16 جون 1986
Al-Risala, September 2024, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ٹائمس (16 جون 1986) کے آخری صفحہ پر ایک خبر ہے۔ اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب میں وہاں کی ریلیجس مائنارٹی اور سیکولر میجورٹی کے درمیان ایک نئی نزاع کھڑی ہو گئی ہے۔ یہودیوں کا مذہبی طبقہ اس کے خلاف سخت احتجاج کر رہا ہے کہ عورتوں کی نیم عریاں تصویریں اشتہارات میں استعمال کی جائیں۔ تل ابیب میں ایسے بہت سے اشتہارات پر سیاہی پھیری گئی یا ان کے بورڈ جلائے گئے جن میں عورتوں کو نہانے کے لباس میں دکھایا گیا اخبار کی رپورٹ کا ایک پیراگراف یہ ہے:
"We do not believe in violence, but the secular people have declared war on us. We will return war for war, a war to end all wars. Rabbi Avraham Salomon, a leader of the ultraorthodox sect Eda Haredit, told the Associated Press in an interview."
ہم تشدد میں یقین نہیں رکھتے۔ مگر سیکولر لوگوں نے ہمارے خلاف ایک جنگ چھیڑ دی ہے۔ جنگ کا جواب جنگ سے دیں گے۔ ایک جنگ جو تمام جنگوں کو ختم کرنے کے لیے ہوگی۔ یہودیوں کے ایک کٹر مذہبی لیڈر نے کہی۔
یہ واقعہ جو اسرائیل میں ہوا، اسی قسم کے واقعات مختلف اسلامی ملکوں میں بھی ہو چکے ہیں اور خود ہندوستان میں بھی ہوتے ہیں۔ ان کو کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اسلامی نظام کا علَمبردار اگر عریاں اشتہارات پر سیاہی پھیرنا یا ان کو جلانا پھونکنا کوئی دینی فعل ہے تو عین یہی فعل یہودیوں کا مذہبی طبقہ بھی اسرائیل میں کر رہا ہے۔ کیا نام نہاد اسلام پسند طبقہ اس معاملہ میں یہودیوں کو بھی وہی کریڈٹ دینا پسند کرے گا جس کو اس نے اپنے مفاخر کی فہرست میں درج کر رکھا ہے۔