احتساب
Al-Risala, November 2024, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
19 جنوری 1989 میں کشمیر کے دو صاحبان ملاقات کے لیے آئے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے جن لوگوں کو اپنا لیڈر بنایا، وہ سب کے سب مقرر تھے، ان میں کوئی بھی شخص مدبر نہ تھا۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر طرف ناکام اور برباد نظر آتے ہیں۔ قوموں کی رہنمائی کے لیے مدبر شخص چاہیے، مقرر شخص کبھی قوم کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم قیادت موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ ناکام قیادت ثابت ہوئی ہے۔
اس کی وجہ اس کی یہ غلطی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مستقبل کو تعمیر کے میدان میں تلاش کرنے کے بجائے سیاست کے میدان میں تلاش کیا۔ سیاست بازی کا مطلب ہے، اپنے مسائل کے حل کے لیے دوسروں کے خلاف مہم چلانا۔ جب کہ تعمیر یہ ہے کہ اپنے مسائل کے لیے خود اپنے اوپر عمل کیا جائے۔
کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ قوم کو اس حیثیت سے تیار کیا جائے کہ لوگ ایمان اور اخلاق کے
اعتبار سے مضبوط ہوں، وہ تعلیمی اعتبار سے آگے ہوں، ان میں باہم اتحاد ہو، اقتصادی شعبوں میں انھوں نے اپنی جگہ بنائی ہو۔ سماجی بہبود کے ادارے ان کے درمیان چل رہے ہوں۔ وہ زمانے کو پہچانیں اور اس کے مطابق کام کرنا جانتے ہوں ۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے اندر یہ شعور ابھارا جائے کہ وہ اعلیٰ سوچ والے انسان بنیں۔ انھیں چیزوں کے اوپر کسی قوم کی ترقی کا دارومدار ہے۔ نے دوسروں کے خلاف سیاسی ہنگامہ آرائی تو خوب کی، خود اپنی تعمیر کے لیے کوئی کام نہ کیا۔ مزید نادانی یہ ہے کہ سیاست بازی سے جب وہ کامیاب نہ ہو سکے تو اب انھوں نے دوسرا مشغلہ یہ اختیار کیا ہے کہ اپنی ناکامی کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ۔ حالانکہ اس قسم کی باتوں سے وہ، قرآن کے مطابق، صرف یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ انھوں نے کلمہ طیبہ کا درخت نہیں اگایا تھا، بلکہ کلمہ خبیثہ کا درخت اگایا تھا۔ کیونکہ کلمہ طیبہ کے درخت کے لیے خدا کا اعلان ہے کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہیں سکتا: أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) ۔ یعنی، کلمہ طیبہ کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اس کے برعکس، اللہ تعالی کے قانون فطرت کے مطابق، یہ انجام صرف کلمہ خبیثہ کے درخت کے لیے مقدر ہے کہ جو چاہے ہاتھ بڑھا کر اس کو اکھاڑ لے۔ قرآن کے الفاظ میں، کلمہ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کوئی ثبات نہیں: اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَار (14:26) ۔