Al-Risala · September 2024

13 جون 1986

Al-Risala, September 2024, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا امیر اللہ قاسمی (محبوب نگر) نے بتایا کہ محبوب نگر کے ایک صاحب بنگلہ دیش گئے۔ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ وہاں گئے تھے۔ بنگلہ دیش میں اقتصادی ابتری کا حال دیکھ کر انہوں نے وہاں کے ایک تعلیم یافتہ شخص سے پوچھا کہ بنگلہ دیش کی آمدنی کا ذریعہ کیا ہے۔

شخص نے اس کا جواب دیا۔

اس نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جب سائیکلون آتا ہے تو ہم اس کی خبریں مبالغہ کے ساتھ شائع اتنے آدمی مر گئے۔ اتنی بستیاں بہہ گئیں۔ اتنے مویشی ہلاک ہو گئے، وغیرہ وغیرہ۔ خبروں کے بعد بیرونی ملکوں کا جذبہ ہمدردی بیدار ہوتا ہے اور وہ سامان اور رقم بھیجنا شروع کر دیتے بس یہی ہے ہمارا ذریعہ آمدنی۔

کیسی بری تھی تقسیم کی سیاست، جس نے برصغیر ہند میں رہنے والے مسلمانوں کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ انڈیا میں وہ کمزور اقلیت بن گئے۔ بنگلہ دیش میں وہ ایک غریب قوم بن گئے اور پاکستان میں وہ ایک ایسی قوم بن گئے جس کو کبھی سیاسی استحکام حاصل نہ ہوا۔

غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان واحد سب سے بڑا مسلم گروہ ہوتے۔ منقسم ہندوستان میں وہ تین کمزور گروہ بن کر رہ گئے۔ یہ تھی مسلمانوں کے قائدِ اعظم کی سیاست۔ اگر مسلمانوں نے کہیں قائدِ اصغر پیدا کیا ہوتا تو ان کا کیا انجام ہوتا؟

نظام الدین میں ہمارے مکان کے پاس ایک دومنزلہ عمارت ہے۔ اس کے مالک ایک ہندو مسٹر اپل (Mr. Uppal) ہیں۔ وہ اردو جانتے ہیں۔ چنانچہ وہ ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتاب ”اللہ اکبر“ لے گئے تھے۔ آج کل وہ اس کو پڑھ رہے ہیں۔

مسٹر اپل کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے بڑی عجیب کتاب لکھی ہے۔ میں اس کو بہت غور سے پڑھ رہا ہوں اور مجھ کو اس میں بڑا آنند مل رہا ہے۔ اسی طرح نظام الدین کے ایک اور ہندو مسٹر أول نے اس کتاب کی غیر معمولی تعریف کی۔ بھوپال کے مسٹر پریم نرائن گپتا کا خط آیا اس میں انہوں نے اپنے غیر معمولی تاثر کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کتاب کا ترجمہ ہندی زبان میں شائع ہونا چاہیے۔

ہندوستان کے مسلمانوں نے ہندوؤں کے سامنے اسلام پیش کرنے کا وہ طریقہ اختیار کیا، جس کو مناظرہ بازی کہا جاتا ہے۔ یعنی ہندو دھرم کو کنڈم کر کے اسلام کو پیش کرنا۔

”اللہ اکبر“ میں اسلام کی تعلیمات کو خالص فطری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ قاری کی فطرت کو اپیل کرتا ہے۔ مناظرہ کے طریقہ سے ہندوؤں کو اسلام سے چڑھ ہوتی تھی۔ ”اللہ اکبر“ والا طریقہ ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اسلام کے مثبت پیغام کو اس ملک کے ہندوؤں اور دوسری قوموں کے سامنے پیش کر سکیں۔

Printed page