امیر معاویہ کا رول
Al-Risala, July 2024, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
معاویہ بن ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ہیں۔ وہ ہجرت مدینہ سے تقریباً 15 برس قبل مکہ میں پیدا ہوئے ۔ جب اسلام لائے تو ان کی عمر پچیس سال تھی۔ وہ کاتبین وحی میں ان کے بارے میں رسول اللہ کی ایک دعائیہ روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3842)۔ یعنی عبد الرحمن بن ابو عمیرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ کے بارے میں کہا: اے اللہ، تو اس کو ہدایت دینے والا بنا، اور اس کو ہدایت پر قائم رکھ، اور اس کے ذریعے سے ہدایت دے۔
مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں امیر معاویہ کا ایک اہم رول ہے ۔ رول کیا ہے ۔ وہ اہم رول یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کی تاریخ کو دوبارہ دور جاہلیت کی طرف جانے یعنی دور جاہلیت کی طرح ہونے والی آپسی خانہ جنگی سے امت مسلمہ کو بچایا۔ امیر معاویہ کے معاملے میں میری رائے یہ ہے کہ امیر معاویہ نے پریکٹکل وزڈم استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کیا۔ رسول اللہ کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ آپ کو کتاب دی گئی ، اور حکمت سے مراد ہے پریکٹکل وزڈم۔ معاویہ نے اپنے زمانے میں یہی طریقہ انھوں نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ ملوکیت کا طریقہ نہیں تھا۔ اسکالرشپ کی زبان میں اس طریقے کو ڈائنا سٹی (dynasty) کہا جاتا ہے ۔ اس زمانے میں یہی طریقہ قابل عمل تھا۔ کے بعد مسلم عہد میں ڈائنا سٹی ہی کا طریقہ رائج رہا۔
رسول اللہ کے بعد جہاں بھی مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی، ہر جگہ یہی طریقہ رائج رہا۔ وجہ سے مسلم عہد میں استحکام (stability) آگیا۔ اسی سیاسی استحکام کی بنا پر بعد کے زمانے میں اسلام کے تمام کام انجام پائے۔