Al-Risala · July 2024

پیغمبر کا کردار

Al-Risala, July 2024, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ ص میں پیغمبر کے کردار کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (38:86) یعنی، کہو کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔

قرآن کی اس آیت میں پیغمبر کے کردار کو دو الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ایک یہ کہ پیغمبر اپنے مخاطبین سے اجر کا طالب نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ وہ تکلف کرنے والا انسان نہیں ہوتا۔ باتیں دراصل ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ وہ پیغمبر کی داعیانہ شخصیت کو بتاتی ہیں۔ کی شخصیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے مدعو سے کسی رٹرن (return) کا طالب نہیں ہوتا ہے اور پیغمبر کی شخصیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ تکلف سے بالکل پاک انسان ہوتا ہے۔ تکلف کا مطلب تصنع (to pretend) ہے، یعنی ایک ایسا کام کرنا جو آدمی کے دل کی آواز نہ ہو، بلکہ وہ کسی مصلحت کی بنا پر دکھاوے کے طور پر اس کو اختیار کرے۔ پیغمبر جو کچھ کرتا ہے، وہ تمام تر داخلی محرک کے تحت کرتا ہے۔ وہ اپنا دعوتی کام دوسروں سے کسی امید کی بنا پر شروع نہیں کرتا، بلکہ وہ جو کچھ کرتا ہے، خود اپنے داخلی تقاضے کے تحت کرتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ کام کی دو صورتیں ہیں ایک، بطور پیشہ (as a profession) کام کرنا، اور دوسرا، بطور مشن (as a mission) کام کرنا۔ جب کوئی آدمی بطور پیشہ ایک کام کرتا ہے تو پہلے دن سے اس کو یہ امید ہوتی ہے کہ لوگوں کی طرف سے اس کو فلاں قسم کا مادی فائدہ حاصل ہوگا۔ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ مشن والے آدمی کے لیے مشن اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے، نہ کہ دوسروں کی نسبت سے روزگار حاصل کرنا۔

یہی معاملہ داعی کا ہے۔ حق کے داعی کو بھی اسی پیغمبرانہ ماڈل کو اختیار کرنا ہے۔ سچا داعی وہ ہے جس کے لیے دعوت کا کام، کسی بھی اعتبار سے، پروفیشن نہ ہو، بلکہ اس کام کی حیثیت اس کے لیے تمام تر مشن کی ہو۔ اس صفت کے بغیر کوئی شخص داعی حق کا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔

Printed page