بے تحقیق خبر
Al-Risala, July 2024, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مرتبہ میں ایک سفر میں تھا۔ دوران سفر ایک اخباری نمائندہ نے میرا انٹرویو لیا۔ اخباری نمائندہ نے ایک سوال یہ کیا کہ آپ کے بارے میں طرح طرح کے الزام لگائے مثلاً آپ آر ایس ایس کے آدمی ہیں۔ ان الزامات کے بارے میں آپ کا کیا جواب میں نے کہا کہ اس قسم کے الزامات صرف مجھ سے خاص نہیں ہیں۔ جب بھی کوئی آدمی کام کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو لوگ اس کو اسی طرح اپنے الزامات کا شکار بناتے ہیں۔ اقبال، مولانا حسین احمد مدنی، ابوالکلام آزاد، مولانا علی میاں، وغیرہ۔ ان میں سے کوئی بھی شخص اس قسم کے الزامات سے بچا ہوا نہیں، حتیٰ کہ تبلیغی جماعت جو ایک بے ضرر جماعت ہے اس پر بھی بڑے بڑے الزامات لگائے گئے۔ مثلاً یہ کہ وہ سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں، وہ مسلمانوں کو عمل کے میدان سے ہٹانے کی سازش کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں میں غلط دین پھیلا رہے ہیں، وغیرہ۔ اس قسم کی بات کے بارے میں صحیح رویہ یہ ہے کہ ان کو حقائق کی بنیاد پر جانچ کر دیکھا جائے۔ صرف کسی کے کہنے کی بنیاد پر رائے نہ قائم کی جائے۔ اس اصول کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (49:6)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کیے پر
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ ایسی خبر کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے کہ کسی آدمی کے بارے میں بے تحقیق خبر پر کوئی رائے قائم کی جائے، یا کوئی اقدام کیا جائے۔