Al-Risala · November 2024

بے صبری نہیں

Al-Risala, November 2024, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیثِ رسول یہ ہے: الْأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ (جامع الترمذی ، حدیث یعنی عدمِ عجلت اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ۔ روایت میں ہے: وَإِذَا اسْتَعْجَلْتَ أَخْطَأْتَ ، أَوْ كِدْتَ تُخْطِئ (السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر یعنی، اگر تم نے جلد بازی کی تو غلطی کا ارتکاب کیا، یا یہ امکان ہے کہ تم غلطی کرجاؤ۔ انسانی عمل کے دو طریقے ہیں ــــ ایک ہے عجلت کا انداز، اور دوسرا ہے توقف کا انداز۔ بتاتا ہے کہ جو کام سوچ سمجھ کر کیا جائے، اس میں نقصان کا اندیشہ کم رہتا ہے۔ اس کے برعکس، جس کام کو بغیر سوچے سمجھے اور منصوبہ بندی کے بغیر کیا جائے اس میں نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ فطری حقیقت کا اعلان ٹریفک سیفٹی کے حوالے سے شاہراہوں پر جگہ جگہ کیا جاتا ہے ــــ تیز رفتاری سے انسان کو تھرل ملتا ہے، مگر وہ انسان کی جان لے لیتا ہے:

Printed page