زمین اپنے خاتمہ کی طرف
Al-Risala, July 2024, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا کے معروف انگریزی روزنامہ، ٹائمس آف انڈیا (17 جون 2023) نئی دہلی ایڈیشن کے ٹائمس گلوبل کے صفحہ پر ایک نیوز کا عنوان یہ تھا:
Heatwaves, wildfires hit globe; Asia, Europe, US sizzle at 40°C+ یعنی ہیٹ ویو اور جنگل کی آگ نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے تحت جو خبر دی گئی تھی وہ ایک انسان کو سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ خبر کے مطابق، ایشیا، یورپ اور امریکہ میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اتوار کے روز شدید گرمی نے تین براعظم، ایشیا، یورپ اور امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جنگلی آگ (wildfires) کے بڑھتے واقعات اور انتہائی شدت کے درجہ حرارت اُس سنگین خطرہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ گلوبل وارمنگ میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین موسمیات کی جانب سے مستقبل کے لیے انتہائی شدید گرمی کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ چین نے درجہ حرارت کے حوالے سے متعدد الرٹ جاری کیے ہیں، جن میں سنکیانگ کے صحرائی علاقے میں درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ اور جنوبی گوانگسی خطے میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی وارننگ دی گئی ہے۔ امریکہ کی نیشنل ویدر سروس نے بتایا ہے کہ کیلیفورنیا سے ٹیکساس تک شدید گرمی اور ہیٹ ویو اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ کیلیفورنیا کی ڈیتھ ویلی سیارہ زمین کے گرم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ ماہرین موسمیات کے اندازے کے مطابق، یہاں بھی درجہ حرارت ممکنہ طور پر 54 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے گا۔ جنوبی کیلیفورنیا کے کئی جنگلات میں لگی آگ سے نمٹا جا رہا ہے۔ کینیڈا میں اس سال جنگل کی آگ نے ایک کروڑ ہیکٹر رقبے کو جلا دیا ہے۔ اٹلی کے بارے میں اندازہ یہ ہے کہ درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہوگا۔ اس وجہ سے وہاں کی وزارت صحت نے 16 شہروں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ یونان میں واقع تاریخی قلعہ ایکروپولیس (Acropolis of Athens) سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش حیثیت رکھتا ہے۔ 2023 میں گرمی کی زیادتی کی وجہ سے یونانی حکومت نے کئی دنوں تک اس کو بند رکھا۔ اِسی قسم کے ناقابلِ برداشت، انتہائی شدید گرمی کے تجربہ سے 2024 میں برصغیر ہند و پاک اور دیگر
خطے کے لوگ بھی گزر رہے ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ (30 مئی 2024) کے مطابق، مئی 2024 میں دہلی میں سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا تھا، یعنی 52°C_ انڈ یا کے 37 شہروں کا درجہ حرارت 45°C سے زیادہ ہو چکا ہے۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کی رپورٹ (24 مئی 2024) کے مطابق، پاکستان کے علاقہ موہنجو دڑو میں مئی کے مہینہ میں 49°C تک پہنچا تھا۔ اور جون کے مہینہ میں 55°C درجہ حرارت پہنچنے کا امکان ہے۔ درجہ حرارت کی زیادتی کی بنا پر سیارۂ زمین پر انسان کا رہنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو گلوبل وارمنگ کا ظاہر ہ بتدریج گلوبل بوائلنگ کا ظاہر ہ بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل انٹونیو گوتیرش نے ماحولیات کی ایک کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلوبل وارمنگ کا زمانہ ختم ہو چکا ہے، اب گلوبل بوائلنگ کا زمانہ آگیا ہے : The era of "global warming" has ended, and the era of "global boiling" has arrived. (https://rb.gy/wfm2vq)
جب میں نے ان وحشت ناک خبروں کو پڑھا تو مجھے قرآن کی یہ دو آیتیں یاد آئیں : جو کچھ زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے ، تا کہ ہم لوگوں کو جانچیں کہ ان میں کون اچھا عمل کرنے اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک بنجر میدان بنا دیں گے (8-18)۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ "زمین کی دل فریبیاں انتہائی وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحرا کی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔ " (تذکیر القرآن ، صفحہ 773) موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے پس منظر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اب آخری وقت آگیا ہے کہ انسان مقصد حیات کے تعلق سے اپنی سوچ کو بدلے۔ کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی کو بدلنا انسان کے بس میں نہیں ہے ، انسان کے بس میں یہ ہے کہ وہ زمین پر زندگی گزارنے کے اپنے زاویہ نظر کو یعنی یہ کہ سیارۂ زمین پر موجود سامان حیات انٹرٹینمنٹ کے لیے نہیں ہے ، بلکہ وہ خدا کے منصوبہ تخلیق کے مطابق اگلے مرحلہ حیات کی تیاری کا مقام ہے۔ گلوبل وارمنگ گویا خاموش زبان میں خدائی اعلان ہے کہ انسان کے تعلق سے زمین کا رول بتدریج اپنے خاتمہ کی طرف جا رہا ایسی صورت میں یہ دانش مندی نہیں ہے کہ انسان اللہ رب العالمین اور اس کے کریشن پلان سے غافل ہو کر زندگی گزارے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم، نئی دہلی)