (المدخل الى علم السنن للبیہقی، حدیث نمبر 146؛ السنة لابن ابی عاصم، حدیث نمبر 337)۔ اس حدیث میں جن کاموں کا ذکر ہے وہ سب سرکشی کی نوعیت کے جرم ہیں اور سرکشی بلاشبہ خدا اور رسول کے نزدیک سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ عام قسم کا جرم کسی نہ کسی بشری کمزوری کے زیر اثر ہوتا ہے۔ مگر سرکشی انانیت کے جذبہ کے تحت کیا جانے والا ایک فعل ہے، اور انانیت یا تکبر بلاشبہ خدا کی اس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے ٹسٹ (امتحان) کے لیے بنایا ہے۔ اسی ٹسٹ کی مصلحت کی بنا پر خدا نے انسان کو پوری آزادی عطا فرمائی ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹسٹ ممکن نہیں۔ ٹسٹ کس بات کا ہے۔ یہ ٹسٹ اس بات کا ہے کہ انسان حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرے، وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو بے آزاد کرلے۔ وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے وہ اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ یعنی آزادی کے باوجود اپنے اختیار سے خدا کے آگے جھک جانا۔ خدا کا اصل مطلوب دین یہی آزادانہ سرینڈر ہے۔ جو شخص اس طرح آزاد ہوتے ہوئے خدا کے آگے سرینڈر کرے وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت کا انعام پائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے وہ موت کے بعد کی زندگی میں جہنم میں داخل ہوگا۔

Printed page