Al-Risala · July 2024

ایک رجل سعید کا انتقال

Al-Risala, July 2024, pp. 46–48

By Maulana Wahiduddin Khan

معروف دینی ادارہ جامعہ دارالسلام عمر آباد (تمل ناڈو) کے جنرل سیکریٹری مولانا کا سا سعید احمد صاحب عمری (پیدائش 1936) کا 11 مئی 2024 کو انتقال ہو گیا۔ آپ کا تعلق ساؤتھ انڈیا کے ایک تجارتی خاندان سے تھا، آپ کے دادا کا محمد عمر (وفات (1927) نے جامعہ دار السلام قائم کیا تھا۔ ادارے کے تعلق سے مولانا وحید الدین خاں صاحب نے لکھا ہے کہ "جنوبی ہند میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جو جامعہ دار السلام، عمر آباد (تمل ناڈو) کے نام سے مشہور ہے۔ وہ ابتدائی طور پر 1924 میں قائم ہوا اور اب وہ ایک بڑا تعلیمی مرکز بن چکا ہے۔ وہ انڈیا کے چند بڑے اسلامی مدارس میں سے ایک ہے۔ اس ادارے کی دعوت پر جنوبی ہند کا سفر ہوا۔ " (ماہنامہ الرسالہ، اکتوبر 2010) مولانا کا سا سعید صاحب نے اسی ادارے سے اپنی دینی تعلیم مکمل کی۔ پھر وہ اپنے بھائی کا محمد عمر ثانی کی وفات (1988) کے بعد جامعہ کے جنرل سیکریٹری بنائے گئے۔ آپ کے زمانے میں جامعہ کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ آپ مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر نائب صدر اور کئی ملی تنظیموں کے ذمہ دار بھی رہے۔ آپ ملت کے ہر حلقہ اور ہر گروہ میں یکساں طور پر عزت و اعتماد کی نظر سے دیکھے

محترم سیکریٹری صاحب نے اپنے ادارے میں دینی نصاب کے ساتھ عصری نصاب کو بھی شامل کیا تاکہ طلبہ کو دینی بصیرت کے ساتھ زمانے کی بصیرت بھی حاصل ہو۔ اسی طرح آپ نے ماہنامہ راہ اعتدال (جاری کردہ 1991) کے ذریعے امت میں اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد و متفق رہنے کی ترغیب دی۔ جامعہ کے تحت چلنے والے ادارہ تقابل ادیان میں آپ انڈیا کے مشہور و معروف علما کو بلا کر دعوتی و علمی محاضرات کروایا کرتے تھے۔ اسی سلسلے کے تحت آپ نے مولانا وحید الدین خاں (وفات 2021) کو تین دن کے لیے جون 2010 میں جامعہ دارالسلام مدعو کیا تھا۔ یہ رودادِ سفر ماہنامہ الرسالہ اکتوبر 2010 کے خصوصی شمارے میں "جنوبی ہند کا سفر" کے عنوان سے شائع ہو چکی

اس سے پہلے بھی مولانا وحید الدین خاں صاحب کو جامعہ دارالسلام کی گولڈن جوبلی، اپریل 1977 میں مدعو کیا گیا تھا۔ جس میں مولانا نے ’’اسلامی انقلاب: تاریخ انسانی کے لیے نیا موڑ‘‘ کے عنوان سے ایک علمی وفکری مقالہ پڑھا۔ یہ مقالہ مولانا کی کتاب ،ظہورِ اسلام میں شامل ہے۔ محترم سکریٹری صاحب بڑے سادہ مزاج تھے۔ آپ کی سادہ مزاجی ایک واقعہ مولانا وحید الدین خاں صاحب نے اپنے سفر عمر آباد کا ایک تجربہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے، ”(ایک) مجلس کے دوران مولانا کا کا سعید احمد عمری میرے کمرے میں آئے۔ اس وقت وہاں کئی اساتذہ، دعاة اورادارۂ تقابل ادیان کے طلبا) بیٹھے ہوئے تھے، جوان کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ کا کا صاحب نے ان لوگوں کو سختی کے انداز میں کھڑے ہونے سے منع کیا اور کہا کہ آپ لوگ جیسے بیٹھے ہیں، اسی طرح بیٹھے رہیں، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد کا کا صاحب کا خاموشی کے ساتھ کمرے میں ایک طرف خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔ یہ منظر میں نے صرف جامعہ دارالسلام میں دیکھا۔

راقم الحروف نے انتہائی قریب سے محترم سکریٹری صاحب کا مشاہدہ کیا ہے۔ آپ کی شخصیت کی چند قابل نمونہ خصوصیات یہ تھیں: آپ بے حد سادہ مزاج، اور تکلفات سے خالی تھے، بولڈ فیصلہ لینا (bold decision)، ہر چھوٹی بڑی نعمت کی قدر کرنا، سنجیدگی و متانت اور وقت کی بے انتہا آپ نہ صرف اپنی تربیت و تزکیہ کے لیے کوشاں رہتے تھے، بلکہ اپنے ادارے کے افراد کی تربیت کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے تھے۔ آپ بہت ہی درد مندی کے ساتھ اس قسم کی باتیں دہرایا کرتے تھے— ربانی انسان بننا، انسانیت کے لیے خیر خواہ بننا، نارِ جہنم سے خود بھی بچنا اور برادرانِ وطن کو بھی بچانا، وغیرہ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دعوت و تبلیغ کے فیلڈ میں میرے آنے کا ایک محرک محترم سکریٹری جامعہ سے فراغت کے بعد میں روزگار کے لیے قطر چلا گیا ۔ اس دوران جناب سکریٹری صاحب قطر آئے اور دعوت کی اہمیت اور ہندوستان میں اس کے لیے سازگار ماحول کو بیان

کیا تو مجھے سمجھ میں آیا کہ دینی تعلیم کا اصل مقصد تو دعوت الی اللہ ہے، چنانچہ میں قطر سے انڈیا واپس آ گیا، اور محترم سیکریٹری صاحب کی مدد سے اس میدان میں لگ گیا۔

محترم سیکریٹری صاحب نے گزشتہ سال کے تقسیم اسناد کے سالانہ اجلاس (5 مارچ 2023) میں اپنے فارغین کو نصیحت کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا ان میں سے چند باتیں یہ ہیں ” فکری اختلاف کے باوجود دوسروں کو برداشت کیجیے۔ دوسروں سے حسن ظن رکھیے۔ اُن کی خدمات اور خوبیوں کا ہر حال میں دین کی خدمت ہو۔ یہی خلوص کی پہچان ہے۔ حقیقت پسندی کے ساتھ سوچیے تو ان حالات کے لیے ہم مسلمان بھی ذمے دار ہیں۔ اگر ہم نے اپنے اخلاق و کردار سے اسلام کی درست ترجمانی کی، اور اسلام کا پیغام برادران وطن تک پہنچانے کی کوشش کی تو، ان شاء اللہ، یہ اندھیرا چھٹ سکتا ہے۔ دعوت دین سراسر محبت اور ہمدردی کا کام ہے۔ کے ساتھ ہمیں برادران وطن کو اپنی محبت کا موضوع بنانا ہے۔ اپنی صالحیت اور صلاحیت ، دونوں کا معیار بلند کرنے کی فکر کیجیے تبھی آپ زمانے کے ساتھ چل سکیں گے ۔ “ (بحوالہ مولانا محمد رفیع کلوری عمری، مدیر مسئول ماہنامہ راہ اعتدال، عمر آباد) اس قسم کی نصیحتیں آپ ہمیشہ جامعہ کے فارغین کو کیا کرتے تھے۔

محترم سیکریٹری صاحب کی وفات ہمارے لیے یقیناً غم کا باعث ہے مگر اللہ تعالی کے منصوبہ تخلیق سے کسی کو استثنا حاصل نہیں، ہر ایک کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ تاہم قابل اطمینان بات یہ ہے کہ محترم سیکریٹری صاحب نے اپنے پیچھے نیک وارثین اور اپنے ادارے کے صالح فارغین کی بڑی تعداد کو چھوڑا ہے۔ پوری امید ہے کہ محترم سیکریٹری صاحب کے بعد ان سے فیض یافتہ یہ حضرات اس عربی شعر کے مصداق ثابت ہوں گے : إِذَا مَاتَ مِنَّا سَيِّدٌ قَامَ سَيِّدُ ( جب ہم میں سے ایک سردار وفات پا تا ہے تو دوسرا سردار کھڑا ہو جاتا ہے ) ۔ وہ محترم سیکریٹری صاحب کے بعد بھی ربانیت اور دعوت کے راستے پر قائم رہیں گے۔ اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ محترم سیکریٹری صاحب کی مغفرت کر کے جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے گا۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد)

Printed page