آئیڈیا لوجی نہ کہ تلوار
Al-Risala, July 2024, pp. 33–40
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں دعوت کا کام شروع کیا تو قریش کے لوگوں نے مختلف طریقوں سے آپ کو روکنے کی کوشش کی۔ ان میں ایک واقعہ وہ ہے جو سیرت کی کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک بار قریش کے سردار ابو طالب کے یہاں ابو طالب کے ذریعہ ان لوگوں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں، آپ نے کہا: كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُونِيهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُمُ بِهَا الْعَجَمُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 417)۔ یعنی، میں صرف ایک کلمہ کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اگر تم اسے مان لو تو تم سارے عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمہارے مطیع ہو جائیں گے۔
بعض لوگوں نے رسول اللہ کے اس قول کا مطلب اسلامی حکومت کا قیام نکالا ہے۔ حدیث کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حدیث میں کلمہ کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ حکومت یہاں کلمہ کا مطلب وہی ہے جس کو آج کل کی زبان میں آئیڈیا لوجی (ideology) کہا جاتا انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فوجی طاقت کے مقابلے میں، نظریے کی طاقت زیادہ بڑی ہوتی اسلام کی تاریخ اس حقیقت کی ایک ممتاز مثال ہے۔ اسلام کو مستحکم کامیابی ہمیشہ آئیڈیا لوجی کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہے، نہ کہ تلوار یا فوجی طاقت کی بنیاد پر۔
مثال کے طور پر مدینہ کو اسلام کی تاریخ میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ مدینہ کے اسلام کا دعوتی مرکز بننے کی وجہ اسلام کی آئیڈیا لوجی ہے۔ مدینہ کے انصار جب رسول اللہ سے ملے اور آپ کی دعوت کو سنا تو ان کو آپ کی بات پسند آگئی۔ چنانچہ وہ لوگ آپ کے سچے ساتھی بن گئے۔ اس طرح مکہ کے بجائے مدینہ اسلامی مشن کا مرکز قرار پایا، اور ساری دنیا میں اسلام کا پیغام مدینہ کے ذریعہ پہنچا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جب آپ مدینہ آگئے تو مکہ کے لوگوں نے آپ کے خلاف جنگ کا ایک سلسلہ قائم کر دیا۔ مثلاً، بدر، احد اور خندق وغیرہ۔ رسول اللہ نے اس جنگی سلسلے کو روکنے کے لیے حدیبیہ کے مقام پر مشرکین قریش سے یک طرفہ طور پر جھک کر دس سالہ نا جنگ معاہدہ کیا تھا۔
اسلامی تاریخ میں اس معاہدہ کو صلح حدیبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس صلح کے دو سال بعد بغیر کسی جنگ کے مکہ پر فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح کی جڑ میں اسلام کی آئیڈیالوجی تھی۔ ابن شہاب زہری تابعی کے مطابق، صلح حدیبیہ سے پہلے آپس کی لڑائی کی وجہ سے مسلم اور غیر مسلم ایک دوسرے سے مل نہیں اب جب امن قائم ہوا، منافرت اور کشیدگی دور ہوئی تو آپس میں تبادلۂ خیال ہونے لگا۔ اس طرح لوگوں کو اسلام کو سمجھنے کا موقع ملا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کے بعد دو سالوں میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا کہ بعثت سے لے کر اس وقت تک اتنے مسلمان نہیں ہوئے تھے (اِلْتَقَوْا فَتَفَاوَضُوا فِي الْحَدِيثِ وَالْمُنَازَعَةِ، فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدٌ بِالْإِسْلَامِ يَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا دَخَلَ فِيهِ، وَلَقَدْ دَخَلَ فِي تِيْنَكَ السَّنَتَيْنِ مِثْلُ مَنْ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ قَبْلَ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 322۔
اس قسم کا ایک عظیم واقعہ تیرہویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ تاتاری قبائل کے حملے نے عباسی سلطنت کو مغلوب کر لیا تھا۔ یہ غلبہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کی فوجی طاقت اس کے مقابلے میں غیر موثر مورخ ابن اثیر نے اس زمانے کے مسلمانوں کے عمومی سوچ کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے: اگر کوئی یہ بیان کرے کہ تاتاریوں نے شکست کھائی اور قید کر لیے گئے تو اس کی بات پر یقین نہ کرنا، اور اگر کوئی تم سے یہ بیان کرے کہ تاتاریوں نے دوسروں کو قتل کر دیا ہے تو یقین کر لینا: (مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ التَّتْرَ انْهَزَمُوا وَأُسِرُوا فَلَا تُصَدِّقُوهُ وَإِذَا حَدَّثْتُمْ أَنَّهُمْ قَتَلُوا فَصَدِّقُوهُ) (الكامل في التاريخ، جلد 10، ایسے نازک موقع پر اسلام کی نظریاتی طاقت ابھری۔ اور صرف نصف صدی کے اندر یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن، اسلام کے دوست بن اسلام کی اس نظریاتی طاقت کو فلپ ہٹی (Philip K. Hitti) نے ان الفاظ میں بیان کیا مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی، جہاں اُن کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے: The religion of Muslims has conquered, where their arms had failed. (History of the Arabs, 1970, p. 488)
حقیقت یہ ہے کہ آئیڈیالوجی انسان کے دلوں کو مسخر کرتی ہے، اور جب انسان کا دل مسخر ہو جائے تو کوئی اور چیز تسخیر کے لیے باقی نہیں رہتی۔
شرح مشکوۃ المصابیح (حدیث نمبر 151-146)
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور لوگوں کو اس کی ترغیب مگر کچھ لوگوں نے اس کام سے پرہیز کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے آپ نے اللہ کی حمد وثنابیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس چیز سے پرہیز کرتے ہیں جو میں خود کرتا ہوں۔ خدا کی قسم میں اللہ کو ان سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6101؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2356)
تشریح: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی رہنمائی کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ کی حیثیت رکھتی کسی بھی زمانے میں اہل ایمان کے لیے کوئی دوسرا معیار اختیار کرنا درست نہیں۔ مسلمانوں کے ریفرنس میں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ "بطور عقیدہ ہم مانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لیے نمونہ ہیں۔ مگر جب مسلم ملت کے مسائل پر بات ہوتی ہے تو ہر آدمی خود اپنی عقل سے بولنا شروع کر دیتا ہے۔ کوئی ایسا نہیں کرتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور آپ کی سیرت میں اس کا جواب تلاش کرے۔ حالانکہ ایسی روش ہمارے ایمان کے مطابق نہیں۔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح دو رِ اول کے لیے نمونہ تھے، اسی طرح عصرِ حاضر میں بھی آپ کی زندگی میں ہمارے لیے کامل رہنمائی موجود ہے۔ " (دیکھیے، اسفار ہند، صفحہ 66-65)
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے اور وہاں لوگ کھجور کے درختوں میں تأبیر کا عمل کر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا کہ تم لوگ یہ کیا کر رہے ہو۔ انھوں نے کہا
کہ ہم اس کی تأبیر (pollination) کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید تمھارے لیے بہتر ہو۔ پس لوگوں نے اس عمل کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد پھل کم آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس کا ذکر آپ سے کیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں ایک انسان ہوں۔ جب میں تم کو تمھارے دین کے بارے میں کوئی حکم دوں تو تم اس کو لے لو۔ اور جب میں اپنی رائے سے کوئی حکم دوں تو میں ایک انسان ہوں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2362)
تشریح: صحیح مسلم کی ایک اور روایت (حدیث نمبر 2363) میں یہ الفاظ ہیں: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (تم اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ جانتے ہو)۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق مکہ سے تھا جہاں اس وقت کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں کھجور کے باغات تھے اور قاعدے کے مطابق وہاں کے لوگ ان کو زرخیز کرنے کے لیے اپنے ہاتھ سے تأبیر (pollination) کا عمل کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ غیر مانوس چیز چنانچہ آپ نے اس سے منع فرمايا۔ یہ بات اصول باغبانی کے خلاف تھی۔ اس لیے پیداوار میں کمی تأبیر کا معاملہ ایک سیکولر شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح ٹکنالوجی یا سائنس کی دوسری دریافتیں بھی سیکولر شعبے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں سائنٹفک ریسرچ کا لحاظ کیا
”تم اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ جانتے ہو“ کا مطلب یہ ہے کہ ایک پیغمبر اللہ کی ہدایت کو بتانے کے لیے آتا ہے ۔ باغبانی اور زراعت اور انجينئرنگ جیسے موضوعات کی تعلیم کے لیے نہیں پیغمبر اسلام کے بعد اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زندگی کی نجات کا طریقہ خدا کے کلام اور میری سنت سے معلوم کرو اور مادی علوم کو اپنے تجربات ومشاہدات اور سائنٹفک ریسرچ کے تابع رکھو۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اور مجھ کو جو (ہدایت) دے کر اللہ نے بھیجا ہے اس کی مثال اس آدمی کی مانند ہے جو ایک قوم کے پاس آیا۔
کہ اے میری قوم کے لوگو، میں نے ایک لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اور (اس خطرہ کے بارے) میں کھلا وارننگ دینے والا ہوں۔ پس تم لوگ اپنی حفاظت کرو، خود اپنی حفاظت کرو۔ کے کچھ لوگوں نے اس کی بات پر یقین کیا۔ وہ اندھیرے میں گھروں سے نکل کر (محفوظ جگہوں پر) چلے پس انھوں نے اپنے آپ کو بچالیا۔ لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے اس کو جھٹلایا۔ اور اپنے گھروں میں ٹھہرے رہے ۔ چنانچہ صبح صبح دشمن کے لشکر نے ان پر حملہ کر دیا اور انھیں ہلاک کر کے ان کو نیست و نابود یہی مثال ہے اس کی جس نے میری بات مان کر میری لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اور میری لائی ہوئی شریعت کا انکار کیا۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 7283 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2283)
تشریح: اس حدیث میں زندگی کی حقیقت کو ایک مثال کے ذریعے بتایا گیا ہے۔ ہر انسان جو زندہ ہے وہ ایک دن مرنے والا ہے اور اس کے بعد اس کو اپنے رب کے سامنے حساب وکتاب کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ یہ ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے جس سے ہر انسان دو چار ہے۔ پیغمبر اسی لیے آتا ہے کہ وہ اس سنگین خطرہ سے انسان کو آگاہ کرے ۔ پیغمبر اسلام کے بعد امت مسلمہ کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ نسل در نسل ہر زمانے کے لوگوں کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کرتی رہے۔ داری کی انجام دہی کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا مشتبہ ہے۔ اسی عمل کا نام دعوت الی اللہ ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اس شخص کی مانند ہے جس نے آگ جلائی ۔ جب آگ نے اپنے ارد گرد کا ماحول روشن کر دیا۔ تو پروانے اور پتنگے جو آگ میں گرا کرتے ہیں، اس میں گرنے لگے۔ اور وہ ان کو روکنے لگا۔ مگر وہ اس پر غالب آرہے ہیں اور آگ میں گرتے جارہے ہیں۔ اسی طرح میں تم لوگوں کی کمر پکڑ کر تم کو آگ میں گرنے سے روک رہا اور تم لوگ اس میں گرتے جارہے ہو۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت مگر اس کے آخر میں آپ نے فرمایا: میری اور تمھاری مثال ایسی ہے کہ میں تمھیں کمر سے پکڑ کر
آگ سے بچارہا ہوں۔ آگ سے نکل آؤ۔ مگر تم مجھ پر غالب آئے جاتے ہو اور اس میں گرتے جارہے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6483؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2284) تشریح: دنیا کی رونقیں اور لذتیں امتحان کے لیے ہیں۔ دعوت اصلاً ایک نظریاتی جدوجہد (ideological struggle) ہے۔ دعوت کا اصل نشانہ فریق ثانی کی سوچ کو بدلنا ہوتا ہے۔ پیغمبر یا پیغمبر کی نیابت میں داعی لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دنیا کے فریب سے اپنے آپ کو بچاؤ اور آخرت کی تیاری کرو۔ یعنی خالق کے بتائے ہوئے تخلیقی نقشہ کے مطابق کامیاب وہ ہے جو اس سے متنبہ ہو کر آخرت کے لیے عمل کرے اور ناکام وہ ہے جو اس انتباہ کو نظر انداز کر کے صرف دنیا میں مشغول رہے۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس ہدایت اور عمل کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بڑی بارش جیسی ہے جو زمین پر برسے۔ زمین کا جو حصہ زرخیز تھا اس نے بارش کا پانی قبول کر لیا اور پھر اس نے گھاس اور ہرا چارہ خوب اگایا اور زمین کا جو حصہ بنجر تھا اس نے بارش کا پانی روک لیا جس سے اللہ نے لوگوں کو نفع پہنچایا۔ پھر وہ پانی ان کے پینے اور ان کی کھیتی کے کام آیا۔ اور زمین کا ایک حصہ ڈھلوان تھا۔ پس اس نے نہ تو پانی کوروکا اور نہ اس نے گھاس اور چارہ اگایا۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اس کو اس چیز سے نفع پہنچا جس کو لے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ پھر اس نے اس کو جانا اور اس نے اس کی تعلیم دی اور (دوسری) مثال اس شخص کی بھی ہے جس نے اس کی طرف دیکھنے کے لیے سر نہیں اٹھایا اور اللہ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کیا جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 79؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2282)
تشریح: اس حدیث میں تشبیہ کی زبان میں فطرت کے اس قانون کو بتایا گیا ہے جس کو فیض بقدر استعداد کہا جاتا ہے۔ زمین کو بارش کا فائدہ اس کی زرخیزی کے بقدر ملتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی خدا کی ہدایت تمام انسانوں کے لیے عام ہے۔ پیغمبر یا پیغمبر کی نیابت میں داعی کے ذریعہ جب
حق کا اعلان کیا جاتا ہے تو اگر چہ یہ اعلان تمام انسانوں تک پہنچتا ہے مگر اس کا فائدہ ہر ایک کو اس کی اپنی صلاحیت قبولیت کے بقدر ملتا ہے۔ مگر جو شخص جتنی استعداد کا ثبوت دے گا اتناہی فائدہ اس کو حاصل اور سب سے بڑا فائدہ جو ہدایت الہی سے ملتا ہے، وہ معرفت ربانی ہے۔
ہر عورت اور مرد کے اندر سچائی کو پانے کا جذبہ چھپا ہوا ہے، سچائی ہر ایک کا سب سے بڑا مگر انسان اس دنیا میں افکار کے جنگل کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ اس بنا پر انسان کے اندر سچائی کو اختیار کرنے کا عمل (process) درست طور پر جاری نہیں ہو پاتا۔ ضرورت ہے کہ وہ اپنے اندر وہ فکری استعداد پیدا کرے جس کے ذریعے وہ حق اور غیر حق کے فرق کو جانے۔ وہ ناحق کو چھوڑتے ہوئے حق پر اپنی نظر جمائے رکھے۔ یہی وہ طریقہ ہے جو کسی انسان کے لیے سچائی سے فائدہ اٹھانے کا ضامن ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن (سورہ آل عمران) کی یہ آیات پڑھیں: وہی ہے جس نے تمھارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں بعض آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں فتنہ کی تلاش میں۔ حالاں کہ ان کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (3:7)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن کی آیات متشابہات کے پیچھے پڑ گئے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے۔ پس تم ان سے بچو۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4547؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2665)
تشریح: دین کی جن باتوں کا تعلق ہماری معلوم دنیا سے ہے، ان کو قرآن میں محکم یا صراحت کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ اپنے براہ راست اسلوب کی بنا پر سمجھنے والے کے لیے بالکل واضح اور جن باتوں کا تعلق نامعلوم دنیا سے ہے ان کو متشابہ یا تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔
اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ (2:229)۔ یعنی، طلاق دو بار ہے “ ایک ایسی آیت ہے جو محکم زبان میں ہے۔ طرح اِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَاباً مَّوْقُوتَاً (4:103)۔ یعنی، بیشک نماز اہل ایمان پر مقرر وقتوں کے ساتھ فرض ہے۔ یہ بھی محکم اسلوب کی ایک مثال ہے۔ ان دونوں آیتوں کے مفہوم کو ہم پوری طرح سمجھا سکتے ہیں۔
جہاں تک محکم آیتوں کا تعلق ہے، ایسی آیتیں انسان کے دائرہ علم سے تعلق رکھتی ہیں۔ تفصیلات جاننے کے لیے انسان مکمل تحقیق اور غور و فکر کر سکتا ہے۔ مگر جہاں تک متشابہات کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں طالبِ قرآن کو اجمالی مفہوم پر اکتفا کرنا چاہیے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بجا طور پر کہا ہے: أَبْهِمُوا مَا اَبْهَمَ اللهُ (الاصل لمحمد بن الحسن، جلد 10، صفحہ 182)۔ یعنی تم اُس چیز کو غیر واضح رہنے دو جس کو اللہ نے غیر واضح رکھا ہے۔
متشابہ اسلوب کی ایک مثال یہ آیت ہے: یَدَاهُ مَبْسُوْطَتَانِ (5:64)۔ یعنی، خدا کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ یہ غیب کی بات ہے۔ اللہ کا ہاتھ کیسا ہے، اُس کو جاننا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ مفہوم ہم صرف اجمالی زبان میں سمجھ سکتے ہیں۔ کلی اور حتمی طور پر اُس کا مفہوم اس دنیا میں سمجھ نہیں اس قسم کی باتوں کا حقیقی علم صرف اللہ کو ہے۔ انسان کے سامنے ان کو قابل فہم بنانے کے لیے انھیں تشبیہ و تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ ان تمثیلات پر مجمل انداز میں ایمان رکھنا تمثیل کی تفصیلات تلاش کرنا ایک غیر سنجیدہ فعل ہے جو ذہنی انتشار کے سوا آدمی کو کہیں اور نہیں یہی لوگ ہیں جن کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اصحابِ زیغ کہا گیا ہے، یعنی سچائی سے بھٹکنے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللهَ عز وجل فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوْهَا، وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوْهَا، وَحَدَّ حُدُوْداً فَلَا تَعْتَدُوْهَا، وَسَکَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا۔ (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 4396) یعنی، اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں کو فرض قرار دیا ہے، تو ان کو ترک نہ کرو، کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا تو ان کی خلاف ورزی نہ کرو، اور کچھ حدود قائم کیے تو اس سے آگے نہ بڑھو، اور کچھ چیزوں کے بارے میں اللہ نے خاموشی اختیار کی ہے بھولے بغیر، تو اس کے بارے میں چھان بین نہ کرو۔