Al-Risala · September 2024

15 جون 1986

Al-Risala, September 2024, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد اسلم صاحب ہوم منسٹری میں انڈر سکریٹری ہیں۔ آج کل وہ نمبر 44 پٹودی ہاؤس (نئی دہلی) میں رہتے ہیں۔ ان سے ان کے مکان پر ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی بھی ساتھ تھے۔ جناب اسلم صاحب نے بعض علما کی تحریریں دکھائیں، جن میں حجاج بن یوسف کو بہت برا بھلا کہا گیا تھا۔ کیوں کہ اس نے منجنیق کے ذریعے کعبہ پر پتھر پھینکے۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ حجاج بن یوسف عبد الملک کی طرف سے حجاز کا گورنر تھا۔ زمانے میں عبد اللہ بن زبیر نے عبد الملک کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی اور کعبہ کو مرکز بنا کر اپنی مخالفانہ تحریک چلانے لگے۔ اس وقت عبداللہ بن زبیر کو زیر کرنے کے لیے حجاج بن یوسف نے جو کارروائیاں کیں انہیں میں سے ایک بیت اللہ پر پتھر پھینکنا ہے۔

یہ عمل اگر غلط ہے تو اتناہی غلط سعودی حکومت کا وہ عمل ہے جب کہ 1979 میں شاہ خالد کے زمانہ میں باغیوں کو مغلوب کرنے کے لیے بیت اللہ کے اندر گولیاں چلائی گئیں اور مسلح فوج اس کے اندر داخل ہو گئی۔

ہمارے علما حجاج بن یوسف کے خلاف پر جوش طور پر لکھتے اور بولتے ہیں، مگر مجھے موجودہ زمانہ کا کوئی ایک بھی قابل ذکر عالم معلوم نہیں ہے جس نے شاہ خالد کی اس قسم کی کارروائی کے خلاف کوئی مذمتی بیان دیا ہو۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ بالا دونوں عمل بالکل یکساں قسم کے عمل ہیں۔ اگر وہ غلط ہیں تو

دونوں کے لیے غلط ہیں اور اگر وہ درست ہیں تو دونوں کے لیے درست ہیں۔ موجودہ زمانہ کے علما عام طور پر اس قسم کے تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ ایک معاملہ میں ایک شخص کی مذمت کریں گے اور ٹھیک اسی قسم کے معاملہ میں دوسرے کے بارے میں خاموش رہیں گے۔ میرا ذاتی مسلک یہ ہے کہ میں ایک کے معاملہ میں بھی خاموش رہتا ہوں اور دوسرے کے معاملہ میں بھی۔

Printed page