Shameful Aggression
Al-Risala, January 2024, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
اس اداریہ کا آغاز ان الفاظ میں کیا گیا تھا:
“Shock, anger, disgust and alarm. These words sum up the reaction of much of the world to the naked and unprovoked attack the United State launched on Libya.”
ہزار سال پہلے اس قسم کا واقعہ سیاسی دنیا میں معمول کا ایک واقعہ تھا۔ اس وقت اس قسم کے واقعہ پر نہ کوئی رد عمل ظاہر کیا جاتا تھا اور نہ آج کل کی طرح پریس کے ذرائع تھے کہ منٹوں میں اس کی خبر ساری دنیا میں پھیل جائے اور لوگوں کے بیانات چھپ کر ہر جگہ پہنچ جائیں۔ یہ زمانہ کا فرق ہے۔ اس فرق نے موجودہ زمانہ میں اسلام کی دعوت کے لیے ایسا نیا امکان کھول دیا ہے جو اس سے پہلے کبھی دنیا میں موجود نہ تھا۔ مسلمان اگر اشتعال انگیزی سے بچیں تو وہ جارحیت کے اندیشے کے بغیر ساری دنیا میں اسلام کی دعوت پھیلا سکتے ہیں۔ (2004 میں رونالڈ ریگن کا اور 2011 میں کرنل معمر قذافی کا انتقال ہو چکا ہے۔
لیبیا پر امریکہ کا حملہ آج کل اخبارات کے صفحہ اول کی خبر بنا ہوا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی
اخبار ٹائمز آف انڈیا (18 اپریل 1986) کے صفحہ اول کی پہلی خبر کی سرخی یہ تھی: “Soviet warship takes up position in the Gulf of Sidra.”
سویت روس کے سمندری جنگی جہازوں نے خلیج سدرہ میں پوزیشن لے لی۔
یہ خبر بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم ممالک کسی کی حمایت کے بل پر زندہ ہیں۔ آج ان کی اپنی ذاتی کوئی قوت نہیں۔ وہ صرف اس لیے زندہ ہیں کہ مغرب کی بڑی طاقتیں اپنی قوت کے ذریعہ ان کی سرپرستی کرتی ہیں۔ لیبیا کا سرپرست روس ہے، سعودی عرب کا سرپرست امریکہ۔ طرح دوسرے مسلم ممالک۔
قرآن مجید میں یہود کے بارے میں آیا ہے کہ انہیں کبھی مستقل قوت حاصل نہ ہوگی۔ وہ یا تو اللہ کی رسی کے ساتھ رہیں گے یا لوگوں کی رسی کے ساتھ (3:112)- ”اللہ کی رسی“ سے مراد یہاں اسلامی حکومت ہے اور ”لوگوں کی رسی“ سے مراد غیر مسلم اقوام کی حکومت۔ یہود کے بارے میں یہ قرآنی پیشین گوئی مسلسل صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ان کی حکومت (اسرائیل) امریکہ کی سرپرستی کے بل پر زندہ ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال بھی موجودہ زمانہ میں اس سے مختلف نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم ممالک اپنی کوئی ذاتی قوت نہیں رکھتے۔ وہ سب کسی نہ کسی غیر مسلم بڑی طاقت کی حمایت کے تحت زندہ ہیں۔ کوئی ملک روس کی حمایت کے تحت زندہ ہے اور کوئی امریکہ کی حمایت کے تحت۔