ایک انٹرویو
Al-Risala, September 2024, pp. 42–50
By Maulana Wahiduddin Khan
(زیر نظر انٹرویو مولانا وحید الدین خاں صاحب سے ستمبر 1991 میں "زندگی" لاہور کے نمائندہ اصغر عبداللہ نے لیا تھا۔ ماہنامہ تذکیر لاہور کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) سوال: مولانا قارئین "زندگی" کو اپنے سفر زندگی کا احوال سنائیں۔
جواب: میں 1925 میں اعظم گڑھ میں پیدا ہوا۔ ہمارا گھرانہ مذہبی گھرانہ تھا۔ ابتدائی تعلیم ایک دینی مدرسے میں حاصل کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد تلاش حق کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے یکسوئی سے مطالعہ شروع کر دیا۔ جس سے اسلام پر از سر نو میرا یقین بحال ہوا۔ یہ یقین مدرسے میں حاصل نہ مطالعے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اسلام کو عصر حاضر میں علم جدید کا چیلنج درپیش ہے اور دور حاضر میں جسے دعوت اسلام کا کام کرنا ہے، اس کے لیے علم جدید پر عبور حاصل کرنا لازم ہے۔ میں، میں نے عربی زبان پڑھی تھی۔ اب انگریزی زبان سیکھنے کا شوق ہوا۔ قریب قریب 20 سال میرے اوپر ایسے گزرے کہ میں نے انگریزی کے سوا کچھ نہ پڑھا۔ انگریزی میں ہی غرق رہا۔ طرح جدید علوم تک میری رسائی ہوئی۔ "اسلام اور عصر حاضر" میرا خصوصی موضوع بن گیا۔ سوال: اس کے علاوہ آپ نے کن کن موضوعات کو مطالعے کا ہدف بنایا؟
جواب: جو کچھ ملا، پڑھ لیا۔ کسی ایک مضمون پر توجہ مرکوز نہیں کی۔ مثلاً میں نے یہ طے کیا کہ انگریزی اخبار ہی پڑھوں گا۔ ابتدا میں کچھ سمجھ میں آتا، کچھ نہ آتا۔ لیکن پھر رواں ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے لائبریریوں کا رخ کیا اور ان کو کھنگال ڈالا۔ کئی ایسی لائبریریاں بھی تھیں کہ کتابوں پر گرد جمی شاید میں نے ہی ان کو پہلی مرتبہ کھول کر پڑھا۔ فلسفہ، سائنس، معاشرت، معیشت جس موضوع پر جو کچھ ملا، پڑھ ڈالا۔
سوال: آپ نے دینی تعلیم کے علاوہ دوسری تعلیم کہاں حاصل کی؟
جواب: دینی تعلیم ہی میں نے باقاعدہ حاصل کی، اس کے علاوہ ذاتی مطالعہ کیا۔
سوال: جماعت اسلامی سے وابستگی کب اختیار کی؟
جواب: نو جوانی میں ہی جماعت اسلامی سے قربت پیدا ہوئی۔ بعد ازاں میں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ تقریباً پندرہ برس اس جماعت سے وابستہ رہا۔ 1957 کے لگ بھگ مجھے جماعت اسلامی سے فکری اختلاف پیدا ہوا۔ میں نے مطالعہ جاری رکھا، جماعت اسلامی کے ذمہ دار اصحاب سے باتیں کیں، اصحاب علم سے خط و کتابت کی۔ رفتہ رفتہ مجھ پر جماعت اسلامی کے فکر کی غلطی واضح ہوتی گئی۔ میں نے مناسب سمجھا کہ اب مجھے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لینی جماعت اسلامی کے ذمہ داران کا اصرار تھا کہ میں جماعت اسلامی سے تعلق منقطع نہ کوئی راضی نہ تھا کہ میں جماعت اسلامی چھوڑ دوں۔ لیکن میرے لیے ایسا ممکن نہ تھا۔ سوال: ایسا کیوں ممکن نہ ہوا؟
جواب: اس لیے کہ میری دیانت دارانہ رائے یہ تھی کہ جماعت اسلامی مولانا مودودی مرحوم کے فکر کی بنیاد پر اٹھی ہے اور تاریخی اسباب نے ان کے لٹریچر کو یہ حیثیت دے دی کہ اب وہی ارکان جماعت کی نظر میں جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح ہے۔ ایسی حالت میں ایک شخص اگر جماعت اسلامی کے اندر رہتے ہوئے دین کی ایسی تشریح کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے جو مولانا کے لٹریچر کے مطابق نہیں تو یہ دیانت کے خلاف ہے۔ جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم ان کے اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے ہے، کسی دوسرے کے نظریات کی تبلیغ کے لیے نہیں۔
سوال: لیکن جماعت اسلامی کے ذمہ داران نے تو آپ کو اجازت دے دی تھی کہ آپ اپنے اختلافات پر قائم رہتے ہوئے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر کام کر سکتے ہیں؟ جواب: جماعت اسلامی کے اندر رہ کر کام کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ جماعت مولانا مودودی کے لٹریچر کے بارے میں یہ طے کر دیتی کہ وہ جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح نہیں، میں نے امیر جماعت اسلامی ہند کو یہ تجویز پیش بھی کی، جو ان کو قبول نہ تھی۔ ظاہر ہے، اس کے بعد میرے لیے ایک ہی راہ باقی رہ گئی کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کو کہنے کے لیے جماعت
اسلامی کے دائرے سے باہر نکل آؤں۔ سو میں نے یہ کہا اور میں اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہوں۔ سوال: جماعت اسلامی کے فکر سے آپ کو بنیادی اختلاف کیا تھا؟
جواب: دیکھیے، مولانا مودودی مرحوم کی غلطی عام غلطیوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کیا کہ دین، عقیدہ اور عمل کے جس مجموعہ کا نام ہے، اس میں کمی بیشی کی ہو۔ وہ سارے دین کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس مجموعہ کے مختلف اجزا کی واقعی حیثیت ان کی تشریح میں بدل گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان سے متاثر اذہان بظاہر سب کچھ مانتے ہیں، لیکن سب کچھ کو وہ اس طرح نہیں مانتے جس طرح کہ انہیں ماننا چاہیے۔
قرآن وحدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل چیز خدا سے تعلق پیدا کرنا اور آخرت کے عذاب سے ڈرنا اس کو ہمیں اپنانا ہے اور اسی کی طرف ہمیں اہل دنیا کو بلانا ہے۔ لیکن اس فکر نے آخرت اور تعلق باللہ کے پہلو کو محض تربیت کی ضرورت بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس کی تشریح کے خانے میں یہ چیزیں ایسی حیثیت اختیار کی گئی ہیں۔ گویا یہ کارکن تیار کرنے کی تربیت گاہیں ہیں، نہ کہ یہی وہ اصل بات ہے جس کے لیے ہمیں متحرک ہونا ہے۔ مولانا مودودی مرحوم کے خیال میں اصل مسئلہ دنیا میں انقلاب برپا کرنے آخرت کا خوف اور اس طرح کی دوسری چیزیں اس لیے ہیں تاکہ جو لوگ انقلاب عالم کا یہ پروگرام لے کر اٹھیں یا انقلاب کے بعد نظام دنیا کو سنبھالیں ان میں مقصد کی لگن اور کردار پیدا ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جماعت اسلامی کے لوگ آخرت کی کامیابی کے بجائے دنیا میں کامیاب ہونے کو اپنا حقیقی مقصد بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا حقیقی مقصد تو بلاشبہ آخرت ہی کی کامیابی ہے، لیکن آخرت کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دنیا میں کیا کرنا ہے، اس کے متعلق ان کا تصور غلط ہو گیا ایک شخص اگر یہ نظریہ قائم کرلے کہ دنیا کی مادی قوتوں کی تسخیر آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے اور یہ سوچ کر وہ اس کے لیے کام کرنا شروع کر دے تو اس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ اصل مقصد کی حیثیت سے تو بے شک اس نے آخرت میں خدا کی رضا ہی کو سامنے رکھا ہے مگر اس رضا کو حاصل کرنے کی صورت کیا ہو؟ دوسرے لفظوں میں دنیا میں ہم کیا پانے کی کوشش کریں، تاکہ
آخرت میں ہم خدا کو پاسکیں؟ اس کے متعلق جماعت اسلامی کا تصور بدل گیا ہے۔
اس تشریح کا نتیجہ یہ ہے کہ تعلق باللہ اور آخرت وغیرہ کی باتیں اگرچہ جماعت اسلامی کے پروگرام میں شامل ہیں، لیکن اس کے افراد میں وہ اپنا حقیقی مقام حاصل نہ کرسکیں۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ میں خوف خدا اور فکر آخرت کے حوالے سے جو بات کرتا ہوں اس کو اس تعبیر سے متاثر ذہن رد نہیں کرتا۔ کو دلچسپی سے پڑھتا اور سنتا ہے، لیکن لٹریچر نے اس کا جو ذہنی سانچہ بنادیا ہے اس کی وجہ سے اس قسم کی باتیں اس کے اندر صحیح شکل میں نہیں بیٹھتیں۔ وہ بس تربیت کے خانے میں چلی جاتی ہیں۔ دین اور فطرت میں کامل مطابقت ہے، اس لیے اگر فطرت میں ذراسی کجی آجائے تو دین اس کے اندر ٹھیک ٹھیک بیٹھ نہیں سکتا۔ لہٰذا سننے اور پڑھنے کے باوجود اس طرح کی باتوں کا واقعی اثر نہیں ہوتا۔ وجہ تھی کہ مجھے فیصلہ کرنا پڑا کہ محض مثبت طور پر اپنی بات کہتے رہنا بے سود ہے۔ اب ضروری ہے کہ سابقہ تعبیر پر براہ راست تنقید کر کے پہلے اس کا غلط ہونا ثابت کیا جائے۔ سو میں نے یہ کیا۔ سوال: آپ نے اس مسئلے پر مولانا مودودی مرحوم سے خط و کتابت بھی کی تھی؟
جواب: دسمبر 1961 میں، میں نے اپنی تحریر کی ایک نقل تیار کر کے ان کے نام روانہ کی۔ یہ ان تک پہنچ نہ سکی۔ اس کے بعد میں نے پھر ایک نقل 10 مئی 1962 کو دستی طور پر لاہور روانہ کی اور یہ درخواست کی کہ وہ اس کا جواب مرحمت فرمائیں۔ لیکن انہوں نے جواب نہ دیا۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کا رویہ شاید انہوں نے میرے ساتھ ہی اختیار کیا، ورنہ بالعموم وہ ہر ایک کو جواب دے دیا کرتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ میرا جواب نہ دیا بلکہ طرح طرح کے فقرے بھی مجھ پر ایک مرتبہ انہوں نے لکھا کہ آپ اپنی تحریر کے ہر صفحہ کے ساتھ ایک خالی صفحہ منسلک کر دیں۔ میں نے ایسا کر دیا۔ لیکن جواب ندارد۔ البتہ ایک کاغذ پر انہوں نے کچھ لکھا ہوا تھا، لیکن پھر اس کو مٹا ڈالا گیا تھا۔ اب چونکہ یہاں ان کی نیت کا مسئلہ آجاتا ہے اور میرا طریقہ یہ ہے کہ میں نیت پر بات نہیں کرتا کہ نیت کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔
لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ میرے لیے ایک بہت بڑا حادثہ تھا۔ میں نے اپنے
ساتھیوں سے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوتی اگر مولانا مودودی میرا ذہن بدل دیں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ مولانا مودودی نے اگر میری تحریر کا جواب نہ دیا صرف اتنا ہی کر دیا کہ تحریر کے کسی ایک حصہ کو لے کر اسے غلط ثابت کر دیا تو اس سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ میں متزلزل ہو جاؤں گا۔ لیکن افسوس کہ میری یہ امید بھی پوری نہ ہوئی۔ بہر حال میرا خیال ہے کہ مولانا مودودی نے ایک مخدوش راہ کا انتخاب یہ ان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری تھی کہ وہ میرے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے۔ سوال: مولانا مودودی مرحوم سے کبھی آپ کی براہ راست ملاقات ہوئی؟
جواب: میری ان سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ شاید 1971 کے لگ بھگ کی بات ہے۔ ملاقاتیں مولانا کے گھر 5 اے ذیلدار پارک میں ہوئیں۔ ایک ملاقات عصر اور مغرب کے درمیان دوسری ملاقات تنہائی میں ہوئی، جس میں طویل بات چیت بھی ہوئی۔
سوال: کن موضوعات پر گفتگو ہوئی؟ "تعبیر کی غلطی" پر بھی تبادلہ خیال ہوا؟ جواب: یہ میرا اور ان کا معاملہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب اس طرح کی ملاقات سے کسی کو کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ اس لیے اس کو رہنے ہی دیجیے۔
سوال: مولانا ابوالکلام آزاد نے حزب اللہ قائم کی، مولانا مودودی مرحوم نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی اور اب ڈاکٹر اسرار احمد تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے اسلامی انقلاب کی جدوجہد کر رہے لیکن نہ صرف یہ کہ اس طرح کی جماعتوں کے معاشرے پر کوئی قابل ذکر اثرات نظر نہیں آتے، بلکہ ان تحریکوں نے جو اہداف (target) مقرر کیے بظاہر وہ بھی حاصل نہیں ہو سکے۔ کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
جواب: اس کی وجہ بڑی واضح ہے۔ اگر آپ کو گھر بنانا ہے تو پہلے ہی مرحلہ پر آپ اس کی چھت نہیں اٹھا سکتے۔ اگر ایسا کریں گے تو قیامت تک گھر نہیں بن سکے گا۔ پہلے آپ کو اس کی بنیاد رکھنی ہوگی، پھر ستون تعمیر ہوں گے، پھر اس کے بعد چھت ڈالی جائے گی۔ اخباروں میں ایک اصطلاح ہے الٹا بہرام (Inverted Pyramid)۔ مطلب یہ کہ ایک شخص نے مال روڈ (لاہور) پر گولی سے ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ خبریہ ہوگی کہ ایک آدمی گولی سے ہلاک ہو گیا۔ اب یہ واقعہ کی آخری
صورت ہے، لیکن قبل ازیں گولی مارنے والے آدمی نے منصوبہ بنایا، بندوق حاصل کی، گولی حاصل کی، موٹر سائیکل حاصل کی۔ تو اس طرح یہ پورا ایک قصہ ہے۔ اب اخبار میں تو اتنی سی خبر آ جاتی ہے کہ ایک آدمی گولی سے ہلاک ہو گیا۔ اخبار کے صفحہ پر تو الٹا بہرام بن سکتا ہے، لیکن زندگی میں نہیں بن جن لوگوں کا آپ نے ذکر کیا انہوں نے زندگی میں الٹا بہرام بنانے کی کوشش کی۔ اسی طرح پاکستان میں یہ کہا جاتا ہے کہ بھارتی کلچر ہم پر حملہ آور ہے اور یہ کہ ہمیں اس کو روکنا ہے، لیکن کیا وہ رک گیا۔ بھارتی فلمیں آپ کے گھر گھر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ حکومت کا اختیار نا کام ہو گیا ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس لیے کہ معاشرہ اور فرد تیار نہیں۔ مولانا آزاد سے لے کر ڈاکٹر اسرار تک کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں جس نے حقیقی معنوں میں ”تعمیر فرد“ کا کام کیا ہو، اور ان الٹے کاموں کو چھوڑ دیا ہو جو تعمیر فرد کے کام کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مثلاً آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بیٹا ڈاکٹر بنے، لیکن آپ اس سے دادا گیری بھی کروا رہے ہیں، تو ایسا ہو نہیں سکتا کہ وہ دادا گیری بھی کرے اور ڈاکٹر بھی بنے۔ ڈاکٹر بننے کے لیے دادا گیری ترک کرنی پڑے گی۔ میرے خیال میں ان تحریکوں کی نا کامی کی وجہ یہ ہے کہ ان تحریکوں نے اس کام کو اپنا ہدف قرار دے دیا جو دین کا ہدف نہیں، اس طرح ان کی تمام جدوجہد ’عملاً‘ بے ہدف ہو کر رہ گئی۔ اس تیر نیم کش کی طرح جس کا کوئی ہدف نہ ہو۔ ہر والدین کو فطری طور پر اپنی اولاد سے غیر معمولی محبت ہوتی ہے۔ اس محبت کا بہترین استعمال یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو آداب زندگی سکھائیں ۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر انسان بنا کر دنیا کے کارزار میں داخل کریں ۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی محبت کا استعمال زیادہ تر اس طرح کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ بچہ جو چاہے وہ اس کے لیے حاضر کر دیا جائے، یہی بچہ کے لیے محبت کا سب سے زیادہ بڑا استعمال ہے، مگر یہ بچوں کے حق میں خیر خواہی ان کے حق میں خیر خواہی یہ ہے کہ بچہ جب بالکل چھوٹا ہو اسی وقت سے اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے تاکہ یہ چیزیں عادت بن کر اس کی زندگی میں داخل ہو جائیں ۔ اس تعلیم و تربیت کے تین خاص پہلو ہیں: دین، اخلاق اور ڈسپلن۔
سوال و جواب قرآن میں یہ دعا آئی ہے: رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (10:85) ۔ ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ اسی طرح سورہ الممتحنہ میں ہے: رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا (60:5) ۔ یعنی، اے ہمارے رب، ہم کو منکروں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ ان دونوں آیتوں میں ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا کا مطلب کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے ذریعے اہل ایمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ کسی بھی اعتبار سے غیر اہل حق کو فتنہ اٹھانے کا موقع نہ دیں۔ ایک مفسر نے اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: لا تجعلنا سببا لزيادة طغيانهم (تفسیر مظہری ، جلد 5، صفحہ 50)۔ یعنی اے رب ہم کو سبب نہ بنا ان کی سرکشی میں اضافہ کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی طرف سے کوئی ایسا غلط اقدام نہ کریں، جس سے کسی کو یہ جواز (justification) ملے کہ وہ ہمارے اوپر ظلم کرے، وہ ہم کو دین پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے سے روکے۔
اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمی حالات میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا، جو اس حد تک پہنچا کہ اللہ کے دین کو عمومی اعتراف (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا۔ اب اپنے اور غیر (we and they) کا فرق مٹ گیا ہے۔ موجودہ دور میں کچھ لوگ اگر مومنین ہیں تو بقیہ لوگ مؤیدین (supporters) ہیں ۔ اس طرح اہل ایمان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی حقیقی رکاوٹ کے بغیر اللہ کے دین پر عمل کریں، اور اس کو سارے عالم میں پہنچائیں۔
اب دنیا کا مل مذہبی آزادی کے دور میں ہے۔ اب اسلام کی دعوت کے لیے دوسری قوموں کی طرف سے کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں۔ موجودہ زمانے میں اگر کوئی شخص یا گروہ حقیقی معنوں میں پر امن
طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے اپنے دین پر عمل کرتا ہے، اور اس کو دوسروں تک حکمت کے ساتھ پہنچاتا ہے تو اس کو ہرگز کسی سے کسی قسم کے جبر یا تشدد کا سامنا پیش نہیں آئے گا۔ اب اگر رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے تو صرف اس وقت جب کہ مسلمان خود اپنے کسی غیر حکیمانہ عمل کی بنا پر لوگوں کو غیر ضروری طور پر اپنا مخالف بنالیں۔ وہ ’’آبیل مجھے مار‘‘ کا طریقہ اختیار کر کے دوسروں کے اندر ایسا ردعمل (reaction) پیدا کریں کہ جو ان کے لیے عملاً موافق اقوام بنے ہوئے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر ان کے مخالف بن جائیں۔
عذاب قبر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2308)۔ آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ اگر کوئی اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کا راستہ آسان تر ہے، اور جو کوئی اس میں بچ نہ سکا، تو اس کے لیے بعد کا راستہ سخت مشکل ہے۔ قبر دوسری زندگی کا دروازہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی شخص کے لیے اس دروازہ کو کھلتے ہوئے اور پھر اس کے اوپر بند ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ خود ان کے لیے بھی یہ دروازہ کھولا جائے گا، اور پھر اسی طرح بند ہوگا، جس طرح وہ دوسروں کے اوپر ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔
اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قبر میں کس طرح کی پکڑ ہوگی یا کس طرح کا انعام دیا جائے گا۔ عذاب خواہ کم ہو یا زیادہ، عذاب انسان کے لیے تکلیف ہی ہے۔ اس لیے اصل فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ایک انسان یہ سوچے کہ اس نے قبر کے لیے کیسی تیاری کی ہے۔ مرتبہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ نے اس
کو قیامت کا وقت بتانے کے بجائے یہ پوچھا تھا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے : وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3688 ) ۔ یہی سوال یہاں بھی انسان کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اگر قبر یا قیامت کے تعلق سے فکر مند ہے تو اس نے وہاں کی گرفت سے بچنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے۔