Al-Risala · January 2024

سپریم چیز

Al-Risala, January 2024, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ انسان کے لیے سپریم چیز کیا ہے۔ میں اپنے تجربے کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ کسی انسان کے لیے سپریم چیز ذہنی اطمینان (peace of mind) ہے، کسی انسان کے لیے سپریم چیز نہ مال ودولت ہے، نہ شہرت (fame) ہے اور نہ طاقت ہے، اور نہ عوامی مقبولیت (popularity)۔ کسی انسان کے لیے سپریم یافت وہی چیز ہوسکتی ہے جو اس کو فل فل مینٹ (fulfillment) دے۔ اور تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پیس آف مائنڈ کے سوا کوئی اور چیز انسان کو فل فل مینٹ نہیں دیتی۔ پیس آف مائنڈ کی یہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیس آف مائنڈ انسان کی نیچر کے مطابق ہے۔ انسان اپنے نیچر کے مطابق یہ چاہتا ہے کہ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو مطمئن بنا سکے ۔ مگر کسی انسان کو اطمینان صرف داخلی کامیابی (achievement) پر ہوسکتا ہے خارجی کامیابی پر نہیں۔ اسی داخلی یافت کا دوسرا نام انٹلکچول ڈیولپمنٹ یا اسپرپچول ڈیولپمنٹ ہے۔ امریکی دولت مند بل گیٹس (Bill Gates) نے ڈالر کے بارے میں اپنے تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا: “Once you get beyond million dollars, it is the same hamburger.”

بل گیٹس نے جو بات ڈالر کے بارے میں کہی ہے، وہی بات ہر خارجی کامیابی کے لیے درست ہے۔ یہ خارجی کامیابی خواہ دولت ہو، یا بزنس ہو، یا شہرت ہو، یا سوشل میڈیا پر فالورز کی کثرت ہو، یا پولیٹیکل پاور ہو، یا اور کوئی مادی چیز ہو۔ اس قسم کی کوئی بھی چیز انسان کو حقیقی معنی میں ذہنی اطمینان عطا نہیں کرتی ہے۔ مادی طور پر کامیابی حاصل کرنے کے باوجود بھی انسان خود کو ذہنی طور پر بے سکونی کی حالت میں پاتا ہے۔ مثلاً امریکا کے بل گیٹس (Bill Gates) کے لیے اس کی دولت تسکین کا ذریعہ نہیں بنی تو اس نے اپنی دولت کا بڑا حصہ چیریٹی میں دے دیا۔ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کو وائٹ ہاؤس میں پہنچ کر سکون نہیں ملا۔ چنانچہ اس نے وائٹ ہاؤس کو کویا آب ریشم (cocoon) بتایا، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے معیار پسند (perfectionist) ہے۔

جب کہ موجودہ دنیا ہر اعتبار سے غیر معیاری (imperfect) ہے۔ اس صورتِ حال نے انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک تضاد پیدا کر دیا ہے۔ اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی انسان ہر قسم کے دنیوی سامان کو حاصل کرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا۔ دنیا کی ہر چیز اس کو اپنے ذہنی معیار سے کم تر معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے وہ ان کو پا کر بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ بظاہر راحت کے سامان کے درمیان بھی وہ ہمیشہ ایک قسم کے غیر شعوری عدم اطمینان میں مبتلا رہتا ہے۔ فطرت کا یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ دنیوی راحت کے سامانوں میں ذہنی سکون تلاش کرنا ایک ایسا بے سود عمل ہے جو کبھی کار آمد بننے والا ہی نہیں۔ اس مسئلہ کا واحد ممکن حل وہی ہے، جس کو دین میں قناعت (contentment) کہا گیا ہے۔ حدیث میں مومن کی مثال مسافر سے دی گئی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6416)۔ مسافر کا معاملہ کیا ہے، وہ اپنے آپ کو سفر کی حالت میں سمجھتا ہے، اس لیے وہ تنگی اور پریشانی کے باوجود سفر کے وقت، یا سواری میں بیٹھ کر اطمینان کے ساتھ اپنا سفر طے کرتا ہے۔ اسی حقیقت پسندانہ سوچ کا نام قناعت (contentment) ہے۔ صورتِ موجودہ پر دل سے راضی ہو جائے۔

دنیا میں جب بھی کوئی شخص صحیح اصول کے مطابق کمانے کی کوشش کرے تو وہ ضرور اتنی معاش حاصل کر لیتا ہے جو اس کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو۔ اگر وہ اس ملے ہوئے پر راضی ہو جائے تو اس کا فائدہ اس کو ذہنی سکون کی صورت میں ملے گا۔ لیکن سکون ہمیشہ قناعت سے ملتا ہے اور قناعت کا مطلب ہے ملے ہوئے پر راضی ہو جانا۔

صحابی رسول سعد بن ابی وقاص نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے میرے بیٹے، جب تم مال طلب کرو تو اس کو قناعت کے ساتھ طلب کرو۔ کیوں کہ جس کے اندر قناعت نہ ہو مال اس کے لیے کافی نہیں ہو سکتا : قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصِ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ! إِذَا طَلَبْتَ الْغِنَى، فَاطْلُبْهُ بِالْقَنَاعَةِ؛ فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ قَنَاعَةٌ لَمْ يُغْنِهِ مَالٌ (تاریخ دمشق لابن عساكر، جلد 20، صفحه 363)۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کُنْ قَنِعًا، تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4217)۔ یعنی، قناعت کرنے والے بنو، تم سب سے زیادہ شکر کرنے والے بن جاؤ گے۔ شکر گزاری کا جذبہ انسان کے اندر پیس آف مائنڈ پیدا کرتا ہے۔

Printed page