Al-Risala · September 2024

ڈائری 1986

Al-Risala, September 2024, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کے دو عالم پاکستان گئے تھے۔ وہاں وہ تقریباً ڈیڑھ ماہ رہ کر واپس آئے ہیں۔ میں ان سے میری ملاقات ہوئی۔

گفتگو کے دوران پاکستان کی سیاست کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ اخبارات بظاہر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان میں اگر آزادانہ الیکشن ہوا تو بھٹو پارٹی جیت جائے گی۔ نے فوراً اس کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر اور بھٹو پارٹی کی مقبولیت دیہاتوں تک اگر الیکشن ہوا تو ممکن ہے وہ دیہاتوں میں جیت جائیں، مگر شہروں میں یہ لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

پاکستان سے واپس آنے والے صاحبان کا یہ تبصرہ بتاتا ہے کہ کسی ملک میں جانا اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آدمی وہاں کے حالات سے گہرائی کے ساتھ باخبر ہو جائے۔ مذکورہ دونوں عالم ایک ایسے ملک میں گئے جہاں مذہب کا فرق نہیں، جہاں کی سرکاری زبان اردو ہے۔ وہ وہاں کے کسی بھی شخص سے اپنی مادری زبان میں بات کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ پاکستان کی سیاست سے بے خبر رہے۔

میں نے ان صاحبان کو بتایا کہ پاکستان کی آبادی کا 80 فیصد حصہ دیہاتوں میں رہتا ہے اور 20 فیصد حصہ شہروں میں۔ اگر چہ مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ بھٹو پارٹی شہروں میں کامیاب نہیں ہوگی، تاہم اگر آپ کے بقول وہ صرف وہاں کے دیہاتوں میں کامیاب ہو، تب بھی وہ پاکستان کی 80 فیصد سیٹ پر قبضہ کر لے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی ملک کو جاننے کے لیے وہاں جانا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر تجزیاتی صلاحیت ہو۔ وہ مشاہدات سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکے۔

آج مالیگاؤں کے کئی آدمی ملنے کے لیے آئے۔ مالیگاؤں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور بیشتر لوگ پاور لوم کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہاں کا ہر آدمی کسی نہ کسی اعتبار سے پاور لوم کی انڈسٹری سے

گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ مالیگاؤں کی تجارت میں مسلمانوں کا کتنا حصہ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر تجارت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے بعد میں نے مزید سوالات شروع کیے تو معلوم ہوا کہ ان کا یہ جملہ واقعہ کے مطابق نہیں کہ مالیگاؤں کا زیادہ تر کاروبار مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ سوت کی سپلائی کا کاروبار زیادہ تر ہندو کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح تیار شدہ کپڑوں کو مارکیٹ میں لانے کا کام بھی ہندو کرتا ہے۔ لفظوں میں یہ کہ پاور لوم کاروبار کے دو سب سے بڑے حصے پر ہندو صاحبان کا قبضہ ہے۔ مرحلہ میں سوت فراہم کرنا، ثانیاً، آخری مرحلہ میں تیار شدہ سامان کو بازار میں لانا۔ سوت کی سپلائی اور تیار شدہ مال کی مارکیٹنگ یہ دونوں آڑھت والے کام ہیں۔

پورے شہر میں ان کے صرف چند ڈیلر ہوتے ہیں۔ جب کہ دوسرے کاموں میں ہزاروں لوگ مشغول رہتے ہیں اور ہر گلی اور ہر سڑک پر اس کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس بنا پر انہوں نے سمجھ لیا کہ مسلمان مالیگاؤں کے زیادہ تر تجارتی حصے پر قابض ہیں۔ حالانکہ جو لوگ بزنس کو سمجھتے ہیں، انہیںں معلوم ہے کہ پاور لوم کی انڈسٹری میں زیادہ بڑا حصہ (lion's share) انہی لوگوں کو ملتا ہے جو خام مال سپلائی کرتے ہوں اور تیار شدہ مال کی مارکیٹنگ کر رہے ہوں۔ آدمی کے اندر تجزیاتی ذہن نہ ہو تو وہ اپنے قدموں کے نیچے کے حالات سے ہمیشہ بے خبر رہے گا۔

Printed page