Al-Risala · March 2024

15 مئی 1986

Al-Risala, March 2024, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں بہت سی نیوز ایجنسیاں ہیں۔ ان میں مشہور نیوز ایجنسیاں حسب ذیل ہیں: ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)، یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل (UPI)، رائٹر، فرنچ پریس ایجنسی (AFP)۔ اے ایف پی کے بارہ ہزار خریدار (سبسکرائبرز) ہیں۔ جو 150 سے زیادہ ملکوں سے تعلق وہ اخباروں کے علاوہ ریڈیو، ٹیلی ویژن، بینکوں، انٹرنیشنل تنظیموں کو خبریں سپلائی کرتی یہ نیوز ایجنسی ہر روز چھ مختلف زبانوں (فرانسیسی، انگریزی، جرمن، اسپینی، پرتگالی، عربی) میں ایک ملین الفاظ بھیجتی ہے جن کو ایک ہزار ملین افراد پڑھتے ہیں۔

اس نیوز ایجنسی کو یہ کامیابی ڈیڑھ سو سال میں حاصل ہوئی ہے۔ ابتداء اس کو چارلس ہو اس (Charles-Louis Havas, 1783-1858) نے 1835 میں قائم کیا۔ اس وقت کبوتروں (carrier pigeon) کے ذریعے دور کے مقامات تک خبریں بھیجی جاتی تھیں۔ اس کے بعد ٹیلی گراف کا زمانہ آیا۔ پھر وائرلیس کا۔ پھر ریڈیو کا اور اب وہ سیٹلائٹ کے ذریعہ خبریں پہنچانے کے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اے ایف پی پہلے الفاظ کی ترسیل کا نام تھی۔ اب وہ سیٹلائٹ کے ذریعے فوٹو کی ترسیل کا کام بھی کر رہی ہے۔ اس وقت اس کے تین فوٹو گرافک سینٹر ہیں، پیرس، واشنگٹن اور ٹوکیو (ٹائمز آف انڈیا، 15 مئی 1986)۔

مسلمان ان مغربی نیوز ایجنسیوں کی شکایت کرتے ہیں کہ وہ خبروں کو مغربی نقطہ نظر سے پیش کرتی ہیں اور مسلمانوں کے نقطہ نظر کو نظر انداز کرتی ہیں۔ مگر یہ سراسر لغو شکایت ہے۔

میں کوئی شخص دوسرے کا کام نہیں کرتا۔ مسلمان اگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی خبریں ان کے نقطۂ نظر کے مطابق دنیا میں پھیلیں تو وہ بھی "ڈیڑھ سو سالہ" عمل کے نتیجے میں ایک اعلیٰ سطح کی نیوز ایجنسی عمل میں لائیں۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔

Printed page