Al-Risala · July 2024

لفظ اور معنی

Al-Risala, July 2024, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم عرب میں بہت سے بت تھے۔ ایک بڑے بت کا نام ”منات‘‘ تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عرب کا ”منات‘‘ اور ہندوستان کا ”سومنات‘‘ دونوں ایک ہی دیوتا کے دو نام ہیں۔ مناسبت کے سوا اس نظریہ کے حق میں کوئی تاریخی دلیل موجود نہیں۔

اسی طرح بعض عرب سیاح جب ہندوستان آئے اور انھوں نے یہاں ”برھما‘‘ کا لفظ سنا تو انھوں نے یہ خیال قائم کرلیاکہ برھمااورابراہیم دونوںکی اصل ایک ہے، اور ہندوستان کے برہمن ”ابراہیم‘‘ کی اولاد ہیں۔ علامہ شہرستانی نے اس مسئلہ پر لکھا ہے کہ یہ محض ایک خیالی بات ہے (من الناس من يظن أنهم سموا براهمة لا نتسابهم إلى إبراهيم عليه السلام وذلك خطأ)، اس کے حق میں تاریخی شواہد موجود نہیں۔ (الملل والنحل للشہرستانی، جلد 3، صفحہ 95) حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی باتوں کا تعلق علم سے یا علمی استدلال سے نہیں۔ یہ شاعری کی اس صنف کو تاریخ میں استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کو ”مناسبت لفظی‘‘ کہا جاتا ہے۔ مناسبت لفظی کا یہ طریقہ صرف لطیفہ گو لوگوں کے یہاں رائج نہیں۔ بہت سے لوگ حقیقی معاملات میں بھی اس طریقہ کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کوئی شخص ایک مذہبی نظریہ گھڑتا ہے اور اس کے حق میں اس قسم کی لفظی دلیل دے کر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی بات کو آخری طور پر ثابت کر دیا کوئی شخص ایک سیاسی پروگرام بناتا ہے اور اس پر پوری ایک قوم کو دوڑا دیتا ہے۔ اس سیاسی پروگرام کے حق میں ایک لفظی نکتہ کے سوا کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں ہوتی۔ الفاظ کے مجموعہ سے معنوی حقائق برآمد نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اس قسم کی تحریکوں اور اس قسم کے ہنگاموں کا کوئی حقیقی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اور نہ اب تک ان کا کوئی نتیجہ نکلا ہے۔ یہ دنیا حقائق کی آدمی کو چاہیے کہ وہ لفظی نکتوں اور معنوی حقیقتوں میں فرق کرے۔ وہ لفظی نکتوں کی بنیاد پر کوئی پروگرام نہ بنائے۔ بلکہ حقائق کی بنیاد پر غور و فکر کے بعد اپنا پروگرام ترتیب دے۔ حقیقی کلام وہ ہے جو مناسبت معنوی پر مبنی ہو، نہ کہ مناسبت لفظی پر۔ نتیجہ خیز عمل وہ ہے جو حقائق کی بنیاد پر انجام دیا جائے، نہ کہ تخیلات کی بنیاد پر۔

Printed page