10 مئی 1986
Al-Risala, March 2024, pp. 41–45
By Maulana Wahiduddin Khan
مئی 1986 میں مسلم خواتین کے طلاق سے متعلق قانون لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس ہو کر باقاعدہ ایکٹ بن گیا۔ اس کا سرکاری نام یہ ہے:
Muslims Women (Protection of Right on Divorce) Bill 1986. اس بل پر مسلم قائدین آج کل خوشیاں منا رہے ہیں۔ اس کو وہ سیکولر ہندوستان میں اسلام کی عظیم فتح سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ جھوٹی فتح پر جھوٹی خوشی منانا اور یہ وہ چیز ہے جس میں مسلمان پچھلے سوسال سے مبتلا ہیں۔
ایک لطیفہ ہے کہ ایک علاقہ میں ایک شیر گھس آیا۔ اس نے جانوروں اور انسانوں کو پھاڑنا شروع کر دیا۔ سارے علاقے میں زبردست خوف وہراس پھیل گیا۔ اس وقت ایک بزرگ نے یہ کیا کہ اپنے گھر میں کا غذ کا ایک شیر بنایا۔ اور پھر اس کاغذی شیر پر حملہ کر کے اس کا خاتمہ کر دیا۔ بزرگ نے یہ سمجھا کہ انہوں نے شیر پر فتح حاصل کر لی ہے۔ حالانکہ انہوں نے جس
چیز پر فتح حاصل کی تھی وہ محض ایک کاغذ کی تصویر تھی ، نہ کہ حقیقتاً ایک زندہ شیر۔ یہی ماحول موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہوا ہے۔ وہ ایک کے بعد ایک کاغذی شیر بناتے ہیں اور اس کو ہلاک کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اسلام مخالف طاقتوں پر فتح حاصل کرلی۔ مخالف طاقتیں بدستور موجود رہتی ہیں بلکہ ان میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ جو شخص بھی حالات پر گہری نظر رکھتا ہو اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مذکورہ مسلم خواتین کا کچھ بھی تعلق اصل حالات کی اصلاح سے نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مطلقہ مسلم خواتین کا مسئلہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے، نہ کہ کوئی قانونی مسئلہ۔ اس قسم کے قوانین سے یہ امید رکھنا کہ اصل مسئلہ اس سے حل ہوجائے گا ایسا ہی ہے جیسے کاغذی شیر کو مار کر یہ سمجھنا کہ زندہ شیر بھی ہلاک ہوگیا ہے۔ ہمارے قائدین کو اگر ملت کا درد ہے تو ان کو معاشرے کی اصلاح میں لگ جانا چاہیے۔ مذکورہ بالا قسم کا عمل ، قرآن کے الفاظ میں ، صرف يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا (3:188) کا یعنی، وہ چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیے اس پر ان کی تعریف ہو۔ 12 مئی 1986 آج ایک مجلس میں موت کا ذکر آیا۔ میں نے کہا کہ موت اس دنیا میں سب سے زیادہ یقینی وہ ہر آدمی کے اوپر اپنے وقت پر آ جاتی ہے۔ مجلس کے ایک صاحب نے کسی قدر بے تکلف انداز میں کہا کہ موت کو کون نہیں جانتا۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس سے ہر شخص باخبر ہے۔ میں نے کہا کہ لوگ عام طور پر موت کو صرف مانتے ہیں کہ انہوں نے اس کو سنا ہے۔ ان کے لیے ایک سنی ہوئی بات ہے۔ مگر میں اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ موت میری دریافت میں موت کو اس لیے مانتا ہوں کہ میں نے خود اس کو شعوری سطح پر دریافت کیا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ غالباً 1960 کی بات ہے۔ اس وقت میں اپنے آبائی وطن (بڈھریا) میں تھا۔ میں مکان کی چھت پر سورہا تھا۔ اور گھر کے بقیہ لوگ نیچے سوئے تھے۔ تقریباً نصف شب میں میری نیند کھلی اور اچانک مجھے اپنا ایک معاملہ یاد آیا۔ ایک صاحب نے مجھے 100 روپے بطور امانت دیا تھا۔ یہ سو روپے کا ایک نوٹ تھا۔
کو میں نے نیچے کے کمرے کی الماری میں کاغذ کے نیچے رکھ دیا تھا۔ رات کو مجھے یہ خیال آیا کہ اگر اچانک مجھے موت آجائے تو اس رقم کا کیا ہوگا۔ کیونکہ گھر کا کوئی شخص اس کے بارے میں واقف چنانچہ میں بستر سے اٹھا۔ لالٹین جلائی اور ایک کاغذ پر یہ لکھا کہ میرے پاس فلاں شخص کا سو روپیہ بطور امانت ہے اور وہ فلاں الماری میں کاغذ کے نیچے رکھا ہوا ہے۔ اس طرح کا کاغذ لکھ کر میں نے اس کو اپنی جیب میں رکھا اور دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔
اس وقت میرے ذہن پر موت کا اتنا غلبہ تھا کہ اگر میں مذکورہ قسم کا کاغذ لکھ کر اپنی جیب میں نہ رکھتا تو شاید مجھے دوبارہ نیند نہ آتی۔ مگر جب میں نے یہ کاغذ اپنی جیب میں رکھ لیا تو اس کے جلد ہی بعد دوبارہ نیند آ گئی۔ اگرچہ صبح کو جب میں سو کر اٹھا تو میں ابھی زندہ تھا۔ موت ہر آدمی پر لازماً آتی ہے، مگر وہ ہمیشہ اپنے وقت پر آتی ہے۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ 13 مئی 1986 محمد رضا صاحب عجیب وغریب آدمی ہیں۔ وہ اپنے آفس میں لڑتے رہتے ہیں۔ کسی کی بات مگر میری بات سن لیتے ہیں۔ اگر چہ مجھے اس کی وجہ نہیں معلوم۔
ان کو اپنے دفتر سے کچھ رقم ملی تھی۔ ان کی اہلیہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ وہ اپنے مزاج کی وجہ سے رقم ضائع کر دیں گے ۔ چنانچہ ان کی اہلیہ کا پیغام میرے پاس آیا کہ وہ آپ کی بات سنتے ہیں۔ سے رقم لے کر اپنے پاس رکھ لیں اور بوقت ضرورت دیتے رہیں ۔ چنانچہ میں نے یہ رقم (دس ہزار) ان سے لے کر بطور امانت اپنے پاس رکھ لی۔ وہ اکثر آتے ہیں اور حسب ضرورت رقم لے جاتے ہیں۔ آج ہمارے دفتر والوں نے انٹر کام پر بتایا کہ رضا صاحب آئے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ ان سے پوچھو کہ انہیں کتنی رقم چاہیے ۔ رضا صاحب نے کہا کہ اس وقت میں رقم کے لیے نہیں آیا ہوں۔ ملاقات کرنا ہے۔ چونکہ رضا صاحب اپنے غیر معتدل ذہن کی وجہ سے اکثر غیر متعلق اور طویل باتیں کرتے میں نے کہہ دیا کہ اگر رقم کی ضرورت ہو تو لے لیں مگر اس وقت ملاقات کا موقع نہیں ہے۔ رضا صاحب واپس چلے گئے۔ مگر اس کے چند منٹ بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے انہیں اس
طرح لوٹا کر سخت غلطی کی ہے۔ غلطی کا احساس ایک بھاری بوجھ کی طرح دل کے اوپر محسوس ہونے فوراً ہی مجھے ایک حدیث یاد آئی اور میں دل ہی دل میں رضا صاحب کے لیے دعا کرنے لگا، دعا کے الفاظ یہ تھے ــ خدایا رضا صاحب کی مدد فرما۔ خدایا رضا صاحب کے احوال درست کردے۔ اس قسم کی دعائیں میں دل ہی دل میں تقریباً آدھے گھنٹے تک کرتا رہا۔ اس کے بعد اچانک ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میرے دل کا بوجھ اتر گیا ہے۔ جو دل پہلے سخت بوجھل محسوس ہو رہا تھا وہ اچانک بالکل ہلکا ہوگیا۔
شاید یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (11:114) ــ یعنی بیشک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔
آدمی سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ غلطی کی مناسبت سے کوئی نیک عمل یہ نیک عمل اس کی غلطی کو ان شاء اللہ زائل کردے گا۔
یمین الاسلام خان میرے بھتیجے ہیں۔ وہ انجینئر ہیں اور لکھنؤ میں آبپاشی کے محکمہ میں سپرنٹنڈنٹ آج وہ دہلی آئے۔ بات چیت کے دوران انہوں نے ایک سبق آموز مقولہ بتایا: جب آپ ہنستے ہیں تو دنیا آپ کے ساتھ ہنستی ہے۔ مگر جب آپ روتے ہیں تو دنیا آپ کے اوپر ہنستی ہے۔
یہ ایک بہت بامعنی مقولہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں ایک آدمی دوسرے آدمی سے بننے کی حد تک دلچسپی رکھتا ہے۔ کسی کی بگڑ رہی ہو تو اس سے دوسروں کو کوئی دلچسپی نہیں۔ بہت سے لوگوں کا یہ مزاج ہے کہ جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو اس کو اپنا غم سنانے لگتے ہیں، مگر اس سے زیادہ حماقت اور کچھ نہیں۔ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے مسائل سے دوچار کسی کو یہ موقع نہیں کہ وہ دوسرے کے مسائل میں دلچسپی لے، وہ دوسرے کے درد میں اس کا حصہ دار بن سکے۔
حقیقت پسندی کی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی پر جو کچھ بیتے وہ خود اس کو سہے۔ خود اپنے مسائل کو حل کرنے کی تدبیر کرے۔
یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر آدمی کو اپنی لڑائی خود لڑنی پڑتی ہے۔ یہاں کوئی شخص دوسرے کے لیے نہیں لڑتا۔ ہر آدمی اپنی ناکامی کا خود ذمہ دار ہے۔ ایک شخص نہ دوسرے شخص کی کامیابی میں شریک ہوسکتا ہے اور نہ اس کی ناکامی میں۔