Al-Risala · March 2024

16 مئی 1986

Al-Risala, March 2024, pp. 46–48

By Maulana Wahiduddin Khan

نظام الدین (دہلی) میں ہمارے مرکز کے سامنے سڑک کے دوسری طرف ایک سردار جی کا دومنزلہ اس مکان میں بہت سے عرب طلبا کرایہ دار کے طور پر رہتے ہیں۔ آج ایک بجے دن میں، میں جمعہ کی نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا تھا۔ راستہ میں ان میں سے تین عرب طلبا ملے۔ مجھے سلام کیا۔ میں نے بھی ان کو سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد میں نے پوچھا: من ای بلد انتم (آپ کا تعلق کس ملک سے ہے)۔ ان میں سے ایک نوجوان خاص لہجہ میں بولا: من بلاد اللہ فلسطین (اللہ کے ملک فلسطین سے)۔ اس نے یہ جملہ کہا اور پھر فورا اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ ان فلسطینی طلبا سے میری ملاقات بہت کم ہو سکی ہے۔ مگر چونکہ وہ بالکل سامنے والے مکان میں قیام پذیر ہیں، اس لیے میں ان کو پچھلے ایک سال سے زیادہ عرصہ سے دیکھ رہا ہوں۔ سب سے زیادہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ اگرچہ یہاں تعلیم کی غرض سے آئے ہیں، مگر بہت کم ایسا ہوا ہے کہ وہ پڑھتے ہوئے دکھائی ممکن ہے وہ اپنے بند کمروں میں پڑھتے ہوں، مگر اپنی چھت پر اور اپنے صحن میں وہ ہمیشہ تفریح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور تفریح کا یہ سلسلہ منٹوں نہیں بلکہ گھنٹوں جاری رہتا ہے۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ وہ ایک سپیرے کو پکڑ لائے اور تقریباً آدھے دن تک سب جمع ہو کر سانپ کا کھیل دیکھتے رہے اور اس کے ساتھ تصویریں کھنچواتے رہے۔ اکثر ان کے کمرے سے ٹیپ ریکارڈر بجنے کی آواز آتی ہے جو بہت دیر تک جاری رہتی ہے۔ کبھی ایئر گن لے کر سارا دن چڑیوں پر نشانہ لگاتے رہتے ہیں، وغیرہ۔ مجھے اپنے باہر کے سفروں میں بعض ایسے فلسطینی ملے ہیں جو نہایت سنجیدہ تھے، مگر غالباً بیشتر فلسطینیوں کا مزاج وہی ہے، جس کا نقشہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔ جو لوگ اس قدر غیر سنجیدہ ہوں، جو اتنی بے دردی کے ساتھ اپنے وقت کو برباد کریں وہ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔

نئی دہلی کے ایک ہال میں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا۔ اس میں مسلمانوں کے ایک مشہور قائد نے تقریر کی۔ جلسہ میں ہندو صحافی اور دانشور بھی بلائے گئے تھے۔ تقریر کا خاص موضوع اسلامی شریعت ہال میں شاہ بانو کے معاملہ پر مسلمانوں نے جو زور و شور دکھایا ہے، اس کی وجہ سے غیر مسلموں میں شریعت کے بارے میں عمومی طور پر ایک تجسس پیدا ہو گیا ہے۔ یہ جلسہ 4 مئی 1986 کو ہوا۔ مقرر نے پرجوش تقریر کی۔ مگر تقریر میں زیادہ تر اس قسم کی باتیں تھیں کہ شریعت ہم کو جان سے بھی زیادہ ہم کسی قیمت پر شریعت کے اندر مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے، وغیرہ۔ ایک ہندو نے تقریر کے بعد کہا کہ موجودہ دور میں اس قسم کی باتیں قبول نہیں کی جا سکتیں۔ آپ یہ کہیں کہ ہماری شریعت میں لکھا ہے کہ بہو کو تیل چھڑک کر جلا دو تو کیا آپ اپنی بہو کو جلا دیں گے اور ملک خاموش رہے گا۔ آپ کو اپنے قانون کی معقولیت بتانی ہوگی۔ صرف دعویٰ کافی نہیں ہو سکتا۔ یہی موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والوں کا حال ہے۔ "مداخلت فی الدین" کے نام پر وہ زبردست جوش دکھائیں گے، مگر دین کی معقولیت ثابت کرنے کے لیے محنت نہیں کریں حالانکہ زمانہ عقل کا زمانہ ہے۔ آج کا آدمی عقل کی سطح پر ہر چیز کو جانچتا ہے۔ دین کو عصری اسلوب میں پیش کرنے کا حکم ہے، مگر مسلمان اس کو صرف اسلوب ماضی میں پیش کر رہے ہیں۔ انہیں تجربات سے متاثر ہو کر میں آج کل ایک کتاب مرتب کر رہا ہوں جس کا نام ہے "خاتونِ میرا یہ موضوع نہیں۔ میرا اصل موضوع دعوت ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے شاہ بانو کے مسئلہ کو لے کر شریعت کا ہنگامہ کھڑا کر دیا، مگر شریعت کو زمانہ کے اسلوب میں پیش کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ اس لیے مجھ کو یہ ذمہ داری قبول کرنی پڑی۔ 18 مئی 1986 مسٹر سرجیت سنگھ برنالا اس وقت پنجاب کے چیف منسٹر ہیں۔ ان کے حکم سے 30 اپریل 1986 کو مسلح پولیس امرتسر کے گوردوارہ (سورن مندر) میں داخل ہو گئی۔ تا کہ وہاں سے دہشت پسندوں کو نکالے۔

یہ واقعہ سکھ روایات کے مطابق جرم تھا۔ اس سے گوردوارہ کا تقدس مجروح ہوا۔ تخت نے مسٹر برنالا کے نام نوٹس جاری کیا۔ وہ نوٹس کے مطابق 17 مئی 1986 کو اکالی تخت کے سامنے حاضر ہوئے۔ مسٹر برنالا نے اکالی تخت کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کیا۔ اس کے بعد اکالی تخت کی طرف سے ان کے لیے سزا کا اعلان کیا گیا۔ اس سزا کی پانچ دفعات تھیں ۔ انگریزی اخبار کی رپورٹنگ کے مطابق اس کی ایک دفعہ یہ تھی :

To perform the service of dusting the shoes at any gurudwara for one week. وہ ایک ہفتہ تک کسی گوردوارہ میں جو تا صاف کرنے کی خدمت انجام دیں (ٹائمس آف انڈیا، 18 مئی 1986 )۔ مسٹر برنالا نے سرجھکا کر اعلان کیا کہ وہ اکالی تخت کے فیصلہ کو قبول کرتے ہیں۔

سکھ حضرات نے آج کل آزاد سکھستان بنانے کے لیے توڑ پھوڑ کی جو سیاست چلا رکھی ہے اس سے مجھے صدفی صد اختلاف ہے۔ میں اس کو صرف حماقت سمجھتا ہوں۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ سکھ حضرات کی مذہبی تنظیم کتنی مضبوط ہے۔ یہی طاقت ایران میں شیعہ پیشواؤں کو حاصل تھی۔ عجیب بات ہے کہ ایران میں بھی ایسی طاقت کا استعمال تخریب کے لیے کیا گیا اور پنجاب میں بھی اس کا استعمال صرف تخریب کے لیے ہو رہا ہے۔

Printed page