بڑھاپا آخری موقع
Al-Risala, July 2024, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑھاپا کو عام طور پر ایک مصیبت سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بڑھاپا کسی انسان کے لیے ایک ایسی حقیقت کی یاددہانی ہے، جس کا ادراک انسان کو بڑھاپے سے پہلے نہیں ہوتا۔ العالمین کی نعمتیں انسان کو ہر لمحہ ملتی رہتی ہیں۔ مگر انسان کی ایک کمزوری ہے کہ وہ ملی ہوئی نعمتوں کو فار گرینٹیڈ (for granted) لیتا رہتا ہے۔ بڑھاپا کسی انسان کی زندگی میں اس مفروضہ کو توڑ دیتا بڑھاپا انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ملی ہوئی نعمتوں کو اللہ رب العالمین کا یک طرفہ عطیہ سمجھے، اور اس پر اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرے۔
انسان عام طور پر اپنی جوانی میں غفلت کی زندگی گزارتا ہے۔ بڑھاپا آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ آخری طور پر چوکس ہو جائے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں کو شعوری طور پر منصوبہ تخلیق کے بڑھاپا کسی انسان کے لیے ویسا ہی ہے، جیسا نیوٹن کے لیے ایپل شاک (apple shock) تھا۔
بڑھاپا انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ان حقیقتوں کو جان لے جن کو وہ اب تک نظر انداز کیے ہوئے بڑھاپا انسان کو آخری طور پر یہ ریلائز (realize) کرواتا ہے کہ وہ اس دنیا سے جانے سے پہلے اپنے آپ کو مثبت سرگرمیوں میں لگائے، وہ خود کو اس سے بچائے کہ زندگی کے آخری لمحات کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کرنے سے چوک جائے، یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلا جائے۔ انسان کے لیے اس کی زندگی کا آخری موقع ہے۔ اس کے بعد اس کے لیے کوئی دوسرا موقع نہیں۔ بڑھاپا پوچھ کر نہیں آتا اور نہ ہی دور کرنے سے واپس جاتا ہے۔ بڑھاپا کسی انسان کے لیے اس کی زندگی کی آخری دستک ہے۔ جو آدمی بڑھاپے کی دستک کو نہ سنے، وہ ہمیشہ کے لیے ایک محروم انسان بن جائے گا۔ بڑھاپا آدمی کے لیے زندگی کا آخری موقع ہے۔ اپنی توبہ کے لیے اور دوسروں کو زندگی کا تجربہ دینے کے لیے۔