Al-Risala · March 2024

9 مئی 1986

Al-Risala, March 2024, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک پاکستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا پاکستان میں ہندوؤں کا کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اولاً تو ہندو بہت ہی کم ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد 1947 کے انقلاب میں پاکستان کو چھوڑ کر ہندوستان چلی آئی۔ اور جو تھوڑے سے ہندو وہاں رہ گئے ہیں، وہ تہذیبی اعتبار سے بالکل مسلمانوں کی طرح رہتے ہیں۔ کسی بھی اعتبار سے وہ اپنا تشخص باقی رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

میں نے کہا کہ یہ ایک بہت اہم بات ہے۔ اس سے مسلمانوں کو سبق لینا چاہیے۔

پاکستان کی تحریک مسلمانوں نے یہ کہہ کر چلائی تھی کہ غیر منقسم ہندوستان کو دو جغرافی حصوں میں بانٹ ایک ہندو انڈیا اور دوسرا مسلم انڈیا۔ ایک طرف وہ ہو جائیں اور دوسری طرف ہم ہو مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت نے اس نعرہ کا ساتھ دیا اور ہندوستان بھارت اور پاکستان کی شکل میں الگ الگ ہو گیا۔

پاکستان کو ہندوؤں سے تقریباً خالی کرا لیا گیا۔ وہاں ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ ہندو اپنے الگ قومی تشخص کے ساتھ وہاں نہ رہ سکیں۔ وہ رہیں تو صرف اس قیمت پر رہیں کہ وہ مسلم تہذیب میں بالکل ضم ہو جائیں۔ موجودہ پاکستان اس کا ایک نمونہ ہے۔ اس کے برعکس، ہندوستان میں با وجود یہ کہ

وہ پاکستانی منطق کے مطابق ہندو انڈیا تھا، مسلمان تقریباً 10 کروڑ کی تعداد میں باقی رہے۔ سے بھی زیادہ جتنا کہ وہ موجودہ پاکستان میں ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے یہاں پورے معنوں میں اپنا قومی تشخص باقی رکھا ہے۔

اس کے باوجود ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کو برداشت کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں جو نام نہاد فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں وہ تمام تر مسلمانوں کی حماقت یا شرارت سے ہوتے ہیں۔ اسی انتہا پسندانہ ذہن کا ثبوت دیتا جس کا ثبوت پاکستان کے مسلمانوں نے دیا ہے تو آج ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ دوسری نظر آتی۔

حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا بھی شکر نہیں کر سکتا (مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ، لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ عز وجل) مسند احمد ، حدیث نمبر 7504۔ اس حدیث کے مطابق مسلمانوں کو ہندوؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اگر وہ ہندو کے شکر گزار نہ بنیں گے تو وہ خدا کے شکر گزار بھی نہیں بن سکتے۔

Printed page