مسائلِ ملت
Al-Risala, July 2024, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
فردِ ملت کے مسائل کا جو حل ہے، وہی خود ملت کے مسائل کا حل بھی ہے۔ ملت کا ایک فرد اپنی ذاتی کوشش سے اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ اسی طرح مجموعہ افراد جس کا نام ملت ہے، اس کے مسائل بھی اس کی اپنی تعمیری کوششوں سے حل ہوں گے۔ کوئی دوسرا اس کے مسائل کو حل کرنے والا نہیں۔ اس دنیا میں ایک بھائی کبھی دوسرے بھائی کے لیے نہیں کماتا۔ کوئی رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے لیے لڑائی نہیں لڑتا۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے۔ اس لیے ہر شخص پہلی فرصت میں ”اپنی تعمیر آپ“ کے اصول پر اپنی زندگی کی جدوجہد میں لگ جاتا ہے۔
مگر عجیب بات ہے کہ ملت کا سوال سامنے آتے ہی تمام لوگ بالکل دوسرے انداز سے سوچنے وہ سمجھتے ہیں کہ ملت کے مسائل کا تعلق خود ملت سے نہیں بلکہ دوسروں سے ہے۔ تعلق حکومت سے ہے، انتظامیہ سے ہے، فلاں فلاں متعصب جماعتوں اور گروہوں سے ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ملّی مسئلہ کے ذمہ دار فلاں فلاں سرکاری افسر ہیں، اس لیے ان افسروں کو معطل کوئی کہتا ہے کہ متعصب جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں، ان کی سازشوں کا پردہ فاش کرنے کے لیے ان کے خلاف دھواں دھار مضامین شائع کیے جائیں۔ کوئی کہتا ہے کہ حکمراں پارٹی اس کی ذمہ دار ہے، اس لیے الیکشن میں اس پارٹی کے امیدواروں کے خلاف ووٹ دے کر انھیں شکست دو۔ یہ باتیں مضحکہ خیز حد تک غلط ہیں۔ اور اس غلطی کے ذمہ دار مسلمانوں کے رہنما ہیں۔ یہ رہنما اپنے ذاتی مسائل کو تو ہمیشہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ حل کرتے ہیں۔ اور ملی مسائل کے بارے میں پرجوش تقریریں کر کے پوری قوم کا مزاج بگاڑتے ہیں۔ وہ ملت کے اندر تعمیر کے بجائے احتجاج کا ذہن بناتے ہیں۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ سب سے پہلے ملت کے افراد میں شعور پیدا کرنے کا کام کیا ان کے اندر اعلیٰ انسانی اوصاف پیدا کیے جائیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اس کو نہ بدل ڈالیں جو ان کے جی میں ہے (13:11)۔ جو قوم کے زوال یافتہ افراد کے دلوں میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گروہ اگر خدا کے اجتماعی نصرت کو پانا چاہتا ہے تو اس کو اپنے افراد کی اصلاح پر اپنی طاقت کو صرف کرنا چاہیے۔