Al-Risala · March 2024

1986 مئی 6

Al-Risala, March 2024, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

4 مئی 1986 کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ڈائیلاگ (dialogue) کے نام سے ایک یہ ڈائیلاگ سینٹر کے کانفرنس روم میں ہوا۔ ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ ایک دینی قائد جو کہ معروف عالم دین بھی ہیں، ان کی تقریر سے اس کا آغاز ہوا۔ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے پرجوش طور پر کہا کہ مسلمانوں سے وفاداری کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ یہ ہمارے لیے ناقابل کسی کو حق نہیں کہ وہ ہم سے ہماری وفاداری کا ثبوت مانگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں ہرگز ہندوستان میں رہنے پر مجبور نہیں۔ مجھے کتنے ہی ملکوں کی یونیورسٹیوں سے آفر مل رہے ہیں اور میں باہر جا کر آرام کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔

یہ بات بطور واقعہ صحیح ہو سکتی ہے کہ نہ صرف مذکورہ دینی قائد بلکہ ان کے جیسے دوسرے بہت سے قائدین کو باہر کے مسلم ملکوں کے مدارس اور جامعات سے آفر مل رہے ہوں۔ مگر یہ آفر کس چیز کا وہ یقینی طور پر ”ملازمت“ کا ہے، نہ کہ ”قیادت“ کا۔ مذکورہ دینی قائد اور ان کے جیسے دوسرے

قائدین مسلم ملکوں میں جاکر اپنے لیے روزگار ضرور حاصل کرسکتے ہیں، مگر وہ کسی بھی ملک میں اس طرح قائد بن کر نہیں رہ سکتے جیسے کہ وہ ہندوستان میں بنے ہوئے ہیں۔

ہندوستان میں مذکورہ عالم دین نے 1966 میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر مخالف کانگریس (نان کانگریسزم) کی تحریک چلائی۔ 86-1985 میں وہ مسلم پرسنل لا کے نام پر حکومت کے خلاف جلسہ اور جلوس کی سیاست چلا رہے ہیں۔ اسی قسم کی سرگرمیوں کو میں قیادت کہہ رہا ہوں۔ اور کسی بھی مسلم ملک میں اس طرح کی قائدانہ سرگرمیاں قطعی ناممکن ہیں۔ مذکورہ دینی قائد اگر کسی مسلم ملک میں جاکر وہاں اس قسم کی سرگرمی دکھائیں تو یقینی طور پر وہاں سے نکال دیے جائیں گے۔ کسی بھی مسلم ملک میں قیام کی اجازت انہیں صرف اس قیمت پر ملے گی کہ وہ سیاست اور قیادت کی زندگی چھوڑ کر صرف ملازمت کی زندگی پر قانع ہوجائیں۔

یہاں میں اضافہ کروں گا کہ مذکورہ دینی قائد اور ان کے جیسے مسلم قائدین اگر ہندوستان میں بھی قیادت کو چھوڑ کر صرف ملازمت پر قانع ہو جائیں تو یہاں بھی وہ اطمینان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ بعد کوئی شخص ان سے وفاداری کا مطالبہ کرنے والا نہیں۔

Printed page