خدا کا قانون
Al-Risala, September 2024, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (وفات 101ھ) کو امت کے علما خلیفہ راشد خامس کا لقب دیتے انھوں نے ایک سنت الہی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اِنَّ اللهَ تبارک و تعالی لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِذَنْبِ الْخَاصَّةِ، وَلَكِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْكَرُ جِهَارًا، اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ كُلُّهُمْ (موطا امام مالک : 3636)۔ یعنی اللہ کچھ لوگوں کے گناہ پر سب لوگوں کو عذاب نہیں دیتا، لیکن جب گناہ کھلے طور پر کیا جانے لگے تو سارے ہی لوگ سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں۔
جب منکر (گناہ کا فعل) کھلے طور پر ہونے لگے تو یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سماج کے بقیہ لوگوں نے منکر کو روکنے کا کام ترک کر دیا ہے، وہ اس معاملے میں بے تعلق (indifferent) ہو گئے ہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ کے قانون کے مطابق، منکر میں مبتلا افراد اگر براہ راست طور پر اس میں شریک ہیں تو دوسرے لوگ بالواسطہ طور پر اس میں شریک ہیں۔ ایک گروہ اگر فعال طور پر (actively) جرم کا ارتکاب کر رہا ہے تو دوسرا گروہ منفعل طور پر (passively) جرم کے عمل میں شریک ہے۔ ارتکاب جرم کے اعتبار سے، دونوں کے درمیان صرف درجے کا فرق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ یہ اصول دراصل ان لوگوں کی ذمہ داری کو بتا رہا ہے، جو بظاہر ارتکاب جرم میں شریک نہیں ایسے لوگوں پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ جرم میں مبتلا لوگوں کو نصیحت کریں، وہ خیر خواہی کے انداز میں لوگوں کو جرم سے باز رکھنے کی کوشش کریں، وہ ہر مؤثر تدبیر کے ذریعے اصلاح حال کی جدوجہد کریں۔ وہ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں، وہ اپنی متحدہ کوشش کے ذریعہ ایسے حالات پیدا کریں جو مجرمين کی حوصلہ شکنی کرنے والے ہوں— اس مصلحانہ کوشش کو قرآن و حدیث میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہا گیا ہے۔ اس معاشرے میں کوئی خیر نہیں جس کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا یہ مصلحانہ عمل جاری نہ ہو۔ اس عمل کو آج کی زبان میں تنقید (criticism) کا نام دیا جا سکتا ہے۔