دورِ امن کی طرف
Al-Risala, September 2024, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اصحاب رسول کو ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا:
وَقَاتِلُوْهُمْ حَتَّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) ۔ یعنی ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔
قرآن کی اس آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں کہا گیا ہے کہ ”جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے“ اور دوسرے حصہ کے الفاظ یہ ہیں کہ ”دین سب اللہ کا ہو جائے“۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مطلوب کے لیے لڑنا ہوگا، اور اس کے بعد دوسرا مطلوب اپنے آپ حاصل ہو جائے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی تخلیق کے مطابق انسانی دنیا میں حالت فطری قائم تھی۔ اور حالت فطری امن کی حالت ہے۔ بعد کو دنیا میں مطلق العنان بادشاہوں (despotic kings) کا زمانہ آیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ حالت فطری کو ختم کر کے اس کی جگہ غیر فطری حالت قائم کر دی، یعنی جبر و تشدد کی حالت۔ یہ حالت اللہ کو منظور نہ تھی۔ اللہ نے اصحاب رسول کو حکم دیا کہ جن لوگوں نے انسانی دنیا میں خود ساختہ طور پر جبر و تشدد کی حالت قائم کر رکھی ہے، اس کو بزور ختم کر دو تا کہ دوبارہ انسانی دنیا میں حالت فطری قائم ہو جائے۔
قدیم زمانہ میں مذہبی تشدد (religious persecution) اسی جبر کی بنا پر قائم تھا۔ رسول نے اپنے زمانہ کے ارباب اقتدار سے جنگ کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں ایک نیا دور آ گیا۔ جنگ کے دور کے بجائے امن کا دور۔ تاریخ میں کوئی بڑا واقعہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ وہ تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں ابتدائی حالت سے شروع ہو کر تکمیل کی حالت تک پہنچتا تاریخ میں اس دور امن کا آغاز اہلِ اسلام نے کیا تھا۔ بعد کے زمانہ میں آزادی اور جمہوریت (freedom and democracy) کا جو دور آیا وہ اسی آغاز کا انتہا (culmination) ہے۔ اکیسویں صدی میں اب ہم اسی دور امن میں جی رہے ہیں۔ اب قرآن کے الفاظ میں دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو چکا ہے۔ یعنی یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پر امن طریقہ کار (peaceful method)
کو استعمال کرتے ہوئے ہر مقصد کو نارمل طریقے سے حاصل کر لیا جائے۔
اسلام ایک مشن ہے، توحید کا مشن۔ قدیم زمانہ میں اس مشن کو جاری کرنے کے لیے سخت رکاوٹیں پیش آئی تھیں۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ رکاوٹوں کے بغیر اسلام کے مشن کو جاری کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اسلام کا نام لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ جنگ اور تشدد کا طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ اپنے اس عمل سے یہ ثبوت دے رہے ہیں کہ دورِ جدید سے پوری طرح بے خبر (unaware) ہیں۔ کا کیس جہاد کا کیس نہیں ہے بلکہ بے خبری (unawareness) کا کیس ہے۔