Al-Risala · November 2024

مایوس نہیں، ری پلاننگ

Al-Risala, November 2024, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوْا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ (39:53)۔ کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوسی نہ ہو۔ اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔

اس آیت کا مطلب صرف عدم قنوط نہیں ہے۔ بلکہ اس آیت میں ری پلاننگ کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنھوں نے پہلے چانس کو کھو دیا، ان کے لیے اللہ کے یہاں دوسرا چانس موجود وہ ری پلاننگ کر کے خود کو دوبارہ کامیاب بنا سکتے ہیں۔ عدم قنوط ایک عقیدے کی بات ہے، لیکن ری پلاننگ کا مطلب نیا راہِ عمل اختیار کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ اگر کچھ غلطی ہو گئی تو اس کی بنا پر خود کو ہمیشہ کے لیے نا کام نہ سمجھ لو، بلکہ ری پلاننگ کر کے خود کو دوبارہ کامیاب بنا سکتے ہو۔

ری پلاننگ کا مطلب ہے پچھلے منصوبے میں تجربات کا اضافہ کرنا، اور نئی معلومات کی روشنی میں از سر نو اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ اس طریق کار کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ پہلے منصوبے میں جو مقصد حاصل نہ ہوا ہو، اس مقصد کو دوبارہ بہتر انداز میں منظم کر کے از سر نو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اصل یہ ہے کہ انسان ہمیشہ غلطی کرتا ہے۔ حدیث رسول ہے: كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2499)۔ یعنی ہر انسان غلطی کرنے والا ہے، اور سب سے اچھا غلطی کرنے والا وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کرے۔ یہ حدیث مذکورہ آیت کی شرح ہے۔ مطلب صرف زبانی طور پر لفظ تو بہ دہرانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ خود کو نا امیدی سے بچا کر اپنا محاسبہ کرے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان کے اندر صحیح سوچ جاگے گی ۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جائے گا کہ اس کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج (emerge) وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کرے گا، اور سچائی کے راستے پر از سر نو چلنے لگے گا۔

Printed page