Al-Risala · March 2024

1986 5 مئی

Al-Risala, March 2024, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

میری ایک خاتون رشتہ دار کا واقعہ ہے۔ اس کی شادی ہلدوانی میں ہوئی ہے۔ شادی کے بعد وہ اپنے سسرال میں بہت خوش رہتی تھی۔ والدہ مرحومہ کی بیماری کے زمانے میں ایک مرتبہ ان کو دیکھنے کے لیے ہمارے یہاں آئی تو اس وقت وہ بہت تندرست تھی اور ہر وقت بس ہنسے جارہی تھی۔ کل معلوم ہوا کہ اس کا دماغی توازن خراب ہو گیا ہے۔ اور وہ منٹل کیس کے طور پر آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (ایمس) میں داخل ہے۔ چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اس کو دیکھنے کے لیے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ گیا۔ وہاں بڑے کمرہ میں مریضہ کے بہت سارے رشتہ دار جمع تھے، جن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔

اس وقت ایک بڑا عجیب واقعہ ہوا۔ مریضہ جو دیوانگی کی حالت میں تھی اور عجیب عجیب حرکتیں کرتی تھی، وہ ہر ایک کو اس کے نام کے ساتھ پکار رہی تھی۔ مگر میرے ساتھ اس نے بالکل مختلف معاملہ جب میں مریضہ کے سامنے آیا تو مریضہ کی ماں نے مریضہ کو میرے بارے میں بتایا۔ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو اللہ والے ہیں۔ اس کے بعد وہ بار بار یہ جملہ دہراتی رہی: اللہ والے آئے ہیں، اللہ والے آئے ہیں۔

کچھ دیر کے بعد مریضہ نے کہا کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ چنانچہ لوگوں نے سلا کر اس کے پاؤں پر کمبل ڈال دیا۔ اس وقت بھی وہ کہتی رہی کہ اللہ والے آئے ہیں، اللہ والے آئے ہیں۔ میں ذاتی طور پر مبہوت کھڑا ہوا اس کو دیکھ رہا تھا۔ اور یہ سوچ رہا تھا کہ انسان بھی کس قدر عاجز ایک لمحہ میں کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔ دولت، تندرستی، آل اولاد کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں۔ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے کہ جس شخص کو چاہے جس حال میں رکھے۔ جب چاہے کسی کو دے اور جب چاہے کسی سے چھین لے۔

Printed page