خوشی کا راز
Al-Risala, September 2024, pp. 31–36
By Maulana Wahiduddin Khan
خوشی (happiness) کا راز کیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف رائیں ہیں۔ ایک آئی اے ایس افسر مسٹر اونیش سرن (AwanishSharan@) نے 21 مئی 2022 کو ایکس (سابق ٹویٹر) پر ایک حقیقی ویڈیو شیئر کی، جس سے خوشی کے راز کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اس خبر کو ہندوستان ٹائمس نے بھی اپنی ویب سائٹ پر 22 مئی 2022 کو اس عنوان کے تحت شائع کیا ہے — سیکنڈ ہینڈ سائیکل خریدنے کے بعد باپ اور بیٹے کا اظہارِ خوشی آپ کے دل کو مسرت اور رحم کے جذبے سے بھر دے گا: "Man and his son's reaction on buying a second-hand bicycle will melt your heart."
ویڈیو میں یہ دکھایا جا رہا ہے کہ ایک غریب آدمی سیکنڈ ہینڈ سائیکل خرید کر اپنی چھوٹی سی جھونپڑی کے پاس لاتا ہے، اور خوشی خوشی اس کی آرتی اتارتا ہے، اور اس کا کم عمر بیٹا بھی خوشی سے اچھلتا اور ناچتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ مسٹر اونیش سرن نے اس ویڈیو کے لیے یہ بامعنی کیپشن دیا ہے — یہ صرف ایک سیکنڈ ہینڈ بائیسکل ہے، مگر ان کے چہرے کی خوشی کو دیکھیے، گویا انھوں نے مرسیڈیز بینز خریدلی ہو: "It's just a second-hand bicycle. Look at the joy on their faces. Their expression says, they have bought a New Mercedes Benz."
اس خوشی کا راز کیا ہے۔ اس ویڈیو پر ونیت سود (VineetSood15@) نامی ایک صاحب نے بامعنی کیپشن لکھا ہے کہ "یہاں اصل چیز سائیکل یا کار نہیں، بلکہ وہ کتنا زیادہ قناعت کا جذبہ زندگی بہت آسان ہے، ہم انسان مادی حرص کے ذریعہ اپنی زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں": "The Issue is not a cycle or a car, but how contended they are. Life is very simple, but we burden it with
قناعت سادہ عمل نہیں۔ حرص خوشی کا قاتل ہے، اور قناعت خوشی کا دروازہ۔ اس سلسلے میں مولانا وحید الدین خاں کے الفاظ قابل غور ہیں کہ "قناعت کا جذبہ آدمی کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک پایا ہوا انسان ہے۔ اور جو آدمی اپنے آپ کو پایا ہوا انسان سمجھے وہ کبھی جھنجھلاہٹ اور منفی سوچ کا شکار نہیں ہوسکتا"۔ (ماخوذ، الرسالہ جون، (2016) ڈاکٹر فریدہ خانم
شرح مشكاة المصابيح (حدیث نمبر 157-152)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آواز سنیں جو قرآن کی ایک آیت میں اختلاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔ آپ کے چہرے پر غصے کے آثار تھے۔ آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ انھوں نے خدا کی کتاب میں اختلاف کیا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2666)۔ تشریح: مسند احمد کی روایت (نمبر 3724) میں ہے کہ ایک مرتبہ دو اصحاب رسول قرآن کی کسی آیت کو لے کر اختلاف کرنے لگے تو آپ نے اس کو ناپسند کیا اور کہا کہ تم دونوں ٹھیک پڑھ رہے ہو، آپس میں اختلاف نہ کرو (کِلا کُما مُحْسِنٌ فَلَا تَخْتَلِفُوا)۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں لازماً ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوں ۔ ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے کہ ہر انسان کو مسٹر ڈفرنس کہنا صحیح ہوگا۔ اس دنیا میں ہر سماج فرق و اختلاف والا سماج ہے۔ یہ فرق و اختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے، نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔ فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملے سے بھی ہے اور سیکولر معاملے سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام، مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طور پر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈفرنس مینجمنٹ کا آرٹ جانتے ہوں۔ فرق و اختلاف کو مٹانا نزاع پیدا کرتا ہے اور فرق و اختلاف کو مینج کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انسان سے قرآن میں تدبر مطلوب ہے (ص، 29: قرآن میں اختلاف
مطلوب نہیں ۔ تدبر یہ ہے کہ استفادے کی نیت سے قرآن کی آیتوں میں غور و فکر کیا جائے۔ برعکس، اختلاف یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں غیر ضروری بحثیں نکالی جائیں، اور رائے کے اختلاف (فرق) کو اختلافِ نزاع تک پہنچایا جائے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو لوگوں کے اوپر حرام نہیں کی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 7289، صحیح مسلم، حدیث نمبر (2358)
اس حدیث کی وضاحت قرآن کی ایک آیت سے ہوتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ (5:101) یعنی، اے ایمان والو، ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تم کو گراں گزریں۔ مذکورہ آیت اور حدیث کو ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سا سوال ہے جو اسلام میں ناپسند کیا گیا ہے۔ یعنی وہ سوال جس سے ایک انسان کے لیے آسانی کا راستہ کھلنے کے بجائے مشقت پیدا اس قسم کے غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیا گیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیا جائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کر کے اس کی حدود و قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس سے انسان مشکلوں میں پڑ جاتا ہے۔ آسان طریقہ وہ ہے جو مسئلے کو مسئلے تک محدود رکھے۔ مقابلے میں مشکل طریقہ وہ ہے جو اصل مسئلہ میں دوسرے مسئلے کا اضافہ کر دے۔ دین کی اصل روح اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اندرونی روح سرد پڑتی ہے تو ظواہر کا زور بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب غیر ضروری موشگافیاں کر کے نئے نئے مسائل بنائے پچھلے زمانے میں یہود کا یہی حال ہوا تھا۔ انھوں نے خدا کے دین کے نام پر ظاہری مسائل کی جکڑ بندیوں سے ایک خود ساختہ ڈھانچہ بنا لیا تھا اور اس کو خدا کا دین سمجھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان
کے سامنے دین کو اس کی فطری صورت میں پیش کیا۔ غیر ضروری پابندیوں کو ختم کر کے سادہ اور آسان دین کی طرف انسانوں کی رہنمائی فرمائی۔ یہی سادہ اور آسان دین اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں بہت سے جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے۔ وہ تم کو ایسی حدیثیں سنائیں گے جن کو نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمھارے باپ دادا نے سنا ہوگا۔ پس تم ان سے بچنا اور ان کو اپنے سے دور رکھنا۔ تا کہ وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنے میں نہ ڈالنے پائیں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 707)
دجال سے مراد خداع ہے (لسان العرب، جلد 11، صفحہ 237)۔ یعنی بہت بڑا دھوکہ دینے والا۔ معمولی دھات کے برتن پر سونے کا پانی چڑھا کر اس کو سونا ظاہر کیا جائے تو اس کو بھی دجل کہا جاتا یہ وہ لوگ ہیں جو انسانوں کے ساتھ غلط رہنمائی کا معاملہ کریں گے۔ چوں کہ غلط رہنمائی کا عمل وہ لوگ نہایت ہوشیاری کے انداز میں انجام دیں گے، اور عام انسان اس کی غلط رہنمائی کو صحیح رہنمائی سمجھ لیں گے، اس لیے ان کو حدیث میں دجال (The Great Deceiver) کہا گیا ہے۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں امت میں ایسے فریبی لوگ پیدا ہوں گے جو غیر دینی باتوں کو دینی بنا کر پیش کریں گے۔ ان کی باتیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے سراسر غیر اسلامی ہوں گی مگر موضوع حدیثوں اور غلط تفسیروں کے ذریعے وہ ان کو اس طرح خوش نما بنائیں گے کہ لوگ ان کو عین اسلام سمجھ کر ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ امت کی تاریخ میں شاید سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ اسی لیے اس کو دجالی فتنہ سے تعبیر کیا گیا۔ دجال کا فتنہ آئیڈیالوجی کا فتنہ ہے جو لوگ اس فتنہ میں مبتلا ہوں، ان کو دجالی فریب سے نکالنے کے لیے دوبارہ حجت یعنی عقلی استدلال کا طریقہ استعمال کرنا ہوگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب تو رات کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور عربی میں اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تردید۔ کہہ دو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتارا گیا ہے۔ حدیث نمبر 7542)
تشریح: حدیث کی یہ بات عام مسلمانوں کی نسبت سے ہے۔ عام مسلمان جو علمی تجزیے اور تحقیق کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں ان کو اس طرح کے معاملے میں ایسا ہی رویہ اختیار کرنا چاہیے مگر جہاں تک اہل علم کا تعلق ہے وہ دینی مقاصد کے تحت قدیم صحیفوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جس بات کو سنے اس کو بیان کرنے لگے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 505) تشریح: جھوٹ یہ ہے کہ آدمی ایک ایسی بات کہے جو واقعہ کے خلاف ہو۔ سنی ہوئی بات کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہی ہے۔ سننا بذات خود کوئی درست ذریعہ علم نہیں۔ کسی کے خلاف سنی ہوئی ایک بات اس وقت تک غیر معتبر ہے جب تک کہ وہ تحقیقی ذرائع سے ثابت نہ ہو جائے۔ ایسی حالت میں کسی کے خلاف ایک بری خبر کو سن کر اس کو بیان کرنا غیر مصدقہ بات کو دہرانا ہے۔ اور غیر مصدقہ بات اور خلاف واقعہ بات کے درمیان اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
اس حدیث رسول میں بات کے غیر مطلوب طریقے کو بیان کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بات کا مطلوب طریقہ کیا ہے۔ یہ مطلوب طریقہ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ الحجرات میں یہ اصول اس طرح بیان کیا گیا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (49:6)۔ یعنی، اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتاناپڑے۔
قرآن کی اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ بات کو سننے کے بعد اس کو اسی طرح بیان نہ کیا جائے، بلکہ پہلے اس کی تبین کی جائے۔ تبین کا مطلب مکمل تحقیق (thoroughly inquiry) بات کو سن کر اسی طرح لوگوں سے بیان کرنا، جھوٹے آدمی کی پہچان ہے، اور بات کو سننے کے بعد، اس کی مکمل تحقیق کرنا، سچے آدمی کی پہچان ہے۔
عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی اللہ نے اس کی امت میں بھیجا تو اس کی امت میں سے کچھ لوگ اس کے حواری ہوئے۔ ایسے اصحاب ہوئے جو رسول کی سنت کو لیتے تھے اور ان کے حکم کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ان کے ناخلف پیدا ہوئے، وہ ایسی بات کہتے تھے جس کو وہ خود نہ کرتے تھے ۔ اور وہ ایسے کام کرتے تھے جس کا انھیں حکم نہیں ملاتھا۔ پس جو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جہاد کرے وہ اور جو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنی زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے۔ اور جو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے دل سے جہاد کرے وہ مومن ہے۔ اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان کا کوئی درجہ نہیں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 50)
تشریح: اس حدیث میں ایک فطری قانون کا ذکر ہے جو ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش ہر نبی کی امت کی پہلی نسل ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو شعوری انقلاب کے تحت نبی کے ساتھی بنتے ہیں۔ مگر امت کی بعد کی نسلوں کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ لوگ شعوری انقلاب کے بغیر صرف پیدائشی تعلق کی بنا پر امت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بعد کے لوگوں میں وہ زندہ عقیدہ اور اعلیٰ کردار باقی نہیں رہتا جو امت کے ابتدائی لوگوں میں تھا۔
جب کوئی امت زوال کے اس دور میں پہنچ جائے تو اس وقت ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کو از سرِ نو زندہ ایمان پر کھڑا کیا جائے۔ یہ اصلاحی کام امت کے ان افراد کو کرنا ہوتا ہے جو دین کا گہرا علم رکھتے ہوں۔ ان افراد پر یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ احیاء اور اصلاح کے اس عمل میں اپنی ساری اگر وہ عملی اعتبار سے یہ جدوجہد کر سکتے ہیں تو وہ عملی اعتبار سے اس کی کوشش کریں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان پر فرض ہے کہ وہ زبان سے امر حق کا اعلان کریں۔ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو وہ امت کی اصلاح کے لیے تڑپیں اور اس کے لیے دعائیں کریں۔ اگر یہ تیسری چیز بھی نہ پائی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایمان کی آخری علامت بھی لوگوں میں باقی نہیں۔