Al-Risala · March 2024

7 مئی 1986

Al-Risala, March 2024, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائمس آف انڈیا (3 مئی 1986) کے صفحہ اول پر ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں ایک شخص کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ وہ زمین پر سر رکھ کر سجدہ کر رہا ہے۔ تصویر دیکھ کر بظاہر وہ مسجد کا ایک واقعہ معلوم ہوتا ہے ۔ مگر یہ مسجد کا واقعہ نہیں۔ چنانچہ تصویر کے نیچے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں: The Punjab Chief Minister, Mr Surjit Singh Barnala, paying obeisance at the Golden Temple, on May 2,1986. مسٹر سرجیت سنگھ برنالا، پنجاب کے چیف منسٹر ہیں۔ ان کی مرضی کے تحت سورن مندر (امرتسر) میں 30 اپریل کو پولیس ایکشن ہوا۔ پولیس ایکشن کی تکمیل کے بعد وہ سورن مندر (گولڈن ٹیمپل) گئے جو سکھوں کے نزدیک ان کا سب سے زیادہ متبرک مقام ہے۔ وہاں پہنچے تو انہوں نے اظہار عقیدت کے طور پر اپنا سر زمین پر رکھ دیا۔ اس وقت ان کی

وہیئت ٹھیک ہی تھی جو نماز میں سجدہ کرنے والے کی ہوتی ہے۔

نماز میں سجدہ کا جو طریقہ بتایا گیا ہے وہ بڑا عجیب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عبودیت یا submission کے اظہار کے لیے یہ آخری طریقہ ہے۔ اس سے آگے کوئی طریقہ ممکن نہیں ہے۔ submission کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ انسان عین اپنی فطرت کے زور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ کسی کے آگے اپنے کو جھکا دے۔ خدا کے سوا دوسری جن چیزوں کے آگے آدمی ”سجدہ“ کرے وہ حقیقتاً اپنے جذبہ عبودیت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ آدمی جب خدا کو پائے ہوئے نہ ہو تو وہ جس چیز کو بھی بظاہر نمایاں دیکھتا ہے اس کے آگے اپنے کو جھکا دیتا ہے۔ اسی کا نام شرک ہے۔ جو چیز صرف ایک خدا کا حق ہے، اس میں دوسروں کو شریک کرنا۔ اور شرک بلاشبہ سب سے بڑا گناہ انسان ”سجدہ“ کرنے پر مجبور ہے، مگر سچا سجدہ وہی ہے جو خدا کے لیے کیا گیا ہو۔ دو صاحبان تشریف لائے۔ وہ ہریانہ کے رہنے والے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں تقریر کرانے کے لیے لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم الرسالہ پڑھتے رہے ہیں۔ ہم کو الرسالہ کے طرز فکر سے اتفاق ہے۔ اس انداز پر ہم وہاں ایک اسلامی ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں مسجد اور مدرسہ، مسافر خانہ اور مختلف قسم کے ہنر سکھانے کا شعبہ ہوگا۔ مقامی طور پر کچھ لوگ اپنی ذاتی لیڈری کے لیے ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر آپ ایک دن اور ایک رات کے لیے ہمارے یہاں آجائیں گے تو یہ مخالفین دب جائیں گے۔

اس علاقہ میں الرسالہ ابھی نہیں پھیلا ہے۔ میں نے ان حضرات سے کہا کہ اگر آپ مجھ کو وہاں لے جانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ الرسالہ کو اپنے علاقہ میں پھیلائیے۔ آپ الرسالہ کی ایجنسی لیجیے۔ وہاں الرسالہ کے پڑھنے والے قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہو جائیں گے اس وقت وہ فضا بننے گی جس میں میرا وہاں جانا مفید ہوگا۔ فضا بنے سے پہلے اگر میں وہاں جاؤں تو لوگ میری بات کو سمجھ نہیں سکیں گے اور سفر کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

وہ لوگ مجھ کو اپنے علاقہ میں لے جانے پر کافی اصرار کر رہے تھے، مگر جب میں نے الرسالہ

کی ایجنسی قائم کرنے کی بات کی تو ان کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کے بعد وہ دونوں خاموشی کے ساتھ اٹھ کر چلے گئے۔

یہی ہماری قوم کی عام حالت ہے۔ لوگ تعمیری کام کی بات کرتے ہیں، مگر تعمیری کام کی قیمت دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کا ذہن بگڑا ہوا ہے۔ لیڈروں نے اپنی جھوٹی سیاست سے پوری قوم کو منفی سوچ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسی حالت میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ذہنوں کی اصلاح کی جائے۔ لوگوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے والا بنایا اس کے بعد ہی کوئی حقیقی تعمیری کام کیا جاسکتا ہے۔ مگر ذہن بنانے کا کام خشک کام ہے، اس لیے کوئی اس کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

Printed page