8 جون 1986
Al-Risala, July 2024, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
7 جون 1986 کے اخبارات میں یہ خبر تھی کہ کنڑ زبان کے مشہور ادیب ڈاکٹر ماستی وینکٹیش آئنگر (Masti Venkatesha Iyengar) کا 95 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ڈاکٹر ماستی 6 جون 1891 کو پیدا ہوئے تھے۔ دوبارہ عین اسی تاریخ 6 جون 1986 کو اس دنیا سے چلے گئے۔ ڈاکٹر ماستی نے جہاں سے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا تھا، وہ دوبارہ وہیں پہنچ ہر آدمی اسی طرح پیچھے کی طرف لوٹتا ہے۔ اگرچہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کی وفات بھی عین اسی تاریخ کو ہو جس تاریخ کو ان کی پیدائش ہوئی تھی۔
ڈاکٹر محسن عثمانی اور جناب اسلم صاحب (آئی اے ایس) ملنے کے لیے تشریف لائے۔ مشترکہ طور پر کہا کہ الرسالہ میں تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ صرف مثبت طور پر اپنی بات پیش کرنی چاہیے۔ میں نے کہا کہ تنقید کو برا ماننا سراسر دور تنزل کی بات ہے۔ دور عروج میں کبھی تنقید کو برا نہیں مانا جاتا تھا۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں تنقید کا عام رواج تھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ تنقید کا کیا فائدہ میں نے کہا کہ تنقید ہی سے اعلیٰ انسان بنتے ہیں۔ ذہنی بیداری اور شعوری انقلاب کبھی تنقید کے بغیر نہیں آسکتا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن میں حکم ہے کہ نبی کا احترام کرو، نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو۔ نے کہا کہ نبی کا معاملہ ایک مستثنیٰ معاملہ ہے۔ نبی کے اوپر آپ علما کو قیاس نہیں کر سکتے۔ عثمانی صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی، حدیث نمبر (459)۔ یعنی، میری امت کے علما بنی اسرائیل کے انبیا کی مانند ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ علما ئے امت کا بھی اسی طرح احترام ہونا چاہیے، جس طرح انبیا کا کیا جاتا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ حدیث علما کے احترام کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ علما کی ذمہ داریوں کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کے علما وہ کام کریں گے جو بنی اسرائیل کے انبیا بنی اسرائیل کے بارے میں آیا ہے کہ ان کی رہنمائی برابر انبیا کرتے تھے : كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3455)۔ مگر پیغمبر اسلام کے بعد نبوت ختم ہو اس لیے یہاں انسانوں کی رہنمائی کے لیے پیغمبر نہیں آئیں گے، بلکہ علما کو وہ کام انجام دینا پڑے گا جس کام کو پہلے انبیا انجام دیتے تھے۔